کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

تحریر: عامر خاکوانی

بشکریہ: وی نیوز

نیویارک ٹائمز امریکا کا بہت اہم اور مؤقر اخبار ہے، دنیا بھر میں اس کی خبروں، رپورٹوں اور کالموں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی بعض خبریں اور رپورٹیں غلط بھی نکلیں۔ خاص طور پر عراق پر امریکا حملے کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹنگ کمزور اور بے بنیاد ثابت ہوئی، اخبار نے بارہا لکھا کہ عراق تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنا رہا ہے مگر امریکی حملے کے بعد ایسا کچھ نہ ملا۔

نیویارک ٹائمز نے تب اپنے قارئین سے اعلانیہ معافی مانگی اور کہا کہ بعض جلاوطن عراقی سورسز پر انہوں نے غیر ضروری حد تک انحصآر کیا جس سےغلط اطلاعات شائع ہوئیں، اس پر قارئین سے معذرت طلب کرتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے کئی رپورٹر اپنی انویسٹی گیٹو رپورٹنگ پر امریکا کا سب سےبڑا صحافتی اعزاز پلٹرز ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ اس لیے اس میں چھپنے والی خبروں کو امریکا مخالف ممالک بھی اہمیت دیتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نیویارک ٹائمز کے آج کل شدید مخالف ہیں وہ اس کی خبروں کو جھوٹا اوربے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز ٹرمپ پر بے لاگ تنقید کرتا ہے اور ان کے متضاد بیانات کو دلائل سے رد کرتا ہے۔

اسی نیویارک ٹائمز نے 3 ماہ قبل جب ایران پر امریکا نے ابتدائی حملے کیے تھے، تب یہ خبر شائع کی کہ اسرائیل خفیہ ایجنسی موساد ایران کے سابق صدر محمود احمد نژاد کے ساتھ رابطے میں تھی اور رجیم چینج کے لیے وہ ایک آپشن تھے، مگر بوجوہ ایسا ممکن نہ ہوپایا۔

اس اسٹوری پر تب بھی خاصا شور مچا، بعض لوگوں نے شکوک کا اظہار بھی کیا۔ اس لیے بھی کہ احمدی نژاد جب ایرانی صدر تھے تو وہ اپنے سخت اسرائیل مخالف بیانات سے مشہور تھے، انہوں نے اعلانیہ ہالوکاسٹ کا انکار بھی کیا اور اس حوالے سےخاصے تندوتیز بیانات بھی دیے۔ کئی لوگوں کو حیرت ہوئی کہ احمدی نژاد جیسا پرجوش نظریاتی شخص اسرائیل کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ کیسے ہوسکتا ہے؟

نیویارک ٹائمز نے اس اسٹوری پر اپنا کام جاری رکھا اور گزشتہ روز نیویارک ٹائمز کے یوایس ایڈیشن میں تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی جس میں اس پورے معاملے کو بہت تفصیل سے پیش کیا۔ اس رپورٹ کو نیویارک ٹائمز کے 4 بہت سینیئر، تجربہ کار اورانتہائی باخبر رپورٹروں نے مل کر لکھا ہے۔

اس میں سرفہرست مارک مزیٹی ہیں۔ یہ واشنگٹن میں مقیم انویسٹی گیٹو رپورٹر ہیں، سی آئی اے ، خفیہ آپریشنز، دہشتگردی اور امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے رپورٹنگ پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ پلٹزر پرائز جیت چکے ہیں۔ عراق جنگ، سی آئی اے ڈرون پروگرام اور خفیہ آپریشنز پر ان کی رپورٹنگ بہت مشہور رہی ہے۔ ان کے ساتھ نیویارک ٹائمز کے انٹیلی جنس اور نیشنل سیکیورٹی رپورٹر جولین ای بارنز ہیں۔ سی آئی اے، ایف بی آئی، نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کی رپورٹنگ بیٹ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ واشنگٹن میں انٹیلی جنس ذرائع سے کوئی خبر نکلے تو اس کی رپورٹنگ میں جولین ای بارنز لازمی شامل ہوتے ہیں۔

