پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مفاہمت میں اصل رکاوٹ کون؟

پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود پس پردہ رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، مگر نصف درجن سے زائد ملاقاتیں بھی اس بنیادی تعطل کو ختم نہ کرسکیں جو اسلام آباد کی طرف پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پیدا ہوا تھا۔ مختلف ذرائع کے مطابق ان رابطوں میں محاذ آرائی کم کرنے، سیاسی راستہ نکالنے اور بعض معاملات میں اعتماد سازی کے امکانات پر بات ہوئی، لیکن اصل اختلاف اس سوال پر برقرار رہا کہ پی ٹی آئی صرف مارچ کی تاریخ آگے بڑھائے گی یا احتجاجی مہم کو مکمل طور پر ختم کرے گی۔ یہی اختلاف بالآخر کسی فوری سیاسی سمجھوتے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اور سکیورٹی حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو یہ پیغام دیا گیا کہ سیاسی رابطے اور بعض معاملات میں سہولت کاری کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسلام آباد کی جانب مارچ، طویل دھرنے، سڑکوں کی بندش اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کی صورتحال قابل قبول نہیں ہوگی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا کہ احتجاج اس کا سیاسی اور آئینی حق ہے اور محض مارچ مؤخر کرنا اس کے بنیادی مطالبات کا حل نہیں۔ اسی وجہ سے مذاکرات میں اعتماد کا فقدان برقرار رہا۔

رپورٹس کے مطابق پس پردہ رابطوں میں ایک اہم نکتہ عمران خان سے متعلق معاملات بھی تھا۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی طبی سہولت، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات اور دیگر معاملات میں آسانی پیدا کرنے کے امکانات زیر بحث آئے، تاہم حکومت کی جانب سے کسی باقاعدہ سیاسی رعایت یا عمران خان کی رہائی کا وعدہ سامنے نہیں آیا۔ حکومت سے منسوب بعض ممکنہ اعتماد سازی کے اقدامات کی اطلاعات کی وزیر مملکت برائے داخلہ نے تردید بھی کی۔ اس لیے ان ملاقاتوں میں طے پانے والی باتوں کو حتمی معاہدہ سمجھنے کے بجائے مذاکراتی امکانات اور فریقین کے درمیان پیغامات کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط ہوگا۔

مارچ کو مکمل طور پر منسوخ کرنے یا صرف مؤخر کرنے کا فرق اس وقت مزید نمایاں ہوگیا جب حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ صرف تاریخ تبدیل کرنے سے سکیورٹی خدشات ختم نہیں ہوں گے۔ حکومت کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اگر ہزاروں افراد دوبارہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور راستے میں مختلف مقامات پر اجتماعات ہوتے ہیں تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوسکتی ہے۔ اسی دوران اسلام آباد اور پنجاب میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے، رینجرز تعینات کیے گئے اور مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے اندر بھی مارچ کی حکمت عملی پر بحث جاری رہی۔ 25 ستمبر کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے بالآخر 27 ستمبر کے مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر کیا، جبکہ پارٹی سے باہر اور اندر سے منسوب بعض ذرائع نے تیاریوں کی کمی، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، راستوں کی بندش اور دیگر انتظامی مشکلات کو بھی فیصلے کے عوامل میں شمار کیا۔

اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مارچ مؤخر ہونے کے بعد سیاسی رابطے کی گنجائش دوبارہ زیر بحث آگئی۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 26 ستمبر کو وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاملات بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں تو مذاکرات مارچ کے بعد کے بجائے پہلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج اور مذاکرات کو مکمل طور پر ایک دوسرے کی ضد بنانے کے بجائے دونوں راستے بیک وقت زیر بحث رکھنے کی کوشش موجود ہے۔

تاہم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اصل مسئلہ صرف ایک مارچ نہیں بلکہ اعتماد کا گہرا فقدان ہے۔ ایک طرف حکومت احتجاج، سڑکوں کی بندش اور طویل دھرنوں کو شہری زندگی اور امن و امان کے لیے مسئلہ قرار دیتی ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ احتجاجی دباؤ کے بغیر اس کے سیاسی مطالبات پر پیش رفت مشکل ہے۔ جب دونوں فریق اپنے اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو سیاسی نقصان سمجھیں تو پس پردہ ملاقاتیں بھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں مشکل کا شکار ہوجاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کی ملاقاتوں کا سب سے اہم نتیجہ شاید کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ دونوں فریق مکمل طور پر رابطے سے باہر بھی نہیں۔ پس پردہ رابطے جاری رہنے کی اطلاعات اور اب مذاکرات کی کھلی پیشکش اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سیاسی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ تاہم اس راستے کو مؤثر بنانے کے لیے دونوں جانب سے ایسے قابل عمل نکات درکار ہوں گے جن پر اتفاق کیا جاسکے، خصوصاً احتجاج کے طریقہ کار، سیاسی کارکنوں کے معاملات، عمران خان سے متعلق قانونی و طبی امور اور مستقبل کے سیاسی رابطوں کے حوالے سے۔

4 اکتوبر اب اس کشیدگی کا اگلا اہم مرحلہ ہے، لیکن موجودہ صورتحال کو صرف ایک مارچ یا ایک دن کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا آئندہ چند دنوں میں پس پردہ رابطے کسی واضح سیاسی فریم ورک میں تبدیل ہوتے ہیں یا ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر طاقت کے اظہار اور حکومتی انتظامی اقدامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اگر مذاکراتی راستہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے بنیادی مطالبات اور خدشات کو واضح، قابل عمل اور قانونی دائرے میں رکھنا ہوگا۔ بصورت دیگر تاریخ آگے بڑھنے کے باوجود سیاسی تعطل اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے۔

Back to top button