انڈیا کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کا ڈیٹا لیک، قومی سلامتی خطرے میں

چوروں کو پڑ گئے مور، انڈیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق ہزاروں ڈیجیٹل فائلوں کے مبینہ لیک ہونے نے جوہری سلامتی اور سائبر سکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ انڈین نیوکلیئر پاور کارپوریشن کا دعویٰ ہے کہ لیک ہونے والا ڈیٹا صرف تعمیراتی سہولیات اور سامان کی خریداری سے متعلق ہے اور اس کا جوہری تحفظ سے کوئی تعلق نہیں، لیکن عالمی جوہری ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پلانٹ کے نقشے، تکنیکی ڈیزائن یا اندرونی نظام سے متعلق معلومات واقعی منظر عام پر آ گئی ہیں تو یہ مستقبل میں کسی بھی سائبر یا زمینی حملے کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ جدید دور میں حساس تنصیبات صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائبر حملوں سے بھی کس قدر غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔

انڈیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق مبینہ ڈیٹا لیک نے ملک کی جوہری سلامتی، سائبر سکیورٹی اور حساس انفراسٹرکچر کے تحفظ پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک ہیکر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پلانٹ سے متعلق تقریباً 19 ہزار ڈیجیٹل فائلیں حاصل کر کے ڈارک ویب پر شائع کر دی ہیں۔

ہیکرز کے مطابق ان فائلوں میں پلانٹ کے مختلف حصوں کے نقشے، وینٹی لیشن سسٹم کی تفصیلات، کنٹرول روم کے خاکے، تعمیراتی ریکارڈ، آلات کی تصاویر اور انجینئرنگ معائنوں سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ ان دعوؤں کے بعد انڈین حکومت اور متعلقہ اداروں کو وضاحتیں جاری کرنا پڑیں۔

نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لیک ہونے والی معلومات کا تعلق صرف تعمیراتی سرگرمیوں، مشترکہ سہولیات اور سامان کی خریداری سے ہے، جبکہ جوہری ری ایکٹر، حفاظتی نظام یا قومی سلامتی سے متعلق کوئی حساس معلومات منظر عام پر نہیں آئیں۔ ادارے کے مطابق مذکورہ تعمیراتی سہولیات عام صنعتی منصوبوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور ان کا جوہری آپریشن سے براہِ راست تعلق نہیں۔

دوسری جانب ہیکر گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات براہِ راست جوہری پلانٹ سے نہیں بلکہ منصوبے میں شریک نجی کمپنی ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرور سے حاصل کی گئی ہیں۔ کمپنی نے اپنے سرور پر سائبر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے کی اطلاع پہلے ہی متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کو دے دی گئی تھی۔

تاہم جوہری سلامتی کے عالمی ماہرین سرکاری وضاحت سے مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق اگر لیک ہونے والی معلومات میں پلانٹ کی اندرونی ساخت، پائپ لائنوں، کیبلز، وینٹی لیشن سسٹم، دروازوں، کنٹرول روم یا ہنگامی کولنگ سسٹم کی تفصیلات شامل ہیں تو یہ معلومات مستقبل میں کسی بھی تخریب کاری، سائبر حملے یا زمینی کارروائی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جوہری تنصیبات کے بلیو پرنٹس، تکنیکی ڈیزائن اور حفاظتی نظام کی معلومات انتہائی خفیہ رکھی جاتی ہیں کیونکہ معمولی تکنیکی معلومات بھی کسی منظم حملہ آور کے لیے منصوبہ بندی آسان بنا سکتی ہیں۔

کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور اسے روسی تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے چھ ری ایکٹروں میں سے دو پہلے ہی بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ باقی مراحل میں ہیں۔ انڈیا نے آئندہ دو دہائیوں میں اپنی جوہری بجلی کی پیداوار کو کئی گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور 2047 تک سو گیگاواٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔

اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے کسی بھی سائبر حملے یا ڈیٹا لیک کو معمولی واقعہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے نہ صرف موجودہ منصوبوں بلکہ مستقبل کی جوہری توسیع کی حکمت عملی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس واقعے کے بعد انڈیا کے سائبر سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ لیک ہونے والی معلومات کی نوعیت کیا ہے، حملہ کس ذریعے سے ہوا اور آیا مزید حساس معلومات بھی متاثر ہوئی ہیں یا نہیں۔

مجموعی طور پر یہ معاملہ صرف ایک ڈیٹا لیک تک محدود نہیں بلکہ جدید دور میں حساس قومی تنصیبات کے سائبر تحفظ کا اہم امتحان بھی ہے۔ اگرچہ انڈین حکام مسلسل یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ جوہری سلامتی متاثر نہیں ہوئی، لیکن عالمی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حساس تکنیکی معلومات کا افشا مستقبل میں بڑے سکیورٹی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے اس واقعے کی شفاف تحقیقات، سائبر دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اور حساس ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات ناگزیر دکھائی دیتے ہیں۔

Back to top button