اس رپورٹ کے تیسرے شریک مصنف رونن برگ مین ہیں۔ یہ اسرائیلی صحافی ہیں، تل ابیب میں مقیم اور موساد سمیت دیگر اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کور کرتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے میگزین رائٹر ہیں اور موساد پر ان کی کتاب دنیا بھر میں مشہور اور قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے۔ خود اسرائیلی میڈیا میں چھپتا رہتا ہے کہ موساد میں اگر کوئی راز تین آدمیوں کو معلوم ہے تو چوتھا رونن برگ میں ہوگا۔ اس رپورٹ کے شریک مصنفوں میں ایک ایرانی نژاد صحافی خاتون فرناز فسیحی بھی شامل ہیں۔ یہ فارسی جانتی ہیں۔ طویل عرصہ ایران اور مڈل ایسٹ کو کور کرتی رہیں، پہلے وال سٹریٹ جرنل میں تھیں، آج کل نیویارک ٹائمز میں ہیں۔ ایران کے اندرونی سیاسی ذرائع تک ان کی رسائی بہت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔اگر تہران کے اندر سے کوئی خبر آتی ہے تو اکثر فرناز کا نام سامنے آتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے سینیئر ترین 4 لوگوں نے اس رپورٹ میں حصہ ڈالا ہے، اس کا مطلب تجزیہ کار یہ لے رہے ہیں کہ مارک مزیٹی کی صورت میں سی آئی اے اور امریکی خفیہ اداروں سے انفارمیشن لی گئی، جولین بارنز کا مطلب ہے امریکی انٹیلی جنس بیورو کریسی کی اِن پٹ شامل ہے، فرناز مسیحی نے تہران، ایرانی ذرائع سے خبرنکالی ہوگی جبکہ رونن برگ مین کا مطلب موساعد اور دیگر اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع سے خبرچیک کی گئی۔

میں یہ ہرگز نہیں کہنا چاہتا کہ نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ 100 فی صد درست ہے۔ اس کے بعض دعووں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ممکن ہے یہ غلط ہو یا اس میں مبالغہ ہو یا ان انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دانستہ غلط انفو فراہم کی ہو، مگر ایک پیشہ ور صحافی کے طور پر اتنا جانتا ہوں کہ جب اتنے سینئر لیول کے بیک وقت چار مختلف بیٹ والے رپورٹر اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ خبر محض افواہ نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے یقینی طور پر متعدد امریکی، ایرانی، اسرائیلی ذرائع موجود ہیں۔ اتنے سینیئر رپورٹر جن کی مارکیٹ میں کریڈیبلٹی اور شہرت ہے، وہ ایسے اپنی ساکھ داو پر بھی نہیں لگاتے۔ یاد رہے کہ امریکا میں تو ایسی رپورٹ اگر غلط ہو تو کروڑوں ڈالر کر ہرجانہ بھی بھرنا پڑ جاتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن، تل ابیب ، تہران میں اسےسنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کا ایک خلاصہ سا بیان کر دیتا ہوں۔ یہ باقاعدہ ترجمہ نہیں، آزاد ترجمہ سمجھ لیں، جس میں کچھ اے آئی مدد بھی شامل ہے۔  لفظ بہ لفظ پڑھنے کےخواہش مند احباب نیویارک ٹائمز کے 14 جولائی ایشو کے فرنٹ پیج کو دیکھ سکتےہیں ۔ اپر ہاف ہی میں فٹ بال میچز پر بڑی سی تصویر کے ساتھ ٹاپ پر یہی ایک سٹوری موجود ہے جس کا طویل بقیہ صفحہ نو پر ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سنہ 2024 کےاوائل میں بڈاپسٹ ، ہنگری کی ایک یونیورسٹی کے ریکٹر کو ہنگری کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کی جانب سے ایک حیران کن درخواست موصول ہوئی۔ عہدیدار نے ریکٹر، پروفیسر جرجیلی ڈیلی  کو بتایا کہ لڈوویکا یونیورسٹی آف پبلک سروس  کو موسمیاتی تبدیلی پر ایک کانفرنس منعقد کرنی چاہیے اور ایک غیر متوقع مہمان کو مدعو کرنا چاہیے: محمود احمدی نژاد، جو کہ ایران کے سابق صدر ہیں۔ پروفیسر  ڈیلی کو بتایا گیا کہ یہ کانفرنس محض ایک پردہ ہے تاکہ مسٹر احمدی نژاد بڈاپسٹ میں اپنے اعلانیہ دشمن، اسرائیل کے انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ خفیہ بات چیت کر سکیں۔

