بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ عالمی امن کیلئے خطرہ کیوں بن گئے؟

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے شروع کیے گئے ‘آپریشن ہارڈ بال’ نے بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور اسپین میں ہونے والی مشترکہ کارروائیوں کے دوران درجنوں افراد کی گرفتاریاں اور فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورک اب صرف مقامی یا علاقائی مسئلہ نہیں رہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خفیہ مواصلاتی نظام اور بین الاقوامی روابط کے ذریعے سرحدوں سے باہر بھی سرگرم ہیں۔ ماہرین کے مطابق لارنس بشنوئی گینگ بھارتی منظم جرائم کی ایک نئی نسل کی نمائندگی کرتا ہے، جس نے عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے منظم جرائم کے خلاف شروع کیے گئے ‘آپریشن ہارڈ بال’ کو بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مشترکہ آپریشن میں امریکہ، کینیڈا، اسپین اور بھارت کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصہ لیا، جس کے نتیجے میں 24 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے جبکہ 37 افراد پر مختلف سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے۔
اس کارروائی کا مرکزی ہدف بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی کا مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورک ہے۔ امریکی استغاثہ کے مطابق لارنس بشنوئی بھارت کی جیل میں قید ہونے کے باوجود اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے قتل، بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر بین الاقوامی جرائم کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتا رہا۔ اس کے قریبی ساتھی گولڈی برار کی گرفتاری کے لیے ایف بی آئی نے انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف چند افراد کی گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ اب ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو شمالی امریکہ، یورپ اور دیگر خطوں تک اپنی سرگرمیاں پھیلا چکے ہیں۔
انسدادِ منشیات کے ماہرین کے مطابق ماضی میں داؤد ابراہیم کی ڈی کمپنی یا چھوٹا راجن جیسے گروہ زیادہ تر روایتی اسمگلنگ، بھتہ خوری اور مقامی جرائم تک محدود تھے، جبکہ لارنس بشنوئی گینگ جدید دور کی ٹیکنالوجی، خفیہ ڈیجیٹل مواصلات، بیرونِ ملک موجود ایجنٹس اور سرحد پار مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی کارروائیاں انجام دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس گینگ کا حجم لاطینی امریکہ کے بڑے منشیات کارٹلز جیسا نہیں، لیکن شمالی امریکہ میں منشیات، بھتہ خوری اور دیگر منظم جرائم میں بھارتی نیٹ ورکس کا فعال ہونا ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
جدید ٹیکنالوجی نے منظم جرائم کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔ پہلے جرائم زیادہ تر مقامی زمینوں کے تنازعات، کرائے کے قتل یا محدود جرائم تک محدود رہتے تھے، لیکن اب ڈیجیٹل مواصلات، خفیہ ایپس، آن لائن مالی لین دین اور عالمی نقل و حرکت نے جرائم پیشہ گروہوں کو بین الاقوامی سطح پر منظم ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
اسی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی چیلنج کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ اب کسی ایک ملک کے لیے ایسے نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن نہیں رہا، بلکہ مختلف ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ تحقیقات، سرحد پار مالیاتی نگرانی اور بیک وقت کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ لارنس بشنوئی کا معاملہ بھارتی منظم جرائم کے عالمی پھیلاؤ کا آغاز نہیں بلکہ اس ارتقائی عمل کا تازہ مرحلہ ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کے مطابق پہلے بھی بھارتی جرائم پیشہ گروہ بیرونِ ملک سرگرم رہے ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی نے ان کی رسائی، رفتار اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
سابق انٹیلی جنس حکام کے مطابق بین الاقوامی تعاون ہی ایسے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں اسی وقت ممکن ہوئیں جب مختلف ممالک کے اداروں نے معلومات کا تبادلہ کیا اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کی۔
مجموعی طور پر ‘آپریشن ہارڈ بال’ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ منظم جرائم اب صرف کسی ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں رہے بلکہ عالمی سلامتی، سرحد پار قانون نافذ کرنے کے نظام اور سائبر و مالیاتی نگرانی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کامیابی کا انحصار جدید ٹیکنالوجی، عالمی تعاون اور مربوط انٹیلی جنس نظام پر ہوگا۔
