کنٹینرستان: اسلام آباد میں نیم لاک ڈاؤن کب تک برقرار رہے گا؟

اسلام آباد اس وقت ایک ایسے غیر معمولی منظرنامے سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی احتجاج کی تیاری میں کھڑے کیے گئے کنٹینر صرف سڑکوں کی رکاوٹ نہیں رہے بلکہ دارالحکومت کی سیاسی کشیدگی، انتظامی دباؤ اور بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات کی علامت بن چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا اسلام آباد لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا ہے، لیکن مارچ کی نئی تاریخ سامنے آنے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ دارالحکومت میں کھڑے کیے گئے سیکڑوں بلکہ ہزاروں کنٹینرز فوری طور پر ہٹائے جائیں گے یا انہیں آئندہ احتجاج تک برقرار رکھا جائے گا۔ یہی سوال اب اسلام آباد کے شہریوں، تاجروں، مسافروں اور مال بردار شعبے کے لیے سب سے اہم بن چکا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی روک تھام کے لیے 1,550 کنٹینر استعمال کیے گئے ہیں اور ان کا یومیہ کرایہ تقریباً 46.5 ملین روپے بتایا گیا ہے۔ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر ہونے کے بعد صرف کنٹینروں کا اضافی خرچ ہی کروڑوں روپے تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ پولیس اہلکاروں کی رہائش، خوراک، سفری سہولیات اور دیگر انتظامات کو شامل کیا جائے تو مجموعی سرکاری اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ احتجاج کی تاریخ مؤخر ہونے کے باوجود سکیورٹی کا پورا انتظام فوری طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے پہلے ہی اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک منظور کی تھی، جبکہ دارالحکومت تک پہنچنے والے متعدد راستوں پر رکاوٹیں اور سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کا بنیادی مقصد حکومت کے مطابق ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور شاہراہوں کی بندش سے شہری زندگی متاثر ہونے سے روکنا تھا، جبکہ پی ٹی آئی ان اقدامات کو اپنے سیاسی احتجاج کو روکنے کی کوشش قرار دیتی رہی ہے۔
لیکن کنٹینرز کی کہانی کا ایک دوسرا اور زیادہ پیچیدہ پہلو بھی ہے۔ یہ تمام کنٹینر خالی نہیں تھے اور نہ ہی ان کا تعلق صرف سکیورٹی انتظامات سے تھا۔ مال بردار تنظیموں کے مطابق پولیس نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تقریباً 2,700 گاڑیوں کو روک کر ان کے ڈرائیوروں اور عملے کو بھی اپنے پاس رکھا، جبکہ ان میں تقریباً 450 گاڑیاں ایسی تھیں جو ادویات، خوراک، کیمیکل اور دیگر سامان لے کر جارہی تھیں۔ بعض گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے موبائل فون، دستاویزات اور چابیاں بھی تحویل میں لیے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔
یہ صورتحال مال برداری کے نظام کے لیے ایک بڑا سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر ایک شہر کو احتجاج کے خدشے کے باعث طویل عرصے تک بند راستوں، کنٹینروں اور سکیورٹی ناکوں کے ذریعے محدود رکھا جائے تو اس کے اثرات صرف اسلام آباد تک نہیں رہتے۔ لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ملک کے دوسرے شہروں کے درمیان سامان کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، ٹرانسپورٹرز کے سفر کا وقت بڑھتا ہے، گاڑیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور کاروباری سرگرمی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مال بردار تنظیموں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جن کنٹینروں اور گاڑیوں کو سرکاری انتظامات کے لیے استعمال کیا گیا ہے، ان کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ آل پاکستان گڈز الائنس کے مطابق مختلف سائز کے کنٹینروں کے لیے یومیہ کرایے پر اختلاف موجود ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے بڑی تعداد میں گاڑیاں تحویل میں لیے جانے سے ٹرانسپورٹرز کو کاروباری نقصان کا سامنا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ احتجاج روکنے کی قیمت صرف سرکاری خزانے سے ادا نہیں ہوتی بلکہ نجی شعبہ اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد بھی اس کا حصہ بنتے ہیں۔