’اس خفیہ آپریشن سے واقف امریکی اور ایرانی حکام (جنہوں نے حساس معلومات شیئر کرنے کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی) کے مطابق، مسٹر احمدی نژاد کا سنہ 2024 میں یونیورسٹی کا دورہ اور اگلے سال ہونے والا دوسرا دورہ، اسرائیل کی جانب سے انہیں ایک انٹیلی جنس اثاثے کے طور پر تیار کرنے کی برسوں پر محیط کوشش کا حصہ تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ وقت آنے پر انہیں ایران کے نئے رہنما کے طور پر لایا جا سکے‘۔

’سابق امریکی حکام کے مطابق، مسٹر احمدی نژاد کو بھرتی کرنا اسرائیل کے لیے اس قدر ترجیح رکھتا تھا کہ اس وقت کے اسرائیلی انٹیلی جنس چیف ڈیوڈ بارنیا سنہ 2024 میں ذاتی طور پر ان سے ملاقات کے لیے ہنگری کے دارالحکومت گئے۔ ان کے بقول، اس کے فوراً بعد اسرائیل کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس موساد  نے سی آئی اے  کو مطلع کیا کہ ان کا احمدی نژاد سے رابطہ ہو چکا ہے‘۔

’مسٹر احمدی نژاد کے گرد حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ بنانا اسرائیل اور سابق صدر کے تعلقات کی داستان میں ایک غیر معمولی موڑ (ٹوئسٹ)ہے کیونکہ احمدی نژاد ایران کے جوہری پروگرام کو تیز کرنے، اسرائیل کی تباہی کے باقاعدہ اعلانات اور ہولوکاسٹ کے انکار کے حوالے سے جانے جاتے تھے‘۔

’امریکی حکام کے مطابق، حالیہ برسوں میں اسرائیل نے مسٹر احمدی نژاد کو رہائش اور سفر کے لیے خفیہ طور پر رقوم ادا کیں اور اسرائیلی اہلکاروں نے ان سے بیرون ملک کئی مواقع پر ملاقاتیں کیں، جن میں بڈاپسٹ کے دورے بھی شامل تھے‘۔

’یہ کوشش رواں سال فروری کے اواخر میں  ایران پر امریکی،اسرائیلی جنگ کے ابتدائی دنوں کے دوران  ایک انتہائی بولڈ  کارروائی کی شکل میں اپنے عروج کو پہنچی۔ اس کا مقصد تہران میں کڑی نگرانی میں رہنے والے سابق رہنما کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا تھا۔ ہدف واضح تھا: موجودہ حکومت کا تختہ الٹ کر مسٹر احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کے منصوبے کا آغاز کرنا۔یہ منصوبہ ناکام ہو گیا‘۔

’4 اعلیٰ ایرانی حکام کے مطابق، اٹھائیس فروری کو ایک اسرائیلی فضائی حملے نے مسٹر احمدی نژاد کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، جس میں ان کے محافظوں کی عمارت اور ان کی بکتر بند گاڑی کو ہٹ کیا گیا۔ حملے کے بعد، ایک سیاہ رنگ کی کار وہاں پہنچی، جس نے مسٹر احمدی نژاد کو بٹھایا اور اس پرہجوم و افراتفری والے مقام سے انتہائی تیز رفتاری سے نکال لے گئی‘۔

’آپریشن کا علم رکھنے والے امریکی اور ایرانی حکام نے بتایا کہ یہ کار موساد کے اہلکار چلا رہے تھے، جو مسٹر احمدی نژاد کو ایران میں موجود ایک خفیہ ‘سیف ہاؤس میں لے گئے۔ تاہم، معاملے سے باخبر افراد کے مطابق، سابق ایرانی رہنما اس عجلت میں کیے گئے ریسکیو آپریشن پر ناراض تھے اور وہ انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کے اسرائیلی منصوبے سے مایوس نظر آئے‘۔

