ترکی اور قطر کی سفارتی کوششیں،کیا پاک افغان تعلقات کی بحالی ممکن ہے؟

ترک اور قطری اعلیٰ سطح کے وفود کا افغانستان کا غیر معمولی دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی، سرحدی بندش، تجارتی تعطل اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایک مشکل مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ترک انٹیلیجنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے افغانستان کے بعد اسلام آباد کا رخ کیا اور پاکستانی قیادت، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ اگرچہ ان ملاقاتوں کا مکمل ایجنڈا سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا، لیکن ترکی اور قطر کا ایک ہی وقت میں کابل پہنچنا اور اس کے بعد قالن کا اسلام آباد آنا اس امکان کو ضرور نمایاں کرتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعطل کا شکار رابطوں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ترک انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم قالن نے کابل اور قندھار میں افغان طالبان کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، انٹیلیجنس سربراہ عبدالحق وثیق اور نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر شامل تھے۔ ترک ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں ترکی اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون، علاقائی صورتحال، دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے خلاف اقدامات سمیت دیگر امور پر بات ہوئی۔
تاہم اس دورے کا سب سے اہم پہلو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی ممکنہ کوشش ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ترکی اور قطر ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی میں تعمیری کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق گزشتہ برس قطر اور ترکی کے ذریعے افغانستان کے ساتھ رابطے کیے گئے تھے، جبکہ چین نے بھی دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی۔
اسلام آباد کا بنیادی مؤقف بدستور واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اگر افغانستان اس معاملے میں تعاون کرتا ہے تو پاکستان سرحدیں کھولنے، تجارت بحال کرنے اور افغانستان کو علاقائی رابطوں کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستان نے تجارت اور ٹرانزٹ کے حوالے سے مختلف سہولتیں دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن پیش رفت سکیورٹی معاملات پر آ کر رک گئی۔
دوسری طرف طالبان حکومت طویل عرصے سے پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے۔ یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے بحران کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اگر مستقبل میں کسی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر سب سے مشکل مرحلہ یہی ہوگا کہ دونوں فریق سکیورٹی ضمانتوں، سرحدی انتظام، دہشت گردی اور ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال جیسے معاملات پر قابل عمل طریقۂ کار کیسے طے کرتے ہیں۔
ترکی اور قطر کے لیے بھی یہ معاملہ محض پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک پہلے بھی افغانستان کے حوالے سے سفارتی اور ثالثی کوششوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ اب ابراہیم قالن کا کابل کے بعد اسلام آباد پہنچنا ایک ایسا سفارتی تسلسل ضرور دکھاتا ہے جس میں دونوں جانب کے مؤقف کو سمجھنے اور ممکنہ طور پر کسی درمیانی راستے کی تلاش کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کی بحالی پر کوئی حتمی اتفاق ہوچکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا کابل اور اسلام آباد اپنے اپنے سخت مؤقف میں اتنی گنجائش پیدا کر سکتے ہیں کہ براہ راست یا ثالثی کے ذریعے دوبارہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگلا قدم افغان فریق کو اٹھانا ہوگا اور اسے دہشت گردی کے معاملے پر قابل تصدیق یقین دہانیاں دینا ہوں گی، جبکہ افغانستان کی طرف سے بھی اپنی سلامتی، خودمختاری اور سرحدی تحفظات کے حوالے سے ضمانتیں مانگی جا سکتی ہیں۔ اس صورت میں ممکنہ مذاکرات صرف سیاسی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے کسی باقاعدہ اور قابل عمل فریم ورک کی طرف بڑھنے ہوں گے۔
ابراہیم قالن کے دورہ افغانستان کے فوراً بعد پاکستان آمد نے اس سفارتی عمل کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ترک ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ان کی ملاقاتوں میں پاک ترک تعلقات کے ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال، سکیورٹی معاملات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی بھی زیر بحث آئی۔
یوں موجودہ صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا دروازہ مکمل طور پر بند دکھائی نہیں دیتا، لیکن اسے کھولنے کے لیے دونوں جانب سے عملی اقدامات درکار ہوں گے۔ اگر ترکی، قطر اور چین جیسی ریاستیں فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں اور کابل سکیورٹی معاملات پر قابل تصدیق یقین دہانیاں دینے پر آمادہ ہوتا ہے تو بات چیت کا نیا مرحلہ شروع ہونے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم مستقل حل اسی وقت ممکن ہوگا جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے انتظام پر متفق ہوں جو سرحد، تجارت، ٹرانزٹ اور دہشت گردی سمیت تمام بڑے تنازعات کو ایک ہی مذاکراتی فریم ورک میں لے آئے۔
