بھارت، کاکروچ پارٹی ایک بار پھر مودی سرکار کے گلے پڑ گئی

بھارت میں انتخابی نظام سے متعلق تنازع اب محض سیاسی بیانات یا پارلیمانی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ ووٹر فہرستوں، الیکشن کمیشن کی اندرونی کارکردگی، سڑکوں پر احتجاج اور آئندہ ریاستی انتخابات کے تناظر میں ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات عائد کر رہی ہیں، دوسری طرف الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اس کے اقدامات قانون کے مطابق ہیں اور ادارے کے اندر اختلافات کسی بھی ادارے میں ہونے والے معمول کے اختلافات کی نوعیت رکھتے ہیں۔

بحران کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب بھارتی اخبار کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات ریکارڈ کرائے۔ اعتراضات کا تعلق نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے، انتخابی اعداد و شمار تک رسائی اور خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے طریقۂ کار سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے بعض اقدامات کو غیر مجاز اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتخابی ڈیٹا کے انتظام اور نگرانی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ خصوصی جامع نظرثانی کا عمل جون 2025 میں بہار سے شروع ہوا اور بعد میں ملک کے بیشتر حصوں تک پھیلایا گیا۔ بھارتی اخبار کی تحقیق کے مطابق 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مسودہ انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ ان میں سے کتنے نام حقیقی طور پر غیر اہل یا منتقل ہوچکے ووٹروں کے تھے اور کتنے ایسے شہری تھے جنہیں دوبارہ اپنی انتخابی حیثیت ثابت کرنا پڑے گی۔ الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی 2026 کی خصوصی نظرثانی کے لیے ووٹروں کو اپنا نام تلاش کرنے، دستاویز جمع کرانے اور اعتراضات کے جواب دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیاں سیاسی طور پر غیر متوازن اثرات پیدا کر سکتی ہیں اور اس عمل سے غریب، مزدور، نقل مکانی کرنے والے شہری اور دیگر کمزور طبقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ الزامات ابھی سیاسی دعووں کی سطح پر ہیں اور ان کا حتمی فیصلہ کسی آزاد اور جامع جانچ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی درستگی اور قانونی طریقہ کار پر زور دیتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ادارے کے تمام اقدامات قانونی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں کو سیاسی فائدے سے جوڑ رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب خود الیکشن کمیشن نے بھی اس تنازع کے ایک اہم تکنیکی پہلو کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 26 ستمبر کو کمیشن نے اعلان کیا کہ ایک سینئر انتخابی عہدیدار کی سربراہی میں کمیٹی، جس میں ایک آزاد ٹیکنالوجی ماہر بھی شامل ہوگا، ووٹر فہرستوں سے متعلق سافٹ ویئر کا جائزہ لے گی تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ نظام انتخابی قوانین اور ضوابط کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ جن ووٹروں کے بارے میں تضادات سامنے آئے ہیں، ان سے متعلق تصدیق کے لیے مقامی اہلکار ان کے گھروں کا دورہ کریں گے، تاکہ ہر معاملے میں شہریوں کو سرکاری دفاتر میں حاضر ہونے کی ضرورت نہ پڑے۔

دوسری جانب یہ ادارہ جاتی تنازع اب سڑکوں پر بھی پہنچ چکا ہے۔ 25 ستمبر کو کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج مختلف ریاستی دارالحکومتوں تک پھیل گئے، جہاں پولیس نے بعض مقامات پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کو ’’ووٹ چوری‘‘ سے تعبیر کیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان الزامات کو سیاسی مہم قرار دیا ہے۔

اس احتجاجی ماحول میں ایک نوجوان سیاسی گروہ، کاکروچ جنتا پارٹی، بھی نمایاں ہوگیا ہے۔ اس کے بانی ابھیجیت دیپکے نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں 2 اکتوبر سے ممبئی سے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق یہ گروہ جولائی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر ہونے والے احتجاج کے بعد بھی نمایاں ہوا تھا، تاہم اس کی سیاسی حیثیت اور مستقبل کے اثرات کا اندازہ آئندہ احتجاج اور عوامی ردعمل سے ہی ہوگا۔

بھارت کے لیے اس تنازع کی اصل اہمیت آنے والے ریاستی انتخابات کے باعث مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگلے سال اتر پردیش اور گجرات سمیت کئی اہم ریاستوں میں انتخابات متوقع ہیں اور ان انتخابات سے پہلے ووٹر فہرستوں کی درستگی، انتخابی ادارے کی غیر جانب داری اور شہریوں کے ووٹ کے حق پر اعتماد براہ راست سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ اگر انتخابی فہرستوں سے متعلق اعتراضات شفاف طریقے سے دور نہ کیے گئے تو مسئلہ صرف اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہے گا بلکہ انتخابی ادارے پر عوامی اعتماد بھی اس بحث کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اگلے سال کے ریاستی انتخابات 2029 کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے سیاسی حمایت کے حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت میں انتخابی عمل کے بارے میں اعتراض اب پارلیمنٹ، عدالت، الیکشن کمیشن اور سڑکوں، چاروں سطحوں پر بیک وقت سامنے آ رہا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن ادارہ جاتی شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہے، دوسری طرف الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں کی صفائی اور درستگی کو ضروری قرار دیتا ہے، جبکہ اب سافٹ ویئر کے آزادانہ جائزے کا فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تنازع کے کم از کم ایک اہم تکنیکی پہلو کی باقاعدہ جانچ کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ اصل امتحان یہی ہوگا کہ کیا یہ جائزہ شفاف طریقے سے مکمل ہوتا ہے اور کیا حذف کیے گئے یا مشتبہ قرار دیے گئے ووٹروں کو بروقت مؤثر اپیل اور تصحیح کا موقع ملتا ہے۔

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کی ساکھ صرف ووٹنگ کے دن سے طے نہیں ہوتی بلکہ اس کا آغاز اس فہرست سے ہوتا ہے جس میں شہری کا نام موجود ہو۔ اسی لیے ووٹر فہرستوں کی تیاری، ناموں کے اخراج، نئے ووٹروں کے اندراج، ڈیٹا کے تحفظ اور الیکشن کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کا طریقہ کار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ تنازع میں سیاسی جماعتوں کے الزامات اپنی جگہ، لیکن حتمی اعتماد شفاف اعداد و شمار، قابلِ جانچ طریقۂ کار، مؤثر اپیل اور آزادانہ نگرانی سے ہی بحال ہوسکتا ہے۔ بھارت کا موجودہ انتخابی بحران اسی بنیادی سوال کے گرد گھوم رہا ہے کہ آنے والے انتخابات سے پہلے انتخابی نظام پر سیاسی اختلاف کو کس حد تک ادارہ جاتی شفافیت اور قابلِ تصدیق عمل کے ذریعے کم کیا جاسکے گا۔

Back to top button