سیاسی طوفان میں گھرے کپتان 18ویں ترمیم کے خلاف کیوں بولے؟

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد کپتان کی جانب سے اٹھارہویں آئینی ترمیم پر ہونے والی تنقید کو معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کہیں خان صاحب خود سے ناراض اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے کے لئے کوئی نیا کھیل تو شروع نہیں کرنے جا رہے۔
یاد رہے کہ 13 فروری 2022 کو سابق پاکستانی سفارت کاروں اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران وزیراعظم نے اپنے وعدوں کے مطابق اصلاحات نافذ نہ کرنے کا عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو قوانین بنانے میں اس لئے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے پاس پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے اور سینیٹ میں اپوزیشن کے اکثریت میں ہونے کے سبب قانون سازی کے عمل میں اکثر رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد فیصلہ سازی کے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کے لئے سوچنا ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں نہ صرف آرمی چیف اٹھارویں ترمیم کے خلاف گفتگو کر چکے ہیں بلکہ عمران خان بھی بارہا اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور شاید اب اس ترمیم کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کی جارہی ہو۔
تاہم آئینی و قانونی ماہرین کے نزدیک ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ آئین میں کسی بھی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے جو حکومت کے پاس نہیں ہے، دوسری بات یہ کہ چھوٹے صوبے کسی صورت اس مہم جوئی کے حق میں نہیں اور انکا موقف ہے کہ ایسی خسی کوشش سے وفاق پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ اٹھارویں ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے، اس ترمیم کا کریڈٹ سابق صدر آصف علی زرداری کو جاتا ہے جنہوں نے 18ویں ترمیم کے ذریعے اپنے تمام تر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کر دیے تھے اور یوں پاکستان صدارتی نظام سے دوبارہ پارلیمانی نظام میں داخل ہو گیا۔
دراصل آئین میں اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی نے جب کہ 15اپریل 2010 کو سینیٹ نے پاس کی تھی۔ تب آصف زرداری صدر تھے جنہوں نے 19اپریل 2010 میں ایوان صدر میں منعقدہ ایک تقریب میں اس دستاویز پر دستخط کر کے اسے آئین کا حصہ بنادیا۔ اٹھارویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایکزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیے تھے۔
چونکہ وزیر اعظم قائدِ ایوان ہوتا ہے لہٰذا زیادہ تر اختیارات وزیر اعظم کے پاس واپس آ گے۔ اس کے علاوہ وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دے دیے گئے۔ کنکرنٹ لسٹ کاخاتمہ کر کے متعدد وزارتیں صوبوں کے حوالے کی گئیں، جن میں تعلیم، صحت ماحولیات، بلدیات و دیہی ترقی ، ترقی نسواں، دیہی اینڈ لائیو اسٹاک، اقلیتیں، ثقافت، خوراک و زراعت، محنت و افرادی قوت، بہبود آبادی، سوشل ویلفیئر اور اسپیشل ایجوکیشن، کھیل، سیاحت، امور نوجوانان، زکوٰۃ و عشر شامل ہیں،
اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے دو مرتبہ سے زائد وزیراعظم بننے پر پابندی کا خاتمہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس ترمیم کے تحت 1973 کے آئین میں تقریبا 100 کے قریب تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آئین کے 83 آرٹیکلز پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اٹھارویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ اس ترمیم کے حق میں بھی دلائل کا انبار موجود ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ18ویں ترمیم نے ملک میں شراکتی وفاقیت کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ یہ ایک عظیم سیاسی اتفاق رائے کی مظہر ہے کیونکہ اس کی تشکیل میں تمام بڑی چھوٹی جماعتوں نے حصہ لیا اور اس عمل کو وقعت دی۔
محسن بیگ کی زخموں بھرے چہرے کے ساتھ عدالت میں پیشی
