فوج عمران کو ‘ایسیٹ’ کی بجائے ‘لائبلیٹی’ کیوں سمجھنے لگی؟

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی بجائے چین کے ساتھ ہر معاملے میں کھڑا ہونے کی پالیسی سے پاکستانی فوجی قیادت نے اختلاف ظاہر کر دیا ہے۔ پاک فوج کی قیادت مجموعی طور پر عمران خان کے ‘ہائپر نیشنل ازم’ کو ایک غیر موثر جنگ کے طور پر دیکھتی ہے، اور انہیں ‘ایسیٹ’ کے بجائے ‘لائبلیٹی’ کے طور پر دیکھنے لگی ہے۔

یہ دعویٰ معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کیا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کی فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ عمران خان کی جانب سے چین کو امریکہ کے متبادل کے طور پر اندھا دھند لینا غلط یے کیونکہ کامرس اور ٹریڈ کے معاملات میں چین کا طرز عمل دوستوں اور دشمنوں دونوں کے لیے ایک تاجر کا سا ہے۔

اخبار کے مطابق امریکہ، چین تنازعے میں شدت کے بعد پاک فوج کو بیجنگ کے حوالے سے بند گلی میں پھنس جانے کا خوف ہے۔ لہذا مختلف شعبوں، بشمول انسداد دہشتگردی اور تجارت، میں تعاون کے ذریعے فوج ان دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے توازن کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، تاکہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو بچایا جاسکے لیکن عمران خان کھلم کھلا چین کو امریکہ پر ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ برس ہا برس سے چین اور پاکستان کے رہنماؤں نے اپنے تعلقات کو شہد سے زیادہ میٹھا قرار دیا ہے لیکن امریکی عسکری ماہرین کے خیال میں سیاسی لیڈرشپ کے برعکس افواج پاکستان کا چین سے تعلقات کے حوالے سے زوایہ نگاہ اب بدلتا نظر آتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس جب وزیراعظم پاکستان نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے سمٹ فار ڈیموکریسی میں شرکت کی دعوت کو مسترد کیا، تو عسکری حلقوں نے اسے غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے یہ فیصلہ چین کی ایما پر کیا ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ اس فیصلے کے ساتھ وزیراعظم نے پاکستان کو چین کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔

یاد رہے کہ چین کی بجائے اس سمٹ میں تائیوان کو مدعو کیا گیا تھا، تب یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے تن تنہا یہ فیصلہ لیا ہے حالانکہ فوج یہی چاہتی تھی کہ پاکستان امریکی سمٹ میں شریک ہو تا کہ پاکستان کیساتھ سرد مہری کا مظاہرہ کرنے والی سپر پاور سے تعلقات پھر سے تازہ کیے جاسکیں۔

امریکیوں کا ماننا ہے کہ پاک فوج کے جنرلز جمہوریت کے حوالے سے امریکہ سے کچھ خاص انسیت نہیں رکھتے البتہ ان میں حقیقت پسندی کا ایک گہرا ادراک موجود ہے اور یہ غیرمتزلزل یقین بھی کہ فوج قومی مفادات کے تحفظ کی ضامن ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق پاکستانی فوجی لیڈرشپ اندرون یا بیرون ملک سیاسی قوتوں میں اپنے کوئی مستقل دوست نہیں رکھتی۔ جرنیل ہمیشہ حکمت عملی کے حساب سے حرکت کے اصول پر کاربند رہتے ہیں تاکہ بدلتے حالات میں اندرون اور بیرون ملک قوتوں میں توازن رکھا جا سکے اور کسی ایک سرپرست، پراکسی یا حمایتی پر مستقل انحصار سے بچا جاسکے۔