اسلام آباد میں کنٹینروں کا استعمال کوئی نئی حکمت عملی نہیں۔ سیاسی احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ کے دوران دارالحکومت کے داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے ماضی میں بھی کنٹینر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہر مرتبہ ان رکاوٹوں کا دورانیہ، تعداد اور معاشی قیمت بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس بار مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد ایک نیا سوال پیدا ہوگیا ہے کہ اگر احتجاج 4 اکتوبر کو ہونا ہے تو کیا پورے ایک ہفتے تک موجودہ سکیورٹی حصار برقرار رکھا جائے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو روزانہ کے اخراجات میں اضافہ جاری رہے گا اور اگر کنٹینر ہٹا دیے جاتے ہیں تو حکومت کو دوبارہ انہیں کھڑا کرنے کے لیے اضافی انتظامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کی وجوہات کے بارے میں بھی مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ پارٹی کا سرکاری مؤقف ہے کہ سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر نئی تاریخ مقرر کی، جبکہ بعض پارٹی ذرائع نے تیاریوں، ٹرانسپورٹ اور راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے مشینری کی عدم دستیابی کا ذکر کیا۔ بعض ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے تک سکیورٹی اخراجات میں الجھائے رکھنا پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ ان دعووں کی مختلف سیاسی تشریحات موجود ہیں اور انہیں حتمی وجہ کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔
دوسری جانب حکومت کے لیے بھی مسئلہ آسان نہیں۔ ایک طرف اسے دارالحکومت میں کسی ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا ہے، دوسری طرف طویل سکیورٹی انتظامات خود ایک مالی بوجھ بن رہے ہیں۔ صرف کنٹینروں کا روزانہ 46.5 ملین روپے کا تخمینہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی کشمکش کا ایک براہ راست مالی اثر بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں پولیس اہلکاروں کی رہائش، خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات الگ ہیں۔
یہاں بنیادی سوال شہریوں کا بھی ہے۔ اسلام آباد صرف پارلیمنٹ، ایوان صدر، وزارتوں اور سفارتی اداروں کا شہر نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا مرکز ہے۔ جب داخلی راستے بند ہوں، شاہراہوں پر کنٹینر کھڑے ہوں اور سفر کے معمول کے راستے محدود ہوجائیں تو سرکاری ملازمین، طلبہ، مریضوں، تاجروں، مزدوروں اور نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد سب متاثر ہوتے ہیں۔ سیاسی احتجاج جمہوری عمل کا حصہ ہوسکتا ہے اور ریاست کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے، لیکن دونوں مقاصد کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہی اصل انتظامی چیلنج ہے۔
اب سب کی نظریں 4 اکتوبر پر ہیں۔ اگر اس تاریخ کو پی ٹی آئی دوبارہ لانگ مارچ کا آغاز کرتی ہے تو حکومت کو ایک مرتبہ پھر سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے یا انہیں نئے سرے سے فعال کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر اس دوران مذاکرات آگے بڑھتے ہیں اور احتجاجی سرگرمی میں کمی آتی ہے تو کنٹینر ہٹانے اور معمولات بحال کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر سیاسی کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اسلام آباد کا موجودہ نیم لاک ڈاؤن مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
یوں ’’کنٹینرستان‘‘ محض ایک سیاسی طنز نہیں بلکہ پاکستان میں احتجاجی سیاست اور ریاستی ردعمل کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی ایک عملی تصویر بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کنٹینر کتنے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں کتنے دن تک کھڑا رکھا جائے گا، ان پر کتنا سرکاری اور نجی پیسہ خرچ ہوگا، مال برداری اور کاروبار کو کتنا نقصان پہنچے گا اور شہری معمولات کب مکمل طور پر بحال ہوں گے۔ 4 اکتوبر تک کا ایک ہفتہ اب صرف پی ٹی آئی اور حکومت کے لیے سیاسی مہلت نہیں بلکہ اسلام آباد کی معیشت، انتظامیہ اور شہری زندگی کے لیے بھی ایک مہنگا انتظار بن چکا ہے۔
