پاک فضائیہ نے کابل میں ٹارگٹ پر اٹیک کیا یا غلطی سے حملہ ہوا؟

افغانستان کی وزراتِ دفاع نے پاکستان پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ائیر سٹرائیکس کا الزام عائد کرنے کے بعد موقف تبدیل کرتے ہوئے ان حملوں کو پاکستانی غلطی قرار دے دیا۔ ان حملوں کے بعد یہ افواہیں گرم ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کا امیر کمانڈر نور ولی محسود مارا گیا ہے۔ تاہم افغان حکام نے ان افواہوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کی شب کابل میں عبدالحق چوک کے قریب رہائشی عمارت پر فضائی حملے کیے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ان فضائہ حملوں کا اصل ٹارگٹ کمانڈر نور ولی محسود تھا جو کہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ حملوں کے اگلے روز جمعہ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر افغان وزاتِ دفاع کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک بار پھر پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل اور ڈیورنڈ لائن کے قریب پکتیکا کے علاقے میں ایک بازار پر بمباری کی ہے۔
افغان وزراتِ دفاع نے پاکستانی حملے کو ایک ’پُرتشدد‘ اور ’قابلِ مذمت عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی تاریخ میں ایسے اقدام کی مثال نہیں ملتی۔ ’ہم افغانستان کی فضائی حدود کی اس خلاف ورزی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ خود مختاری کا دفاع ہمارا حق ہے۔‘ طالبان کی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے بعد اگر صورتِحال کشیدہ ہوتی ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری پاکستانی فوج پر عائد ہو گی۔
تاہم اس بیان کے چند گھنٹوں بعد افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان میں ہونے والے فضائی حملوں کو پاکستان کی غلطی قرار دے دیا۔ دورہ بھارت کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر متقی نے کہا کہ ان دھماکوں سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن پتہ چلا ہے کہ یہ سب غلطی سے ہوا۔ اسکے بعد انہوں نے یہ معنی خیز فقرہ کہا کہ اس طرح کے مسائل طاقت کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔ ہم نے پاکستان سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ہماری جغرافیائی حیثیت ہمیں ایک اہم تجارتی راہداری بننے کا موقع دیتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہم جیسے انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ویسے ہی ہم پاکستان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں ۔امیر خان متقی نے کہا ’آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور افغانوں کے حوصلے کو نہیں آزمانا چاہیے۔ اگر کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچتا تا ہے تو اسے پہلے سوویت یونین اور امریکہ سے پوچھ لینا چاہیے۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ افغانستان کے ساتھ ایسے کھیل کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔‘
افغانستان پر مبینہ پاکستانی فضائی حملوں کے حوالے سے پاکستانی حکومت کا کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران جب پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے اس بارے میں سوالات کیے گئے تو انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔‘
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغانستان میں فضائی حملے کیے ہیں اور کیا ان میں ٹی ٹی پی کے امیر نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ جواب میں فوجی ترجمان نے کہا طالبان کے افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے شواہد موجود ہیں۔ پاکستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں، وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔‘
فوجی ترجمان کے اعلان کے بعد سہیل آفریدی کا وزیراعلی بننا مشکل
انھی افواہوں کے بیچ سوشل میڈیا پر مفتی نور ولی محسود کا ایک آڈیو بیان بھی منظرِ عام پر آیا ہے جس میں وہ خود پر فضائی حملوں کی تردید کرتے سنائی دیتے ہیں، تاہم اس آڈیو کی آزادنہ تصدیق نہیں ہو ہائی ہے۔ ادھر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک تجویز یہ ہے کہ ایک وفد فوری کابل بھیجا جائے اور افغان حکمرانوں کو بتایا جائے کہ اب افغانستان میں پناہ لینے والے طالبان کی پاکستان مخالف دہشت گردی ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے۔‘
یاد رہے کہ افغانستان میں سنہ 2021 میں افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں خرابی آتی جا رہی ہے۔ پاکستان کو یہ گلہ رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور یہ سرحد پار پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی حکام ملک میں ہونے والے بیشتر حملوں کا ذمہ دار تحریکِ طالبان کو ٹھہراتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔ تاہم افغان طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تاہم اب پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کی طالبان حکومت کو واضح پیغام دیا تھا کہ وہ پاکستان یا تحریک طالبان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔ اس پیغام کے بعد پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں فضائی حملوں سے صاف ظاہر ہے کہ اب طالبان دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ہر طرح کا ہتھکنڈا استعمال کیا جائے گا ۔
