ادارہ جاتی نااہلیوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

تربیلا فائیو ہائیڈرو پاور منصوبے میں ایک عارضی حفاظتی دیوار، یعنی کوفرڈیم، کا انہدام صرف ایک تعمیراتی حادثہ نہیں بلکہ اربوں روپے کے قومی منصوبے میں مبینہ انتظامی غفلت، ناقص نگرانی اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کی سنگین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اس واقعے کی وجہ سیلاب یا قدرتی آفت نہیں بلکہ کنٹریکٹر، کنسلٹنٹ اور واپڈا کی مشترکہ کوتاہیاں تھیں۔ اس حادثے نے نہ صرف منصوبے کی لاگت میں بے پناہ اضافہ کیا بلکہ اس کے نتیجے میں بجلی کی پیداواری لاگت بھی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس کا براہِ راست اثر مستقبل میں صارفین کے بجلی کے بلوں پر پڑ سکتا ہے۔
تربیلا فائیو ہائیڈرو پاور منصوبہ پاکستان کے توانائی شعبے کا ایک اہم منصوبہ تصور کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نسبتاً کم لاگت پر پن بجلی پیدا کر کے قومی گرڈ میں شامل کرنا تھا۔ تاہم اگست 2025 میں منصوبے کے دوران ایک اہم عارضی حفاظتی ڈھانچہ، جسے کوفرڈیم کہا جاتا ہے، منہدم ہو گیا۔ بعد ازاں سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ نے واضح کیا کہ یہ حادثہ کسی قدرتی آفت یا غیر معمولی سیلاب کا نتیجہ نہیں بلکہ تعمیراتی اصولوں سے انحراف، ناقص نگرانی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ تھا۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق منصوبے کے کنٹریکٹر نے معاہدے کے برعکس کوفرڈیم کے اصل ڈیزائن میں تبدیلی کی تجویز پیش کی اور مضبوط تعمیراتی ڈھانچے کی جگہ نسبتاً کمزور متبادل اختیار کرنے کی کوشش کی۔ حیران کن طور پر نگرانی پر مامور کنسلٹنٹ نے مکمل تکنیکی جانچ کے بغیر اس تبدیلی کی منظوری دے دی، جبکہ منصوبے کے مالک ادارے واپڈا نے بھی بغیر مؤثر جانچ پڑتال کے اس ڈیزائن کو قبول کر لیا۔ یوں تینوں متعلقہ فریق اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے۔
ابتدائی طور پر اس حادثے کا ذمہ دار سیلاب کو قرار دیا گیا، مگر تحقیقاتی رپورٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت پانی کی سطح معمول کے مطابق تھی اور کوفرڈیم اس سے کہیں زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اصل خرابی کمزور ڈیزائن اور حفاظتی معیار میں کوتاہی تھی۔
اس حادثے کے مالی اثرات بھی غیر معمولی ہیں۔ 2017 میں جب منصوبہ منظور ہوا تو اس کی لاگت تقریباً 82 ارب روپے تھی، لیکن اب یہ بڑھ کر 317 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، یعنی تقریباً 235 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ مہنگائی اور تعمیراتی اخراجات میں اضافے نے بھی اس میں کردار ادا کیا، تاہم تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اس اضافی بوجھ کا ایک بڑا حصہ ناقص منصوبہ بندی، غلط فیصلوں اور نگرانی کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔
یہ منصوبہ ورلڈ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے قرضوں سے تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی تکمیل بھی دو سال تاخیر کا شکار ہو کر 2028 تک پہنچ گئی ہے۔ ہر سال کی تاخیر سے قرضوں پر سود کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، جو بالآخر قومی خزانے اور بجلی صارفین دونوں پر منتقل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سب سے تشویشناک پہلو بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔ پلاننگ کمیشن کے تخمینوں کے مطابق اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت تقریباً 27 سے 28 روپے فی یونٹ تک جا سکتی ہے، جو پن بجلی جیسے نسبتاً سستے ذریعہ توانائی کے لیے غیر معمولی طور پر زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی تاریخ میں قابلِ تجدید توانائی سے حاصل ہونے والی مہنگی ترین بجلی میں شمار ہو سکتی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں منصوبے کی نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واپڈا نے جب کوفرڈیم کے ڈیزائن کا جائزہ لینے کے لیے کنسلٹنٹ سے رپورٹ طلب کی تو اس نے خود جانچ کرنے کے بجائے یہی ذمہ داری اسی کنٹریکٹر کے سپرد کر دی، جس کے ڈیزائن پر اعتراضات موجود تھے۔ یوں نگرانی کے پورے نظام نے اپنی بنیادی ذمہ داری ادا نہیں کی۔
حادثے کے بعد واپڈا نے مشاورتی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا، تاہم اب تک نہ تو کنٹریکٹر کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں اور نہ ہی واپڈا کے اپنے کردار پر کوئی واضح احتساب نظر آیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض ادائیگیاں مستقل تعمیراتی کاموں کے بجائے عارضی ڈھانچوں پر کر دی گئیں، جس سے مستقبل میں ٹھیکیدار سے نقصان کی وصولی قانونی طور پر مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ بالآخر عوام ہی اٹھائیں گے۔ ایک طرف بجلی کے نرخ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت کو قرضوں اور مالیاتی دباؤ کا سامنا رہے گا، جس سے گردشی قرضے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار مزید بڑھ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تربیلا فائیو کا معاملہ صرف ایک تعمیراتی دیوار گرنے کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی، نگرانی، شفافیت اور احتساب کے پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر اس واقعے سے سبق نہ سیکھا گیا اور ذمہ داروں کا مؤثر احتساب نہ ہوا تو اس کی قیمت نہ صرف قومی خزانہ بلکہ آنے والے کئی برسوں تک بجلی صارفین بھی اپنے ماہانہ بلوں کی صورت میں ادا کرتے رہیں گے۔
