27ستمبر،یوتھیوں کی شرانگیزی کی تیاریاں جاری،بڑے تصادم کا خطرہ

27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی مبینہ تیاریوں نے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پشاور سے آنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غلیلوں کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، بعض مقامات پر ڈنڈے جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ آنسو گیس سے بچاؤ کے لیے ماسک اور دیگر ضروری اشیا بھی بڑی تعداد میں خریدی جا رہی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ پی ٹی آئی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج پرامن ہوگا اور کارکنوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں یا غلیلیں نہیں ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق پشاور کی بعض مارکیٹوں میں غلیلوں کی طلب بڑھنے سے ان کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لانگ مارچ کے دوران ممکنہ طور پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقسام کے ماسک، نمک، موبائل چارجرز، بیٹریاں اور دیگر اشیا بھی خریدی جا رہی ہیں۔ پشاور کے مختلف علاقوں میں ادویات کی خریداری میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں نزلہ، زکام، کھانسی، بخار اور الرجی کی ادویات کے ساتھ ساتھ ابتدائی طبی امداد کے لیے مرہم پٹی اور درد کش ادویات شامل بتائی جاتی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی کارکنوں کی تیاریوں کی اطلاعات ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق خشک میوہ جات، چنے، مونگ پھلی، چائے کی پتی، چینی اور گیس سلنڈر جیسی اشیا بھی خریدی جا رہی ہیں، جسے بعض حلقے طویل قیام کی تیاری سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان خریداریوں کا کتنا حصہ واقعی لانگ مارچ کے لیے ہے اور کتنا معمول کی یا مقامی ضروریات سے متعلق ہے۔
دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں غلیلوں اور ماسک کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاریوں سے متعلق ویڈیوز اور دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ میں غلیلیں تیار کرنے اور ماسک استعمال کرنے کی ویڈیو کا ذکر کیا گیا، تاہم اس ویڈیو میں موجود افراد کی شناخت اور مقام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ اسی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے ایسے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ویڈیو میں موجود افراد کو پی ٹی آئی سے منسلک ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
یہاں سیاسی صورتحال کا دوسرا رخ بھی اہم ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے احتجاج کو ’’انصاف مارچ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے پرامن رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا، راستے بند کرنے یا اشتعال پھیلانے کا ارادہ نہیں اور تمام اپوزیشن جماعتوں سے بھی احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا ہے کہ کارکن اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اسلام آباد آئیں گے اور کسی بھی قسم کے تشدد سے گریز کیا جائے گا۔ اس کے برعکس حکومت نے اسلام آباد میں ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ دارالحکومت کی جانب مارچ روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے شاہراہوں، سڑکوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضے سے متعلق قانونی حدود کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یوں 27 ستمبر کا احتجاج محض ایک سیاسی جلسے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے گرد تیاریوں، سکیورٹی انتظامات، حکومتی اقدامات اور ممکنہ کشیدگی کے خدشات نے اسے ملک کی اہم سیاسی پیش رفت بنا دیا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی قیادت پرامن احتجاج اور سیاسی حقوق کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف بعض ذرائع کارکنوں کی ایسی تیاریوں کے دعوے کر رہے ہیں جو تصادم کے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ اصل صورتحال 27 ستمبر کو ہی واضح ہوگی، لیکن اس سے پہلے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ سیاسی احتجاج کس حد تک پرامن، قانونی اور منظم رہتا ہے اور حکومت و احتجاج کرنے والی جماعت دونوں کشیدگی کو کم رکھنے کے لیے کیا عملی اقدامات کرتے ہیں۔