’احمدی نژاد بالآخر کن حالات میں سیف ہاؤس سے رخصت ہوئے، یہ اب تک غیر واضح ہے۔ مسٹر احمدی نژاد کو اس کے بعد عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تاہم گزشتہ پیر کو انہوں نے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے جلوس میں ایک مختصر شرکت کی‘۔

’احمدی نژاد  کی موجودہ صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ تاہم، 4 اعلیٰ ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ مسٹر احمدی نژاد پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ کی تحویل میں ہیں چونکہ اب ایران کو اسرائیل کے ساتھ ان کے بیشتر رابطوں کا علم ہو چکا ہے اس لیے انہیں گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے‘۔

’اسرائیلی حکام نے مسٹر احمدی نژاد کو ایران کے رہنما کے طور پر مسلط کرنے کے منصوبے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ موساد کے حکام نے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ احمدی نژاد کے ترجمان، علی اکبر جواں فکر  نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا‘۔

نیویارک ٹائمز کی اسی رپورٹ کے مطابق: سنہ 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر کی حیثیت سے، مسٹر احمدی نژاد ملک کے سب سے نمایاں اور سخت گیر یعنی ہارڈ لائن سیاست دان تھے۔ انہوں نے اسرائیل کے خاتمے کی بات کی، اور ان کے دور حکومت میں ایران نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا، جس سے یہ شکوک و شبہات پیدا ہوئے کہ ایران ایک خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔

’تاہم صدارت چھوڑنے کے بعد کے سالوں میں، مسٹر احمدی نژاد نے اپنے خیالات میں لچک پیدا کی اور اس اسرائیل مخالف بیانیے کی شدت کو کم کر دیا جو ان کے دورِ اقتدار کا طرہ امتیاز تھا۔ وہ اکثر اپنا نیا اعتدال پسند  رخ دکھانے کے لیے بے تاب رہتے تھے، انٹرویوز دیتے اور ایسی تقریریں کرتے جن میں وہ ایران کی پاپ میوزک کلچر پر رائے زنی کرتے، ملک کی سیکیورٹی فورسز کو ان کے سخت کریک ڈاؤن پر تنقید کا نشانہ بناتے، اور حکمران طبقے پر مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے‘۔

انہوں نے اپنی مخصوص بڑی خاکی جیکٹ زیب تن کرنا ترک کر دیا اور اچھے سلے ہوئے سوٹ  پہننا شروع کر دیے۔ انہوں نے اپنی بکھری ہوئی داڑھی کو تراشا، بظاہر بوٹوکس کےانجیکشن لگوائے اور انگریزی سیکھنا شروع کر دی۔ تہران میں اپنے دفتر میں، وہ عام لوگوں کی شکایات سننے کے لیے ہر صبح ایک گھنٹے کی عوامی ملاقاتیں منعقد کرتے۔ وہ باقاعدگی سے ملک بھر کا سفر کرتے اور شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی صوبوں میں بھی اپنے حامیوں سے ملاقاتیں کرتے۔

’ایرانی حکومت کے ساتھ مسٹر احمدی نژاد کے تعلقات پیچیدہ تھے۔ اعلیٰ رہنماؤں نے انہیں کارنر کر دیا تھا اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی، اس کے باوجود انہیں ایک اعلیٰ سطحی کونسل میں دیگر سینئر حکام کے ساتھ نشست دی گئی جو سپریم لیڈر کو مشورے دیتی ہے۔ انہوں نے جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل فروری میں کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کی‘۔

’مسٹر احمدی نژاد کے ایک سابق قریبی ساتھی اور سینیئر مشیر، عبدالرضا داوری  جن کے ان سے چند سال قبل اختلافات ہو گئے تھے، نے ایک فون انٹرویو میں کہا کہ احمدی نژاد یہ سب پیسوں کے لیے نہیں کریں گے۔ ان کے پاس پیسہ ہے؛ ان کا ایک وسیع معاشی نیٹ ورک ہے۔ وہ یہ سب اقتدار کے لیے کریں گے۔ وہ اقتدار کے منصب پر فائز ہونا چاہتے ہیں‘۔

