آبنائے ہرمز کا متبادل کیا ہوگا؟ خلیجی ممالک نے نئے راستے ڈھونڈ لئے

آبنائے ہرمز کی بار بار بندش اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی ترسیل کو ایک مرتبہ پھر خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی اہم سمندری گزرگاہ سے ہوتی ہے، لیکن حالیہ بحران نے خلیجی ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور عمان نئی پائپ لائنوں، بندرگاہوں اور لاجسٹک مراکز پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک کے لیے اب بھی کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ بحری تنازعات کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک بار پھر عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹ، قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات نے خلیجی ریاستوں کو متبادل راستوں پر تیزی سے کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ پیش رفت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے کی ہے۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی حبشان سے فجیرہ تک خام تیل کی پائپ لائن استعمال کر رہا ہے۔ فجیرہ بندرگاہ خلیجِ عمان کے ساحل پر واقع ہے، جو آبنائے ہرمز سے باہر ہے۔ اس نظام کے ذریعے خام تیل براہِ راست بحرِ ہند تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے ہرمز پر انحصار کسی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ابوظہبی اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے تاکہ مستقبل میں توانائی برآمدات زیادہ محفوظ رہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب اپنی تاریخی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو مزید توسیع دینے پر غور کر رہا ہے۔ یہ پائپ لائن مشرقی تیل کے ذخائر کو مغربی ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ سے ملاتی ہے۔ اگر اس کی استعداد مزید بڑھا دی جاتی ہے تو سعودی عرب اپنی بڑی مقدار میں تیل کو آبنائے ہرمز سے گزارے بغیر بحیرۂ احمر کے ذریعے یورپ، افریقہ اور امریکہ تک پہنچا سکے گا۔

یہ منصوبہ صرف توانائی کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ سعودی وژن 2030 کی معاشی حکمت عملی کا بھی اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں نئی ریفائنریاں، پیٹروکیمیکل صنعتیں، لاجسٹکس مراکز اور برآمدی سرگرمیاں فروغ پا سکتی ہیں، جبکہ انشورنس اور شپنگ اخراجات میں بھی کمی متوقع ہے۔

عراق بھی اپنی توانائی برآمدات کو محفوظ بنانے کے لیے بصرہ سے اردن کی بندرگاہ عقبہ اور ترکیہ کی جیہان بندرگاہ تک نئی پائپ لائنوں کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کئی منصوبے ابھی مکمل نہیں ہوئے، تاہم مستقبل میں یہ عراق کو آبنائے ہرمز پر مکمل انحصار سے کسی حد تک آزاد کر سکتے ہیں۔

اسی طرح سلطنت عمان اپنی دقم بندرگاہ کو خطے کے ایک بڑے توانائی اور لاجسٹکس مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں خلیجی ممالک اپنی برآمدات کے لیے اس بندرگاہ سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

اس کے برعکس قطر، کویت اور بحرین اب بھی سب سے زیادہ مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ قطر دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، لیکن اس کی تقریباً تمام برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں اور اس کے پاس فی الحال کوئی ایسا متبادل راستہ موجود نہیں جو موجودہ گزرگاہ کا مکمل متبادل بن سکے۔ اسی طرح کویت اور بحرین کی تیل برآمدات بھی بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہیں۔

توانائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف متبادل منصوبے مستقبل میں خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کی مکمل جگہ لینا ممکن نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ پائپ لائنوں کی گنجائش محدود ہے جبکہ کئی منصوبے ابھی تک تعمیر یا توسیع کے مراحل میں ہیں۔

مجموعی طور پر آبنائے ہرمز کی بار بار بندش نے خلیجی ممالک کو اپنی توانائی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور عمان متبادل راستوں کے ذریعے خطرات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم جب تک ان منصوبوں کی مکمل تکمیل نہیں ہوتی، دنیا کی توانائی منڈی بدستور آبنائے ہرمز کی سلامتی اور استحکام سے جڑی رہے گی۔

Back to top button