اس کے برعکس وزیراعظم عنران خان اپنے ذاتی احساسات کے تابع نظرآتے ہیں۔ وہ چین کے سیاسی نظام، غربت کے مقابل اس کی کامیابیوں اور کرپشن اور میڈیا کے خلاف بے رحم اقدامات کو سراہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک امریکہ مخالف عنصر بھی پایا جاتا ہے، جس سے ان کا چین کے دباؤ کو قبول کرنا سمجھ آتا ہے۔لیکن پاکستانی فوج بادی النظر میں ایسے بغض نہیں رکھتی۔ اس کی توجہ حال اور مستقبل پر مرکوز رہتی ہے، اعر مستقبل کے حوالے سے وہ اندیشے رکھتی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت سخت ناسازی کے عالم میں ہے، جو سماجی و سیاسی بے چینی کے ساتھ ساتھ فوجی اخراجات میں کمی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ چین کا ‘ہائی رسک’ ممالک کو قرضہ دینے سے بڑھتا ہوا احتراز بتاتا ہے کہ یہ پتے اب خشک ہورہے ہیں اور پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستانی فوجی کمانڈ مجموعی طور پر عمران خان کے ‘ ہائپر نیشنل ازم’ کو ایک غیر موثر جنگ کے طور پر دیکھتی ہے، اور فوجی لیڈر ان کو ‘ایسیٹ’ کے بجائے ‘لائبلیٹی’ کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

جاوید چوہدری نے آرمی چیف سے کیا انوکھا مطالبہ کر دیا؟

تاہم امریکہ کے عسکری ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ سے محور بنانے کی کوشش کے زیادہ دور تک جانے کے امکانات کم ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد امریکہ سے دوری کا اکیلا ہی ‘قصوروار’ نہیں بلکہ واشنگٹن نے بھارت کو کھلے دل سے گلے لگا کر اسے متبادل ڈھونڈنے پر مجبور کردیا ہے جبکہ نئی دہلی کی پیشقدمی حاکمانہ ہندو نیشنل ازم کی جانب جاری ہے۔

وقتاً فوقتاً واشنگٹن نے انسانی حقوق اور جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے بھارت کے ساتھ استثنٰی کا رویہ رکھ کر نئی دہلی کی حوصلہ افزائی کی اور اسلام آباد کو خطرے میں ڈال دیا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنے تعلقات روس اور ترکی سے تعلقات گہرے کیے ہیں، لیکن امریکی کے ہم پلہ متبادل کے طور پر چین ہی درست انتخاب کے طور پر سامنے آتا ہے لیکن اس طرح پاکستان کا چین پر انحصار بڑھ جاتا ہے، جو کو اسلام آباد کو اسلحہ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور مشترکہ ‘کریڈیٹر’ ہے۔ اور یہی صورتحال پاکستانی فوج کی اسٹریجک اعتبار سے بند گلی میں قید ہوجانے کی پریشانی کو دو چند کر دیتی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کو سمجھ آچکا ہے کہ تجارت اور قرضے کے حصول جیسے معاملات پر اس کی چین سے ‘خاص’ دوستی کچھ اتنی بھی ‘خاص’ نہیں۔ 2020 میں اسلام آباد نے بجلی کے ان مہنگے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت شروع کرنے کی کوشش کی تھی جو اس نے جلدبازی میں چینی کمپیز کے ساتھ طے کرلیے تھے۔ بیجنگ نے ایسا کرنے سے ناصرف انکار کیا، بلکہ اصرار کیا کہ اسلام آباد چینی پاور پروڈیوسرز کو واجب الادا 1.4 ارب ڈالر بھی واپس کرے۔

پاکستان نے اپنے تقریباً تمام ہی انڈے ایک ہی باسکٹ میں ڈال دیے اور اب چین کے ساتھ ‘حلیف’ ہونے کی حدود سمجھنے کے مرحلے میں ہے۔ اس کی یہ مشکل دوسرے چھوٹے ممالک کے لیے امریکہ – چین دشمنی کے نئے دور میں اپروچ کے حوالے سے اسباق رکھتی ہے، اور وہ یہ کہ چین کو امریکہ کے متبادل کے طور پر اندھا دھند نہ لیا جائے۔

امریکی اخبار کے مطابق کامرس اور ٹریڈ کے معاملات میں چین کا طرزعمل دوستوں اور دشمنوں دونوں کے لیے ایک تاجر کا سا ہے۔ اگرچہ پاکستانی فوج بظاہر خود کو عمران خان سے فاصلے پر کرتی نظر آتی ہے لیکن شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

Back to top button