15 دن میں ڈیزل 70، پٹرول 25 روپے فی لیٹر مہنگا

وفاقی کابینہ کے 17 جولائی کے فیصلے کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کا نظام نافذ ہونے کے بعد صرف پندرہ روز میں ڈیزل کی قیمت میں 69 روپے 74 پیسے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد صرف پندرہ روز میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عوام، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ صارفین کو اس دوران معمولی کمی کے سوا کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کے نظام کے نفاذ کے بعد عوام کو مسلسل مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 17 جولائی سے نافذ ہونے والے اس نئے طریقہ کار کے تحت عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اوگرا ہفتے میں پانچ روز پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف پندرہ روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 69 روپے 74 پیسے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے میں اگرچہ چند مواقع پر معمولی کمی بھی کی گئی، تاہم مجموعی رجحان مسلسل اضافے کا رہا۔
17 جولائی کو ڈیزل کی قیمت میں ایک ہی روز 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد مختلف تاریخوں پر وقفے وقفے سے مزید اضافے ہوتے رہے۔ صرف ایک روز ڈیزل کی قیمت میں 66 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، مگر اس سے مجموعی اضافے میں کوئی نمایاں فرق نہ آ سکا۔
اسی طرح پٹرول کی قیمت بھی تقریباً روزانہ تبدیل ہوتی رہی۔ اس دوران چند مرتبہ 35 پیسے، ایک روپیہ اور 12 پیسے فی لیٹر کمی ضرور کی گئی، تاہم متعدد اضافوں کے باعث مجموعی طور پر پٹرول بھی 25 روپے 32 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے، صنعتی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی ترسیل کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا دباؤ براہِ راست عام شہری تک منتقل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ اضافوں کے بعد مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ یومیہ قیمتوں کے تعین کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں منتقل کرنا ہے تاکہ قیمتوں میں شفافیت برقرار رہے۔ تاہم عوام اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ روزانہ بدلتی قیمتوں کے باعث کاروباری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور تجارتی سرگرمیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
کیا شہباز شریف نئے صوبوں کے قیام بارے ریفرنڈم کروا سکتے ہیں؟
اب نظریں 3 سے 7 اگست کے دوران ہونے والے نئے یومیہ نرخوں پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ صارفین کو حقیقی ریلیف ملتا ہے یا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ مزید جاری رہتا ہے۔
