امریکا ایران جنگ میں نیا موڑ، حوثی بھی میدان میں، باب المندب پر میزائل تعینات

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی ممکنہ شمولیت نے خطے میں ایک نئے محاذ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے باب المندب کے قریب ڈرونز اور میزائل تعینات کر دیے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کویت اور بحرین کی افواج کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک ایرانی فضائی حملوں کی زد میں آئے، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ریڈار، فضائی دفاعی نظام اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔ ایران نے بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا، تاہم کویتی فوج نے متعدد ڈرون حملے ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر امریکی فضائی کارروائیوں کی نئی لہر کے دوران تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سیمنان ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق ان حملوں میں 30 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کشیدگی کے باوجود ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق خطے میں امن کی بحالی صرف اسلام آباد ایم او یو کے مجوزہ فریم ورک کے ذریعے ممکن ہے۔
رائٹرز کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی توانائی اور بجلی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو بحیرہ احمر سے گزرنے والی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کے لیے تیار رہیں۔
ذرائع کے مطابق حوثیوں نے حدیدہ، خلیج عدن اور باب المندب کے اطراف کے پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں، جبکہ کارروائی کے حتمی فیصلے کا اختیار یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کے پاس ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب اپنی تقریباً 70 فیصد تیل برآمدات بحیرہ احمر میں واقع ینبع بندرگاہ کے ذریعے کرتا ہے، اس لیے اگر باب المندب کا راستہ متاثر ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب جنگ میں براہ راست شریک ہوا تو اس کی تیل تنصیبات، ہوائی اڈے اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کی صورت میں ریاض ایئرپورٹ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کو ناکام بنانا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی پالیسی کا فیصلہ واشنگٹن خود کرتا ہے۔ انہوں نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔
سعودی تعاون جاری، پاکستان کا 3 ارب ڈالر قرض رول اوور
علاوہ ازیں ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملے جاری رکھے تو خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو سخت جواب دیا جائے گا۔
