پاکستان جنسی درندے شبیر احمد کو واپس لینے سے انکاری کیوں؟

برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے بدنام زمانہ روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی ممکنہ ملک بدری کے معاملے پر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان واضح اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ جہاں برطانوی حکومت قانون میں تبدیلی کے ذریعے شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، وہیں پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ شبیر احمد ایک برطانوی شہری ہے، اس نے جرم بھی برطانیہ میں کیا، سزا بھی وہیں کاٹی، اس لیے اس معاملے کی تمام ذمہ داری بھی برطانیہ پر عائد ہوتی ہے۔ اسلام آباد نے اسے مکمل طور پر برطانیہ کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کیس سے کسی بھی قسم کا تعلق مسترد کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں سزا یافتہ روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی ممکنہ ملک بدری پر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی اختلاف کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ برطانوی حکومت ایک جانب شبیر احمد کو برطانیہ سے بے دخل کرنے کے لیے قانونی راستے تلاش کر رہی ہے، جبکہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس شخص کو قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ مکمل طور پر برطانیہ کا داخلی اور قانونی معاملہ ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ شبیر احمد نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری، وہیں جرم کیا، وہیں مقدمہ چلا، سزا سنائی گئی اور جیل سے رہائی بھی برطانوی قانون کے مطابق ہوئی، اس لیے اس کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلہ بھی برطانوی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ کسی ایسے شخص کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہو سکتی جس کی زندگی، جرائم اور عدالتی کارروائی مکمل طور پر برطانیہ میں انجام پائی ہو۔ ترجمان کے مطابق ایسے سنگین جرائم کے لیے بیرونی اسباب تلاش کرنے کے بجائے برطانیہ کو اپنے نظام کا خود جائزہ لینا چاہیے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ شبیر احمد کی ملک بدری کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ برطانوی وزیرِ داخلہ کے مطابق موجودہ قانون بعض ایسے افراد کو تحفظ دیتا ہے جو کئی دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں، لیکن ایسے قوانین کو سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے لیے ڈھال نہیں بننا چاہیے۔

خیال رہے کہ شبیر احمد 1960 کی دہائی کے آخر میں برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ بعد ازاں انہیں برطانوی شہریت حاصل ہوئی، تاہم 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ اور جنسی جرائم میں سزا پانے کے بعد ان کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی۔ طویل قید کے بعد انہیں حال ہی میں جیل سے رہا کیا گیا، جس کے بعد ان کی ملک بدری کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

برطانوی قانون کے مطابق شبیر احمد جیسے بعض افراد کو، جو 1973 سے پہلے برطانیہ پہنچے اور کئی برس وہاں مقیم رہے، مخصوص قانونی تحفظ حاصل ہے، جس کے باعث ان کی بے دخلی پیچیدہ قانونی مسئلہ بن چکی ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی شخص کو دوسرے ملک بھیجنے کے لیے متعلقہ ملک کی رضامندی بھی ضروری ہوتی ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر پاکستان سے رابطے میں ہے اور ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرے گی تاکہ سنگین جرائم کے مرتکب غیر ملکی افراد کو برطانیہ سے نکالا جا سکے۔ بعض برطانوی سیاست دانوں نے یہاں تک عندیہ دیا ہے کہ اگر پاکستان ایسے افراد کو واپس لینے سے انکار کرتا ہے تو ویزا پابندیوں سمیت دیگر سفارتی اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اس امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کی ذمہ داری نہیں بنتا۔ اسلام آباد کے مطابق جرم، سزا اور رہائی تینوں برطانیہ میں ہوئے ہیں، اس لیے برطانوی حکومت کو اپنے قوانین کے مطابق ہی اس کیس کا حل نکالنا ہوگا۔

واضح رہے کہ شبیر احمد روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی کرداروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں عدالت نے کم عمر لڑکیوں کو منشیات اور الکوحل کے ذریعے قابو میں لا کر طویل عرصے تک جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے جرائم میں سزا سنائی تھی۔ عدالت نے انہیں ایک پرتشدد اور خطرناک مجرم قرار دیا تھا، جبکہ متاثرین نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی رہائی سے وہ خود کو اب بھی غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کے بقول یہ مقدمہ صرف ایک مجرم کی ملک بدری کا معاملہ نہیں بلکہ برطانوی امیگریشن قوانین، شہریت، انسانی حقوق، بین الاقوامی تعاون اور سنگین جرائم کے مجرموں سے نمٹنے کے قانونی طریقہ کار پر بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا برطانیہ قانون میں واقعی تبدیلی کرتا ہے یا دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر کوئی مشترکہ قانونی حل سامنے آتا ہے۔

Back to top button