امریکی کارروائیوں سے تنازع پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتا ہے: پاسداران انقلاب

 

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال 40 روزہ جنگ سے قبل والی حالت میں دوبارہ واپس نہیں آئے گی۔

ایک بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری سے خائف ہے اور اسی وجہ سے اس اہم آبی گزرگاہ میں سکیورٹی کی صورتحال کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

ابراہیم ذوالفقاری نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک ایران کے ساتھ تعاون کریں اور امریکا کے ساتھ عسکری تعاون سے گریز کریں تو اجتماعی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل بھی ایرانی فوج کے ترجمان امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکی حملوں میں ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے نہایت سنگین ہوں گے۔

 

ایران سے رابطے جاری، ٹرمپ اب بھی سفارتکاری کے لیے تیار ہیں: وائٹ ہاؤس

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایران خطے میں موجود اہم انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ تنازع مزید پھیل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

Back to top button