’نجی بات چیت کی تفصیلات بتانے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، مسٹر احمدی نژاد کے قریبی حلقے کے ایک ساتھی نے بتایا کہ تین بار صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد مسٹر احمدی نژاد اسلامی جمہوریہ کے نظام سے مایوس ہو گئے تھے، اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ جب تک موجودہ نظام اپنی جگہ پر قائم ہے وہ اقتدار کے زینے طے نہیں کر سکتے‘۔

’ساتھی نے بتایا کہ احمدی نژاد  اس بات پر فکر مند تھے کہ جنگ اور حکومت کی تبدیلی کی صورت میں، امریکی اور اسرائیلی ایران سے باہر کی کسی ایسی اپوزیشن شخصیت کا انتخاب کریں گے جو ملک کے حالات سے واقف نہیں، اور یوں ایران عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے سامنے خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتے تھے جو سابق روسی صدر بورس یلسن کی طرح ایک مصلح یا ریفارمر کا کردار ادا کر سکتا ہے اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو، ایران صدر ٹرمپ کے ابراہم اکارڈز کے تحت اسرائیل کو تسلیم کر لے گا اور تعلقات معمول پر لے آئے گا‘۔

’اس وقت کی انٹیلی جنس اسیسمنٹ سے واقف دو اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس عرصے کے دوران مسٹر احمدی نژاد اور ایرانی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھیں۔ حکام نے بتایا کہ ان کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر ان اعلیٰ شخصیات کے خلاف مسٹر احمدی نژاد کی بڑھتی ہوئی ناراضگی تھی، جنہوں نے انہیں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے سے روکا تھا‘۔

’احمدی نژاد کی سرگرمیوں نے ایران کے پاسداران انقلاب کور کی انٹیلی جنس برانچ کے اندر شکوک و شبہات کو جنم دینا شروع کر دیا، جو اسلامی جمہوریہ کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ بعد میں ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کے اسرائیل کے ساتھ روابط کی تحقیقات شروع کر دیں اور کڑیاں ملانا شروع کیں‘۔

نیویارک ٹائمز نے اس سرخی کے تحت اپنی اس طویل رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے پہلی بار مسٹر احمدی نژاد کو بھرتی کرنے کی کوشش کب کی۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ دو ہزار تئیس میں مسٹر احمدی نژاد کے گوئٹے مالا کے دورے کے دوران کم از کم کچھ رابطہ ضرور ہوا تھا، جہاں وہ ماحولیات پر مرکوز ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ یہ دعوت نامہ گوئٹے مالا کی حکومت کی جانب سے آیا تھا، جو لاطینی امریکا کے بیشتر ممالک کی نسبت اسرائیل کے ساتھ زیادہ قریبی سفارتی تعلقات رکھتا ہے‘۔

’احمدی نژاد اس دورے پر بمشکل جا پائے کیونکہ انہیں تہران کے ہوائی اڈے پر سیکیورٹی فورسز نے روک لیا تھا، جنہوں نے بورڈنگ پاس جاری کرنے اور ملک چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر احمدی نژاد  نے ہوائی اڈے پر گھنٹوں طویل دھرنا دیا، جو ایک عوامی تماشا بن گیا کیونکہ انہوں نے عام ایرانی مسافروں، ہوائی اڈے اور ایئرلائن کے عملے کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور اپنے سوشل میڈیا پیجز پر اپ ڈیٹس پوسٹ کیں۔ بالآخر، ایرانی حکام نے مسٹر احمدی نژاد کو طیارے میں سوار ہونے اور کانفرنس میں شرکت کی اجازت دے دی‘۔

’احمدی نژاد نے اس دورے کی ایک ویڈیو میں کہا: “کچھ لوگوں نے مجھے گوئٹے مالا کا سفر نہ کرنے کا کہا؛ میں نے انہیں بتایا کہ میرے بھائی، وزیر ماحولیات نے مجھے مدعو کیا ہے۔ یہ لاطینی امریکا کا ایک انتہائی اہم ملک ہے‘۔

