پاکستان میں بڑھتی دہشتگردی کا اصل سرغنہ کون؟ خفیہ نیٹ ورک بے نقاب

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پس منظر میں ایک ایسی انٹیلی جنس رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے خطے کی پہلے سے پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال پر ایک بار پھر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘، افغانستان کے انٹیلی جنس نظام اور طالبان حکومت کی اعلیٰ قیادت کے بعض عناصر کے درمیان مبینہ طور پر ایسا نیٹ ورک سرگرم ہے جس کے ذریعے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے والے مسلح گروہوں کو تربیت، مالی معاونت اور پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔ اگر اس دستاویز میں بیان کیے گئے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ محض سرحد پار دہشت گردی کا نہیں بلکہ خطے میں ایک پیچیدہ پراکسی نیٹ ورک کے وجود کا سوال بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے لیے بطور لانچ پیڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان میں علیحدگی پسند اور عسکریت پسند سرگرمیوں کی معاونت کے لیے استعمال کرتا ہے اور اسلام آباد مختلف سفارتی فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت اور افغان طالبان ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، اس لیے سامنے آنے والے دعووں کی آزادانہ تصدیق ایک اہم سوال برقرار ہے۔

تازہ دعووں کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ مبینہ دستاویز میں کسی ایک گروہ یا ایک محدود واقعے کی بات نہیں کی گئی بلکہ ایک ایسے مکمل نیٹ ورک کا ذکر کیا گیا ہے جس میں مختلف سطحوں پر مبینہ رابطوں اور سہولت کاری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک میں بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو اہم پراکسی عناصر کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جبکہ القاعدہ برصغیر کو بھی مبینہ طور پر اسی وسیع نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان مبینہ تعاون تقریباً 2025 کے دوران زیادہ نمایاں ہوا اور اس کی بنیاد افغانستان میں پہلے سے موجود تربیتی ڈھانچے پر رکھی گئی۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان مبینہ تربیتی مراکز کو افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس سے حمایت حاصل رہی۔ تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں حتمی ثابت شدہ حقیقت کے بجائے پاکستانی انٹیلی جنس کا مؤقف سمجھنا ضروری ہے۔

یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے بڑا سیکیورٹی خطرہ ہیں۔ اگست 2026 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان نے افغان طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

اسی سلسلے میں پاکستانی حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں افغانستان سے جڑے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں اور گرفتاریوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ 16 ستمبر کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک گرفتار شخص کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کے افغانستان سے رابطے تھے اور حکومت کے مطابق وہ دہشت گردی کے ایک نیٹ ورک میں سہولت کاری کر رہا تھا۔ حکومتی مؤقف میں افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی مبینہ پراکسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستانی حکام کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ افغانستان اب صرف سرحد پار موجودگی رکھنے والے چند مسلح گروہوں کا معاملہ نہیں رہا بلکہ وہاں مبینہ طور پر ایسے نیٹ ورکس موجود ہیں جو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت، مالی معاونت اور لاجسٹک سہولت کاری میں مدد دیتے ہیں۔ اس مؤقف کے مطابق اگر افغانستان میں موجود یہ ڈھانچے ختم نہ کیے گئے تو پاکستان کے لیے سرحد پار دہشت گردی کا خطرہ برقرار رہے گا۔

لیکن اس پوری صورتحال کا دوسرا پہلو بھی اہم ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت اور بھارت دونوں ہی پاکستان کے ایسے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبینہ خفیہ دستاویز میں موجود دعووں کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تصدیق انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔ انٹیلی جنس معلومات عام طور پر مکمل طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں، اس لیے کسی بھی خفیہ دستاویز کے دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے متعدد آزاد ذرائع سے اس کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔

