27ستمبراحتجاج،کیاPTI ایک بار پھریوٹرن لینے والی ہے؟

اسلام آباد کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان محاذ آرائی بڑھنے کے خدشات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم نظر آتی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت عدالتی احکامات اور ریاستی انتظامی طاقت کے استعمال کے ذریعے احتجاج کو روکنے کے لیے سخت پوزیشن اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ معاملہ آخری مرحلے میں پہنچنے پر تحریک انصاف ممکنہ طور پر پیچھے ہٹ جائے گی اور لانگ مارچ نہیں کرے گی۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد حکومت کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر احتجاج عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی صورت اختیار کرتا ہے تو ریاستی ادارے کارروائی کریں گے۔ نجم سیٹھی نے محسن نقوی کے بیان میں استعمال ہونے والے ’’گولی‘‘ کے لفظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ احتجاج میں ایسے عناصر شامل ہو سکتے ہیں جو صورتحال کو پرتشدد بنا دیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ سہیل آفریدی نے پہلے صوابی اور ہری پور میں جلسوں کے بعد اسلام آباد جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کرنے کی بات کی ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق حکومت ایک طرف عدالتی حکم کو بنیاد بنا رہی ہے اور دوسری جانب ریاستی طاقت کے استعمال کا عندیہ دے رہی ہے، جس کے باعث ان کے خیال میں آخری مرحلے پر تحریک انصاف لانگ مارچ سے گریز کر سکتی ہے۔ تاہم یہ نجم سیٹھی کا تجزیہ ہے، حتمی سیاسی فیصلہ تحریک انصاف کی قیادت ہی کرے گی۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ احتجاج پر عدالتی حکم کا دائرہ کار صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں بتایا جا رہا۔ نجم سیٹھی نے جماعت اسلامی کے ممکنہ اسلام آباد قافلے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر حکم لانگ مارچ کے خلاف ہے تو اس کا اطلاق دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی کس حد تک ہوگا۔ ان کے مطابق اگر مختلف سیاسی جماعتیں ایک ہی وقت میں اسلام آباد کا رخ کرتی ہیں تو انتظامی اور قانونی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ سیاسی منظرنامے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا بحران، احتجاجی سیاست اور ریاستی ردعمل ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے اس تناظر میں ستمبر اور اکتوبر کو مشکل مہینے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک ہی وقت میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال، کشمیر سے متعلق معاملات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پاکستان کے لیے اضافی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے اعلان کردہ احتجاج کو کس حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے اور حکومت عدالتی احکامات اور انتظامی اقدامات کو کس انداز میں نافذ کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی بیانات کے بجائے عملی فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ کشیدگی احتجاج، مذاکرات یا کسی نئے سیاسی فارمولے کی طرف جاتی ہے۔ اس لیے ستمبر اور اکتوبر کا سیاسی منظرنامہ پاکستان کی داخلی سیاست کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
