ایران سے رابطے جاری، ٹرمپ اب بھی سفارتکاری کے لیے تیار ہیں: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کے لیے آمادہ ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کو امریکا سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی پر جواب دہ ٹھہرائیں گے، تاہم وہ تنازع کے حل کے لیے سفارتکاری کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے صدر ٹرمپ کو اب بھی معاہدے کی خواہش سے آگاہ کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ایران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو امریکا اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بجلی گھروں اور پلوں سمیت دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں ایک سکول پر حملے سے متعلق اطلاعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم ان کے بقول امریکی فوج جان بوجھ کر بچوں یا شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

 

امریکا ایران جنگ میں نیا موڑ، حوثی بھی میدان میں، باب المندب پر میزائل تعینات

پریس سیکرٹری نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنا کر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکا نے حالیہ فوجی کارروائیاں کیں۔ تہران کو اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

Back to top button