کیا شہباز شریف نئے صوبوں کے قیام بارے ریفرنڈم کروا سکتے ہیں؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے نے سیاسی ہلچل مچا رکھی ہے ایسے میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ریفرنڈم سے متعلق جاری سیاسی بحث کے دوران آئین پاکستان کے آرٹیکل 48 کی شق 6 اور 7 ایک مرتبہ پھر مرکزِ نگاہ بن گئی ہیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق قومی اہمیت کے کسی معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا اختیار وزیراعظم کو حاصل ہے اور اس کے لیے آئینی ترمیم کی طرح دو تہائی اکثریت درکار نہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ریفرنڈم کی کامیابی اور قبولیت کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، شفاف انتخابی عمل اور عوامی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں ریفرنڈم کے امکان سے متعلق جاری سیاسی مباحث نے ایک مرتبہ پھر آئین پاکستان کے آرٹیکل 48 کی شق 6 اور 7 کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ سیاسی حلقوں، آئینی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق دستورِ پاکستان وزیراعظم کو قومی اہمیت کے کسی بھی معاملے پر ریفرنڈم کی تجویز دینے کا اختیار فراہم کرتا ہے، جبکہ اس عمل کے لیے آئینی ترمیم کی طرح دو تہائی اکثریت کی شرط موجود نہیں۔
آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 48(6) کے تحت اگر وزیراعظم یہ سمجھیں کہ کسی قومی اہمیت کے معاملے پر عوامی رائے لینا ضروری ہے تو وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کر سکتے ہیں۔ مشترکہ اجلاس کی منظوری کے بعد وزیراعظم اس معاملے کو ریفرنڈم کی صورت میں عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں، جہاں سوال کا جواب "ہاں” یا "نہیں” میں دیا جاتا ہے۔
اسی طرح آرٹیکل 48(7) پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے ریفرنڈم کے انعقاد، اس کے طریقہ کار اور نتائج کے نفاذ سے متعلق ضوابط طے کرے۔ آئینی ماہرین کے مطابق یہ قانون عام قانون سازی کے طریقہ کار کے مطابق سادہ اکثریت سے منظور کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری نہیں ہوتی۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے کسی ممکنہ ریفرنڈم کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ دنوں اس موضوع پر ہونے والی بحث نے عوامی اور سیاسی سطح پر دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل یہ جاننا چاہتی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ریفرنڈم کب کب ہوئے اور ان کے سیاسی اثرات کیا رہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریفرنڈم کا تصور 1977 کے سیاسی بحران کے بعد نمایاں ہوا، جب عام انتخابات کے نتائج پر شدید تنازع کھڑا ہوا اور ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع ہو گئی۔ اس بحران نے بالآخر مارشل لا کی راہ ہموار کی اور بعد میں آئینی ترمیم کے ذریعے ریفرنڈم کی گنجائش شامل کی گئی۔
ملک کی تاریخ کا پہلا ریفرنڈم 19 دسمبر 1984 کو جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں منعقد ہوا۔ اس ریفرنڈم میں بظاہر اسلامائزیشن سے متعلق سوال رکھا گیا، تاہم سیاسی حلقوں کے مطابق اس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے مزید پانچ سال کے لیے صدارت برقرار رکھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس ریفرنڈم کے نتائج اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔
اسی طرح اپریل 2002 میں جنرل پرویز مشرف نے بھی ریفرنڈم کے ذریعے مزید پانچ سال کے لیے صدارت کی توثیق حاصل کی۔ بعد ازاں عام انتخابات اور آئینی ترامیم کے ذریعے ان کی صدارت کو پارلیمانی حمایت بھی حاصل ہوئی، تاہم اس ریفرنڈم پر بھی سیاسی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آئیں۔
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے تیز، مزید 18 فلسطینی شہید
سیاسی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی قومی معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی کے لیے مکمل آئینی جواز، وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، آزادانہ اور شفاف انتخابی عمل اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا۔ ان کے مطابق یہی عوامل کسی بھی ریفرنڈم کو متنازع بننے سے بچا سکتے ہیں اور ملک کے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
