نئے صوبوں کا بڑا منصوبہ، مارچ 2027ء میں کیا ہونے والا ہے؟

پاکستان کی سیاست میں بعض تاریخیں اچانک معمول کی سیاسی سرگرمیوں سے نکل کر بڑے سوالات کی علامت بن جاتی ہیں۔ مارچ 2027ء بھی ایسی ہی ایک تاریخ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ سوال صرف سینیٹ انتخابات کا نہیں، بلکہ اس کے گرد گھومنے والے اس بڑے سیاسی اور آئینی مباحثے کا ہے جس میں پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے، نئے صوبوں، مقامی حکومتوں کے اختیارات، وسائل کی تقسیم اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مستقبل پر گفتگو تیز ہوگئی ہے۔ اگر موجودہ بحث محض سیاسی بیانات تک محدود نہ رہی اور اسے باقاعدہ آئینی عمل کی طرف لے جایا گیا تو مارچ 2027ء تک پاکستان کے انتظامی نقشے اور مرکز و صوبوں کے تعلقات پر ایک بڑی بحث فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔
نئے صوبوں کا معاملہ ایک بار پھر قومی سیاسی بحث کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حال ہی میں ملک میں 12 سے 15 صوبوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے مسائل موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے پارلیمان میں اس معاملے پر بحث کی بات بھی سامنے آچکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موضوع اب محض سیاسی نعرے تک محدود نہیں رہا۔ تاہم کسی بھی حتمی فیصلے کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور آئینی عمل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
نئے صوبوں کا قیام صرف نقشے پر نئی سرحدیں بنانے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ نئی اسمبلیاں، انتظامی ڈھانچے، بیوروکریسی، مالیاتی نظام، پولیس اور دیگر اداروں کی تشکیل کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ اس لیے اصل بحث یہ ہے کہ نئے صوبے عوام کو حکومت کے قریب لائیں گے یا اس کے نتیجے میں انتظامی اخراجات اور حکومتی ڈھانچہ مزید وسیع ہوجائے گا۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن اس کے بعد یہ سوال بھی مسلسل اٹھتا رہا ہے کہ کیا اختیارات اور وسائل صوبائی دارالحکومتوں سے نچلی سطح تک منتقل ہوئے ہیں۔ نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے حکومت کو عوام کے قریب لایا جاسکتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ مقامی حکومتوں کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینا بھی ضروری ہوگا۔
اسی تناظر میں قومی مالیاتی کمیشن اور وسائل کی تقسیم کا سوال انتہائی اہم ہے۔ اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو قومی محاصل، ترقیاتی بجٹ اور مالی وسائل کی تقسیم کا موجودہ نظام بھی نئے سرے سے ترتیب دینا پڑ سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کو براہ راست مالی وسائل دینے کی تجاویز بھی اسی بحث کا حصہ ہیں، تاہم ان کے لیے واضح آئینی اور قانونی طریقۂ کار درکار ہوگا۔
مارچ 2027ء میں ہونے والے سینیٹ انتخابات بھی اس بحث کو سیاسی اہمیت دیتے ہیں۔ سینیٹ کے متعدد ارکان کی مدت اسی عرصے میں مکمل ہورہی ہے، اس لیے اس دوران ہونے والی بڑی آئینی یا انتظامی پیش رفت کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہوسکتے ہیں۔ لیکن فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مارچ تک نئے صوبوں کا منصوبہ لازماً عملی شکل اختیار کرلے گا۔ موجودہ صورتحال میں تجاویز اور پارلیمانی بحث کی بات تو سامنے آئی ہے، مگر کوئی حتمی آئینی مسودہ یا نئے صوبوں کا منظور شدہ نقشہ سامنے نہیں آیا۔
آئینی طریقۂ کار بھی اس معاملے کو پیچیدہ بناتا ہے۔ اگر کسی آئینی ترمیم سے صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہیں تو آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی بھی دو تہائی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس لیے محض وفاقی حکومت یا پارلیمان کی سادہ اکثریت سے صوبوں کی حدود تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔
ریفرنڈم کی بات بھی اسی لیے احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آئین کے آرٹیکل 48(6) کے تحت قومی اہمیت کے کسی معاملے پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری کے بعد ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر صوبائی حدود تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہو تو آرٹیکل 239 کی شرائط اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عملے یا پولنگ اسٹیشنوں کا ڈیٹا جمع کرنا بھی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کسی ریفرنڈم یا قبل از وقت انتخاب کی تیاری ہورہی ہے۔ ایسے انتظامی اعداد و شمار انتخابی تیاریوں کے معمول کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کسی خفیہ سیاسی منصوبے کا نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہوں گے۔
اگر نئے صوبوں کا معاملہ واقعی آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف انتظامی حدود تک محدود نہیں رہیں گے۔ سیاسی جماعتوں کو تنظیم نو کرنا ہوگی، نئی حلقہ بندیاں ہوں گی، بیوروکریسی کے اختیارات تبدیل ہوں گے اور کئی موجودہ سیاسی طاقت کے مراکز کی حیثیت بدل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کا سوال دراصل پاکستان میں سیاسی طاقت، وسائل اور نمائندگی کی نئی تقسیم کا سوال بھی ہے۔
اس سارے عمل میں سب سے بڑا امتحان سیاسی اتفاق رائے ہوگا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی موجودہ سیاسی، تاریخی اور علاقائی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کسی بھی نئے انتظامی نقشے کے لیے وسیع سیاسی مشاورت ضروری ہوگی۔ اگر یہ معاملہ صرف ایک جماعت یا حکومت کا منصوبہ بن گیا تو مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے، لیکن اگر اسے قومی سطح کی انتظامی اصلاحات کے طور پر سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو بحث ایک مختلف سمت اختیار کرسکتی ہے۔
چنانچہ مارچ 2027ء کو اس وقت قطعی طور پر ’’فیصلہ کن گھڑی‘‘ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ نئے صوبوں، مقامی حکومتوں اور اختیارات کی نئی تقسیم کا موضوع دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں آچکا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ یہ بحث سیاسی بیانات سے نکل کر پارلیمان، آئینی مسودے اور صوبائی اسمبلیوں کی منظوری تک پہنچتی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو مارچ 2027ء پاکستان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے؛ بصورت دیگر یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی وعدوں اور بحثوں تک محدود رہ سکتا ہے۔
