کیا امریکہ اور ایران کے مابین ایک اور امن معاہدہ ہونے والا ہے؟

خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں اور بڑھتے ہوئے علاقائی دباؤ کے بعد امریکا نے ایران پر مجوزہ فوجی حملے مؤخر کر دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ادھر قطر کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کیے گئے نئے منصوبے پر ایران نے اصولی آمادگی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد ممکنہ سمجھوتے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم گزرگاہوں کے کنٹرول، بحری راستوں کی نگرانی اور فیس وصولی جیسے اہم معاملات اب بھی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔________________________________________
مشرقِ وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری شدید کشیدگی کے دوران سفارت کاری نے ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ خلیجی ممالک کی متحرک کوششوں، قطر کی ثالثی اور سعودی عرب کی سفارتی مداخلت کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی، جس سے خطے میں فوری جنگ کے خدشات وقتی طور پر کم ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قطر نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ ایران کے سامنے رکھا ہے، جس کے تحت جہازوں کے لیے نئے ٹریفک روٹس متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اس منصوبے پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کی گزرگاہوں پر جزوی نگرانی اور مخصوص انتظامی اختیارات حاصل ہونے چاہییں، جبکہ بعض بحری خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا حق بھی دیا جائے۔
دوسری جانب امریکا ان مطالبات کی مخالفت کر رہا ہے اور یہی اختلافات تاحال مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود علاقائی ثالثوں کو امید ہے کہ مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے کسی قابل قبول حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
ادھر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق اس گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کیا گیا کیونکہ ممکنہ معاہدے کے بنیادی نکات پر پیشرفت ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ نہ ایران نے کسی حملے کو روکنے کی درخواست کی ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے بنیادی مؤقف میں کوئی تبدیلی کی ہے۔
ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق مسلح افواج مکمل الرٹ ہیں اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
اس دوران عراق کے کردستان ریجن میں ڈرون حملے، امریکی سفارت خانوں کی جانب سے سکیورٹی الرٹس اور امریکی شہریوں کو خطہ چھوڑنے کی ہدایات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن صورتحال اب بھی انتہائی حساس اور غیر یقینی ہے۔
امریکا ایران کے خلاف بڑے حملوں کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں فوجی کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے لیے تمام فریقوں کو اپنے بنیادی اختلافات مذاکرات کی میز پر حل کرنا ہوں گے۔