اس کے باوجود اگر پاکستانی انٹیلی جنس کے دعووں کو علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بات واضح ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکیورٹی کا مسئلہ ایک دوسرے سے جڑ چکا ہے۔ افغانستان میں موجود مسلح گروہ، پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی، بھارت اور پاکستان کی باہمی کشیدگی اور خطے میں مختلف گروہوں کی مبینہ پراکسی سرگرمیاں ایک ایسا پیچیدہ ماحول پیدا کر رہی ہیں جس میں کسی ایک واقعے کے اثرات کئی ملکوں تک پھیل سکتے ہیں۔

خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے لیے براہ راست سیکیورٹی چیلنج ہیں۔ اگر کسی گروہ کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہ، تربیت یا مالی معاونت میسر ہو تو مقامی سطح پر سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سرحدی حکمت عملی بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد بار بار افغان حکام سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

دوسری طرف اس صورتحال کا ایک بڑا سفارتی پہلو بھی ہے۔ پاکستان اگر بین الاقوامی سطح پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ افغان سرزمین سے اس کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور معاونت ہورہی ہے تو اسے قابل تصدیق شواہد، گرفتار افراد کے بیانات، مالیاتی شواہد، مواصلاتی ریکارڈ اور دیگر قابل جانچ معلومات عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا ہوں گی۔ محض الزامات یا سیاسی بیانات کے بجائے قابل تصدیق شواہد کسی بھی بین الاقوامی سفارتی مہم کو زیادہ وزن دے سکتے ہیں۔

اسی طرح بھارت اور طالبان حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم سفارتی سوال ہے کہ وہ ان الزامات کا جواب کس انداز میں دیتے ہیں اور کیا وہ کسی آزادانہ تحقیقات یا قابل اعتماد بین الاقوامی تصدیق کے عمل میں تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو شفاف تحقیقات انہیں رد کرنے کا مؤثر راستہ فراہم کرسکتی ہیں، جبکہ اگر کسی سطح پر خفیہ تعاون یا سہولت کاری ثابت ہوتی ہے تو اس کے علاقائی اثرات کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا افغانستان ایک بار پھر مختلف مسلح گروہوں کے لیے ایسی جگہ بن رہا ہے جہاں سے خطے کے دوسرے ممالک کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ پاکستان مسلسل اس خدشے کا اظہار کر رہا ہے، جبکہ افغان طالبان اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اس لیے اصل فیصلہ کن چیز آنے والے دنوں میں سامنے آنے والے قابل تصدیق شواہد ہوں گے۔

پاکستان کے لیے چیلنج صرف دہشت گردی کے حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان حملوں کے مبینہ بیرونی نیٹ ورک کو بھی سمجھنا اور توڑنا ہے۔ اگر واقعی مختلف گروہوں کے درمیان مالی، تربیتی اور لاجسٹک روابط موجود ہیں تو ان کا مقابلہ صرف فوجی کارروائی سے نہیں بلکہ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، مالیاتی نظام کی نگرانی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے بھی کرنا ہوگا۔

یوں ’’را، طالبان اور پراکسی نیٹ ورک‘‘ سے متعلق تازہ دعوے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود سیکیورٹی تنازعے کو ایک نئے مرحلے میں لے آئے ہیں۔ فی الحال سامنے آنے والی معلومات پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع اور ایک مبینہ خفیہ دستاویز پر مبنی ہیں، اس لیے ان تمام دعووں کو آزادانہ تصدیق کے مرحلے سے گزرنا باقی ہے۔ لیکن اگر مستقبل میں مزید شواہد ان دعووں کی تائید کرتے ہیں تو یہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے تعلقات کے ساتھ ساتھ پورے خطے کی سیکیورٹی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی تنازع موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے اس مبینہ ڈھانچے کے پیچھے اصل روابط کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں، اس میں کون کون سے عناصر شامل ہیں اور ان کے خلاف قابل تصدیق شواہد کب اور کس سطح پر سامنے آتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہی سوال اس پورے معاملے کی اصل سمت متعین کرے گا۔

Back to top button