AIنے امریکہ اور چین کو جنگ کے دہانے پر کیسے پہنچایا؟

مصنوعی ذہانت کو جہاں دنیا بھر میں تیزی سے فیصلہ سازی، تحقیق اور معلومات کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں اس کے غلط استعمال یا غلط نتائج پر اندھا اعتماد اب عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا خطرہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی میڈیا سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ایک غلط انٹیلی جنس رپورٹ نے امریکی فوج کو چین کے خلاف ممکنہ کارروائی کے انتہائی قریب پہنچا دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران سامنے آیا۔ امریکی فوجی حکام کو ایسی معلومات موصول ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ایک چینی جہاز ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ اجزا یا سامان منتقل کر رہا ہے۔ یہ اطلاع معمولی نوعیت کی نہیں تھی، کیونکہ اگر ایک چینی جہاز کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کے لیے حساس سامان منتقل کیے جانے کی تصدیق ہوجاتی تو اس کے سفارتی اور عسکری اثرات انتہائی سنگین ہوسکتے تھے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج نے موصول ہونے والی معلومات کو سنجیدگی سے لیا اور چینی جہاز کے خلاف کارروائی کی تیاری شروع کردی۔ امریکی لڑاکا طیاروں کو بھی حرکت میں لایا گیا اور صورتحال اس مقام تک پہنچ گئی جہاں جہاز پر کارروائی کسی بھی وقت شروع ہوسکتی تھی۔ لیکن کارروائی سے عین قبل جب رپورٹ کا مزید تفصیلی جائزہ لیا گیا تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ جس انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر یہ کارروائی تیار کی جا رہی تھی، اس میں بنیادی معلومات ہی غلط تھیں۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ رپورٹ تیار کرنے والے تجزیہ کار نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک چیٹ بوٹ استعمال کیا تھا۔ چیٹ بوٹ نے جہاز پر موجود کارگو اور اشیا کی شناخت میں غلطی کی اور دستیاب معلومات کو اس انداز میں جوڑ دیا کہ ایک ایسا نتیجہ سامنے آیا جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ مصنوعی ذہانت نے ایک چیز کی غلط شناخت کی۔ اصل خطرہ یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی غلط معلومات کو انٹیلی جنس تجزیے کا حصہ بنا کر اسے عملی عسکری فیصلے کے قریب پہنچا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ تجزیہ کار نے چیٹ بوٹ سے جہاز پر موجود کارگو کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ پیسیفک سے حاصل شدہ معلومات کو بھی استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق چیٹ بوٹ نے اوپن سورس معلومات اور انٹیلی جنس ڈیٹا کو آپس میں ملا دیا۔ نتیجتاً جہاز میں موجود سامان کے بارے میں ایک ایسی تصویر سامنے آئی جو درست نہیں تھی۔ یہاں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے: مصنوعی ذہانت معلومات کو انتہائی تیزی سے جمع، ترتیب اور تجزیہ کرسکتی ہے، لیکن اگر بنیادی معلومات غلط، نامکمل یا مبہم ہوں تو نتیجہ بھی غلط ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود مشین کی جانب سے پیش کیا گیا جواب بظاہر اتنا منظم اور پُراعتماد ہوسکتا ہے کہ انسان اسے درست سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے۔
اس واقعے کی سب سے تشویشناک بات یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی غلطی محض ایک رپورٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ مبینہ طور پر اس کا اثر ایک ممکنہ فوجی کارروائی تک پہنچ گیا۔ اگر آخری لمحے میں رپورٹ کا دوبارہ جائزہ نہ لیا جاتا تو صورتحال کیا رخ اختیار کرتی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ چین اور امریکا دنیا کی دو بڑی عسکری اور معاشی طاقتیں ہیں، اس لیے ایک چینی جہاز کے خلاف امریکی فوجی کارروائی دونوں ملکوں کے درمیان شدید بحران پیدا کرسکتی تھی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایک اور بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ حساس فوجی اور انٹیلی جنس معاملات میں مصنوعی ذہانت پر اعتماد کی حد کہاں تک ہونی چاہیے؟ کیا مشین کے تیار کردہ تجزیے کو انسانی تصدیق کے بغیر کسی عملی فیصلے کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟ جدید جنگ میں جہاں فیصلے بعض اوقات منٹوں بلکہ سیکنڈوں میں کرنا پڑتے ہیں، وہاں مصنوعی ذہانت کی رفتار بلاشبہ ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اسی رفتار کے ساتھ غلطی کے نتائج بھی غیر معمولی طور پر بڑے ہوسکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی خوبی اس کی تیز رفتاری اور وسیع پیمانے پر معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک انسان جس ڈیٹا کو گھنٹوں یا دنوں میں دیکھ سکتا ہے، مصنوعی ذہانت اسے چند لمحوں میں ترتیب دے سکتی ہے۔ لیکن یہی سہولت خطرناک بھی بن سکتی ہے اگر مشین کے نتیجے کو حتمی حقیقت سمجھ لیا جائے۔ مصنوعی ذہانت خود سے یہ ضمانت نہیں دیتی کہ ہر نتیجہ درست ہوگا۔ وہ دستیاب معلومات، اپنے ماڈل اور سوال کے انداز کی بنیاد پر جواب تیار کرتی ہے، اور بعض اوقات ایسی معلومات بھی اعتماد کے ساتھ پیش کرسکتی ہے جو حقیقت میں غلط ہوں۔
اس معاملے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ چیٹ بوٹ نے معلومات کہاں سے حاصل کیں اور اس نے مختلف ذرائع کو کس طریقے سے باہم ملایا۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ استعمال کیا جانے والا چیٹ بوٹ کوئی تجارتی مصنوعہ تھا یا امریکی حکومت کی جانب سے تیار کردہ نظام۔ یہ تفصیل اس لیے اہم ہے کیونکہ حساس فوجی معلومات کے معاملے میں ڈیٹا کی حفاظت، ماڈل کی تربیت، معلومات کے ذرائع اور نظام کی قابل اعتماد حیثیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ واقعہ دنیا بھر کی فوجی طاقتوں کے لیے ایک سبق بھی ہوسکتا ہے۔ مستقبل کی جنگیں صرف میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں سے نہیں لڑی جائیں گی بلکہ معلومات اور مصنوعی ذہانت بھی جنگی طاقت کا اہم حصہ ہوں گی۔ جو ملک دشمن کی نقل و حرکت، سیٹلائٹ تصاویر، مواصلاتی ڈیٹا اور دیگر معلومات کو زیادہ تیزی سے سمجھ سکے گا، اسے فیصلہ سازی میں فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر یہی نظام غلط معلومات کو درست سمجھ کر پیش کرے تو یہی تکنیکی برتری خطرناک کمزوری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان پہلے ہی تجارت، ٹیکنالوجی، بحیرہ جنوبی چین، تائیوان اور عالمی اثر و رسوخ سمیت متعدد معاملات پر کشیدگی موجود رہی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی چینی فوجی یا تجارتی جہاز کے خلاف غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی کا امکان محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ ایک بڑے بین الاقوامی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال میں انسانی نگرانی کا سوال انتہائی اہم بنتا جا رہا ہے۔ مشین معلومات کا تجزیہ کرسکتی ہے، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرسکتی ہے اور متعدد منظرنامے سامنے لاسکتی ہے، لیکن کسی ایسے فیصلے سے پہلے جس کے نتیجے میں کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی ہوسکتی ہو، آزاد انسانی تصدیق اور متعدد ذرائع سے معلومات کی جانچ انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔
اس واقعے میں مبینہ طور پر آخری مرحلے پر ہونے والی اضافی جانچ نے ایک ممکنہ تباہ کن غلطی کو روک دیا۔ لیکن اس سے یہ سوال ختم نہیں ہوتا کہ اگر دوسری بار جانچ نہ کی جاتی تو کیا ہوتا؟ اگر لڑاکا طیارے کارروائی شروع کردیتے، اگر چینی جہاز کو نشانہ بنایا جاتا اور اگر چین اسے براہ راست حملہ تصور کرتا تو صورتحال چند گھنٹوں میں ایک بڑے عسکری اور سفارتی بحران میں تبدیل ہوسکتی تھی۔
یوں مصنوعی ذہانت کے دور میں اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ مشین کتنی ذہین ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اس کی معلومات کو کس حد تک جانچتا اور سمجھتا ہے۔ جنگ اور امن کے درمیان فرق بعض اوقات صرف ایک غلط اطلاع، ایک غلط شناخت یا ایک غلط فیصلے کا ہوسکتا ہے۔
یہ واقعہ اگر رپورٹ کے مطابق درست ثابت ہوتا ہے تو دنیا کے لیے ایک اہم انتباہ ہے: مصنوعی ذہانت جنگ کو زیادہ تیز بنا سکتی ہے، لیکن اگر غلط معلومات کو انسانی تصدیق کے بغیر فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تو یہی رفتار بحران کو بھی اتنی ہی تیزی سے آگے بڑھا سکتی ہے۔ مستقبل کی جنگوں میں شاید سب سے خطرناک ہتھیار صرف میزائل یا ڈرون نہ ہوں، بلکہ وہ غلط معلومات بھی ہوسکتی ہیں جنہیں ایک طاقتور مشین نے انتہائی اعتماد کے ساتھ درست قرار دے دیا ہو۔
