آج کے اتحادی حکمران کل کو اکٹھے جیل میں کیوں ہوں گے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طرح موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی یہ خوش فہمی ہو چکی ہے کہ انہیں اقتدار سے نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ ان کا کوئی متبادل موجود نہیں، لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی حالات نے کروٹ بدلی تو کوئی بعید نہیں کہ آج کے حکمران کل کسی جیل میں اکٹھے بند ہوں۔

حامد میر نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر رونما ہونے والے حالیہ واقعات باعثِ تشویش ہیں اور حکومت و ریاستی اداروں کی تمام تر توجہ گورننس، معیشت اور امن و امان کے بجائے میڈیا مینجمنٹ پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق حکمرانوں کا خیال ہے کہ اگر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو قابو میں رکھا جائے تو ملکی مسائل بھی قابو میں آ جائیں گے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر حکومت کے ناقدین کو نشانہ بنانے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔بتاہم ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا اس میڈیا مینجمنٹ سے ملک کے حالات میں کوئی حقیقی بہتری آئی ہے؟ حامد میر کے مطابق موجودہ حالات میں کسی صحافی کو ملازمت سے فارغ کرنا، کسی اینکر کو سکرین سے غائب کرنا یا کسی وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن کو ملک دشمن قرار دے کر گرفتار کرنا آسان ہو چکا ہے، مگر ان اقدامات کے باوجود نہ سیاسی استحکام آیا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی جانب راغب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراء کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پریس کانفرنسیں اور بیانات دیکھ کر انہیں اکتوبر 2019ء کا وہ منظر یاد آگیا جب شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے جلسے میں ان کے پہلو میں کھڑے ہو کر عمران خان حکومت پر شدید تنقید کر رہے تھے۔ حامد میر نے یاد دلایا کہ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر ریاستی ادارے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتنا بھی تعاون کریں جتنا عمران خان کی حکومت کے ساتھ کیا گیا تو وہ صرف چھ ماہ میں پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ انہوں نے کہق کہ 27 اکتوبر 2019ء کو مولانا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ لے کر آئے تو عمران خان کی حکومت شدید دباؤ میں آ گئی تھی۔ تب نواز شریف سمیت پیپلز پارٹی کے کئی رہنما جیلوں میں تھے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک کو حکومت کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے بقول آزادی مارچ کے چند ہی روز بعد نومبر 2019ء میں نواز شریف جیل سے رہا ہو کر علاج کی غرض سے لندن روانہ ہو گئے، اگرچہ اس وقت کہا گیا تھا کہ وہ چند ہفتوں میں وطن واپس آ جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ لندن روانگی کے چند ماہ بعد مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ سے ایسا قانون منظور کرایا جس کے ذریعے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کی منظوری دی گئی۔ ستمبر 2020ء میں بلاول بھٹو کی میزبانی میں اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم وجود میں آئی اور مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر مولانا فضل الرحمٰن کو اس اتحاد کا سربراہ بنایا گیا۔ اکتوبر 2020ء میں گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے پہلے جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے فوجی قیادت کے خلاف سخت نعرے بازی کی، جس کے بعد ملکی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔

حامد میر کے مطابق پی ڈی ایم کی تحریک زور پکڑنے کے ساتھ ہی اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے، جبکہ جنرل فیض حمید کے کردار سے متعلق بھی مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ان کے بقول عمران خان حکومت نے اس دوران اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں تیز کیں، میڈیا پر پابندیاں بڑھیں اور خود ان پر بھی 2021ء میں طویل عرصے تک پابندی عائد رہی، مگر یہ تمام اقدامات حکومت کو بچانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2022ء میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور شہباز شریف وزیراعظم بن گئے، جبکہ نومبر 2022ء میں جنرل عاصم منیر آرمی چیف مقرر ہوئے۔ ان کے مطابق اس کے بعد ریاستی اداروں کا مکمل تعاون شہباز شریف حکومت کو حاصل رہا، جس کے نتیجے میں نواز شریف کی وطن واپسی اور ان کے خلاف مقدمات کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہوئی، جبکہ فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم منتخب ہو گئے۔

حامد میر نے سوال اٹھایا کہ شہباز شریف نے جو دعویٰ کیا تھا کہ چھ ماہ میں پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے، کیا وہ پورا ہو سکا؟انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال لیا گیا، لیکن اس کے باوجود سیاسی عدم استحکام ختم نہ ہو سکا، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بھی بدستور تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان طویل عرصے سے جیل میں ہیں، تحریک انصاف اپنی قیادت کی رہائی کے لیے مؤثر دباؤ بھی نہیں ڈال سکی، پی ٹی ایم اور ٹی ایل پی پر پابندیاں لگائی جا چکی ہیں، ماہ رنگ بلوچ اور ان کی وکیل ایمان مزاری بھی جیل میں ہیں، جبکہ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء کے بعد میڈیا پر حکومتی کنٹرول مزید مضبوط ہوا ہے، مگر اس کے باوجود ملک میں امن، سیاسی استحکام اور گورننس کے مسائل برقرار ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے؟

حامد میر نےخبردار کیا کہ 2021ء میں عمران خان کو یقین تھا کہ انہیں اقتدار سے کوئی نہیں ہٹا سکتا کیونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں، لیکن چند ہی برس بعد وہ جیل میں ہیں۔ ان کے مطابق آج شاید شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے ہٹانا آسان نہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔
انہوں نے کہا کہ آج مسلم لیگ (ن) کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن پر سخت تنقید کر رہے ہیں، حالانکہ ماضی میں انہی کے کندھوں پر کھڑے ہو کر حکومت مخالف تحریک چلائی گئی تھی۔ حامد میر کے مطابق اگر مستقبل میں مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تو اسے ایک بار پھر انہی سیاسی اتحادیوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گلگت بلتستان میں اکثریت حاصل نہ کر سکنے کے بعد اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کو اسی نوعیت کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو پارٹی کے سیاسی زوال کو روکنا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی اندرونی کشمکش، پیپلز پارٹی سے بڑھتی ہوئی دوریاں اور بعض حکومتی اتحادیوں خصوصاً فیصل واوڈا کی تنقید بھی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ حکمران اتحاد کو آنے والے دنوں میں سنگین سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button