سعودی دفاع اور امریکہ ایران ثالثی،پاکستان مشکل میں کیوں پڑ گیا؟

مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن، سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے دفاعی تعاون اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں نے پاکستان کو ایک نہایت حساس سفارتی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اہم فریق بن چکا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے قریبی ہمسایہ اور سفارتی شراکت دار کے طور پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان اپنے دفاعی وعدوں، علاقائی مفادات اور سفارتی کردار کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھے گا؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا جبکہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع، بازداریت اور علاقائی امن کے لیے دفاعی نوعیت کا فریم ورک ہے۔

اس معاہدے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 31 اگست کو استنبول میں اس کے تحت قائم تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے، مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانے اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے اور ابتدائی تین سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

لیکن اسی دوران پاکستان ایران کے ساتھ اپنے سفارتی رابطے بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں شریک رہا ہے۔ اگست میں وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطوں میں علاقائی امن، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ پاکستانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

یہی صورتحال پاکستان کے لیے اصل سفارتی چیلنج پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری محض رسمی تعلق نہیں رہی بلکہ اسے ایک باقاعدہ دفاعی فریم ورک میں تبدیل کیا جا چکا ہے، جبکہ ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد، تجارت، توانائی اور علاقائی سلامتی جیسے براہِ راست مفادات وابستہ ہیں۔ چنانچہ اسلام آباد کے لیے کسی ایک علاقائی فریق کے ساتھ ایسا تعلق اختیار کرنا جو دوسرے کے خلاف تصور ہو، سفارتی اور سلامتی کے اعتبار سے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

جرمن ماہر سیاسیات ڈاکٹر ڈیٹرش ریٹس کے مطابق پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات اور ایران کے ساتھ عملی روابط میں توازن برقرار رکھنا ہمیشہ ایک اہم چیلنج رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں یہ توازن مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور مشرق وسطیٰ کے امور سے وابستہ ماہر پروفیسر شبنم دلفانی کے مطابق پاکستان کے لیے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے سعودی ایران کشیدگی کا براہِ راست فریق بننے سے گریز کرے۔ یہ دونوں آراء اسی بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دفاعی تعاون اور براہِ راست جنگ میں شمولیت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

پاکستانی حکام بھی مکہ معاہدے کو علاقائی تصادم کے بجائے دفاعی اور امن کے فریم ورک کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کی عملی تعبیر صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی رابطوں کو بھی اس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے ایک اضافی اہمیت اس کی ایران اور امریکہ کے درمیان رابطہ کاری کی کوششوں سے پیدا ہوئی ہے۔ اسلام آباد نے حالیہ مہینوں میں تہران کے ساتھ رابطے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو اپنی علاقائی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان مذاکرات، تحمل اور مسلسل سفارت کاری کو خطے میں پائیدار امن کا راستہ سمجھتا ہے۔

اس تناظر میں پاکستان کے سامنے بنیادی چیلنج یہ نہیں کہ وہ سعودی عرب یا ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے مختلف تعلقات کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے کیسے روکے۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے تقاضے، ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات، امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط اور پاکستان کے اپنے معاشی و سلامتی مفادات بیک وقت سامنے ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں اسلام آباد کے لیے ہر قدم کے سفارتی اثرات پہلے سے زیادہ اہم ہو جائیں گے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کی پالیسی کے لیے سب سے اہم عنصر اس کی سفارتی گنجائش برقرار رکھنا ہے۔ مکہ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا اور ساتھ ہی علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کرنا پاکستان کو ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی مقام پر رکھتا ہے۔ تاہم اس کردار کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کس سمت جاتی ہے اور پاکستان اپنے دفاعی وعدوں اور سفارتی ترجیحات کے درمیان عملی حد بندی کس طرح قائم کرتا ہے۔

یوں سعودی دفاعی شراکت داری اور ایرانی سفارتی رابطے بظاہر دو مختلف سمتیں ہیں، لیکن پاکستان کے لیے دونوں اس کی ایک ہی خارجہ پالیسی کی حقیقت کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد کے لیے اصل آزمائش یہ ہوگی کہ وہ مکہ معاہدے کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطے کا دروازہ بھی کھلا رکھے اور خود کو کسی وسیع علاقائی تصادم کا براہِ راست فریق بننے سے بچائے۔ موجودہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں یہی توازن پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا سب سے حساس پہلو بنتا جا رہا ہے۔

Back to top button