اس ترمیم نے مارشل لاء ادوار کی اچھی خاصی ترامیم کا خاتمہ کرکے پارلیمانی اختیارات کی اصل شکل میں بحالی اور صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا، یہ وفاق اور صوبوں کے درمیان صوبائی خود مختاری کے محاورے میں لکھا ہوا نیا معاہدہ ہے، یہی سب اختیارات کی امین ہیں۔ جیسے کہ مشترکہ مفادات کونسل، قومی اقتصادی کونسل اور قومی فنانش کمیشن میں اصلاحات، ججوں کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا قیام، الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پارلیمنٹ کے ذریعے تقرریاں، نگران حکومتوں اور انسانی حقوق کے اداروں میں پارلیمنٹ کے راستے تقرریاں۔
بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد کوئی ترمیم، ترمیم نہیں رہتی بلکہ وہ آئین کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس کے ذریعے آئین کے 100 سے زائد آرٹیکلز میں رد و بدل کیا گیا، اسی لیے اگر آج کوئی 18ویں ترمیم کے خلاف بات کرتا ہے تو درحقیقت وہ آئینِ پاکستان کے خلاف بات کر رہا ہے۔ اگر حکومت کے پاس کسی قانون کو مزید بہتر کرنے کی کوئی تجویز ہے تو پارلیمنٹ میں تمام جماعتیں اس پر غور و فکر کرسکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومتی اراکین ان شقوں کی نشاندہی کریں جس سے ان کے خیال میں امور مملکت چلانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
18 ویں ترمیم کے حامیوں کا موقف ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے معاملے پر یہ بحث کی جاسکتی ہے کہ کون سے اختیارات صوبوں کے پاس رہنے چاہییں اور کون سے ایسے اختیارات ہیں جو ضلعی حکومتوں کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو اختیارات صوبوں کو دس سال پہلے دیے گئے وہی واپس لے لیے جائیں۔
اُن کے مطابق تعلیم، صحت، قانون کی حکمرانی، ذراعت، صنعتیں، بلدیات، سماجی تحفظ، غذا، معدنیات اور اس طرح کے جو بھی سیکٹرز ہیں وہ آج سے نہیں بلکہ 1947 بلکہ 1935 کے آل انڈیا ایکٹ کے تحت صوبوں کے ماتحت ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم پر اب بھی تیس سے چالیس فی صد ہی عمل ہو سکا ہے۔ بعض پریشر گروپس اس ترمیم پر من و عن عمل کرنے سے کترا رہے ہیں اور ہر چند ماہ کے بعد اس طرح کے شوشے چھوڑ کر ایسی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں جس سے عدالتوں اور دیگر اداروں کو یہ تاثر جائے کہ اس سے وفاق شاید کمزور ہوا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ بیان کے بعد اٹھارویں آئینی ترمیم میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم اور پارلیمنٹ وہ ڈوریں ہیں جو فیڈریشن کو جوڑے رکھتی ہیں، 18ویں ترمیم کو واپس لینے کی کوئی بھی کوشش قوم پرستی کی انتہاپسند تحریکوں کو جنم دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان 18ویں ترمیم اور پارلیمنٹ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف پارٹی کے تبدیلی کے منشور کو نافذ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ پارلیمنٹ نے قانون سازی کو روکا تھا، حکومت نے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی بلز کو بطور سپلیمنٹری ایجنڈا لا کر اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے بلڈوز کیا۔ انہوں نے حکومت پر پاکستان کو نوآبادیاتی علاقہ بنانے کے غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کو حاکم بنانے کے تمام بل پاس ہو چکے ہیں لیکن عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی نہیں ہو سکی، اس کی وجہ 18 ویں ترمیم نہیں بلکہ ارادے کی کمی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے بھی وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزرا کی جانب سے 18ویں ترمیم پر تنقید کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ صرف اپنی نااہلی اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کبھی حکومت 18ویں ترمیم کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتی ہے اور کبھی ان کے وزرا صدارتی نطام کی حمایت میں بیانات جاری کرتے ہیں۔ احسن اقبال نے وزیر اعظم کو یاد دہانی کروائی کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ان کی پارٹی کے آدھے سے زیادہ ارکان نے 18ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا لہذا اس ترمیم کو ختم کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