’اگلے سال انہوں نے لڈوویکا یونیورسٹی کی کانفرنس میں شرکت کے لیے ہنگری کا اپنا پہلا دورہ کیا، جہاں بڈاپسٹ میں ان کی ملاقات مسٹر بارنیا سے ہوئی جنہوں نے گزشتہ ماہ تک پانچ سال تک موساد کی قیادت کی تھی‘۔

’پچھلے سال احمدی نژاد دوبارہ بڈاپسٹ گئے ، ایران میں اسرائیل کی جانب سے جنگ چھیڑنے سے محض چند دن قبل۔ یہ دورہ دراصل اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں سے ان کی ملاقات کے لیے ایک کور تھا‘۔

’پاسداران کی انصار یونٹ سے تعلق رکھنے والے ان کے ایرانی محافظ، جو ان کے تمام غیر ملکی دوروں میں ان کے ہمراہ ہوتے تھے، نے رپورٹ دی کہ جون دو ہزار پچیس کے دورے کے دوران، کم از کم دو مواقع پر انہوں نے اپنے سیکیورٹی عملے کو چکمہ دے کر طویل ملاقاتوں کے لیے غائب ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ دو ایرانی پاسداران ارکان اور ایک انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق، اس دورے کی رپورٹ میں محافظوں نے بتایا کہ جب انہوں نے مسٹر احمدی نژاد کی گمشدگیوں کے حوالے سے ان سے باز پرس کی، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ یونیورسٹی کے پروفیسرز سے ملاقاتیں کر رہے تھے‘۔

’یونیورسٹی کانفرنس میں، سابق ایرانی صدر نے انگریزی میں لیکچر دیا، اور شرکاء کو اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے وہ مخصوص قرآنی آیت پڑھنا ترک کر دی جو وہ  اپنی ہر تقریر کے آغاز میں پڑھا کرتے تھے‘۔

نیلے رنگ کے سلے عمدہ سوٹ میں ملبوس احمدی نژاد  نے “مشترکہ انسانیت” اور “بدلتے ہوئے عالمی نظام” کے بارے میں بات کی، اور اپنے سوشل میڈیا پیج پر پوسٹ کی گئی دورے کی ویڈیوز کے مطابق، ایک نیا کرہ ارض کیسے ابھر سکتا ہے، اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے ریکٹر مسٹر ڈیلی کو قدیم ایرانی شاعر فردوسی کے شاہنامے کا ایک نسخہ پیش کیا۔

’مسٹر احمدی نژاد کو فروری کے اواخر کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا جب انہیں تہران میں ان کے گھر سے سیاہ رنگ کی کار میں تیزی سے نکال لیا گیا تھا۔ تاہم پچھلےہفتے وہ منظرعام پر آئے‘۔

’گزشتہ پیر کو، انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے جلوس میں ایک مختصر اور حیران کن شرکت کی۔ جلوس کی ویڈیوز میں مسٹر احمدی نژاد کو 90 ڈگری کی شدید گرمی میں بھاری جیکٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ ان کا سرجیکل ماسک ٹھوڑی تک سرکا ہوا تھا۔ ایران کے دیگر دو حیات سابق صدور، حسن روحانی اور محمد خاتمی، کو مدعو نہیں کیا گیا تھا اور وہ جنازے کی کسی بھی تقریب میں نظر نہیں آئے‘۔

’احمدی نژاد سر جھکائے، بغیر کچھ بولے کھڑے رہے، اور ان کے چاروں طرف بظاہر سیکیورٹی گارڈز کا گھیرا تھا‘۔

یہ ہے نیویارک ٹائمز کی وہ طویل رپورٹ۔ اس میں کتنی صداقت ہے، کس قدر جھوٹ، اس کا پتا کچھ عرصےمیں چل جائے گا۔
تاہم اس رپورٹ سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اسرائیل صرف فوجی جنگ نہیں لڑ رہا تھا، وہ صرف جوہری پروگرام کو نشانہ نہیں بنا رہا تھا بلکہ ایران کے اندر رجیم چینج انجینیئرنگ بھی کر رہا تھا۔ اسی لیے یہ اسٹوری عام خبر نہیں بلکہ ایک بڑی جیوپولیٹیکل اور انٹیلی جنس کہانی ہے۔

Back to top button