PTI کا احتجاج، جماعت اسلامی کا دھرنا، حکومت کیلئے اصل چیلنج کیا؟

پاکستان میں ایک ہی وقت میں دو مختلف احتجاجی محاذ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج پر زور دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج اور ممکنہ اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کی اصل توجہ کس احتجاج پر ہے اور کیا جماعت اسلامی کے معاملے میں بھی وہی سخت حکمت عملی اختیار کی جائے گی جو تحریک انصاف کے حوالے سے دکھائی دے رہی ہے؟

جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت پٹرولیم لیوی کے معاملے پر قابل قبول ریلیف دے دے تو اسلام آباد میں دھرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات بھی ہوئے ہیں، جن میں جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے متعدد تجاویز پیش کیں۔ حکومت نے ان تجاویز کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے بھی مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔

پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے ایک اہم مالیاتی ذریعہ ہے، اس لیے اس میں کمی کا براہ راست تعلق حکومتی آمدنی سے بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے لیے مکمل خاتمے کے بجائے کسی مرحلہ وار کمی، ہدفی ریلیف یا متبادل مالیاتی انتظام پر غور زیادہ عملی راستہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ حکومتی بریفنگز میں موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ہدفی سبسڈی سمیت مختلف ریلیف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی میں مزید کمی کو بنیادی مطالبہ قرار دیا ہے۔

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور ریاستی اداروں کی سب سے زیادہ توجہ تحریک انصاف کے احتجاج اور 27 ستمبر کی ممکنہ سرگرمیوں پر ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے احتجاج کو نسبتاً مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے خیال میں جماعت اسلامی کا پرامن احتجاج حکومت کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی ایک وجہ ہے۔ تاہم اگر جماعت اسلامی اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دینے میں کامیاب ہوتی ہے تو دارالحکومت میں احتجاجی سرگرمیوں کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کا اثر تحریک انصاف کے آئندہ احتجاج پر بھی پڑ سکتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں دونوں احتجاجی سرگرمیوں کے درمیان سیاسی تعلق نمایاں ہوتا ہے۔ اگر ایک جماعت کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت یا عملی گنجائش ملتی ہے تو دوسری جماعت بھی اسے اپنے احتجاج کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت کے لیے معاملہ صرف جماعت اسلامی کے مطالبات تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں کے مجموعی نظم و نسق سے بھی جڑا ہوا ہے۔

جماعت اسلامی کی حکمت عملی بھی محض اسلام آباد پہنچنے تک محدود نظر نہیں آتی۔ اس کے لیے اصل سیاسی مقصد پٹرولیم لیوی پر ایسا ریلیف حاصل کرنا ہے جسے وہ اپنے کارکنوں اور عوام کے سامنے قابل قبول کامیابی کے طور پر پیش کر سکے۔ دوسری طرف حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے اور دوسری طرف سرکاری آمدنی پر پڑنے والے اثرات کو بھی سنبھالا جائے۔

یوں آنے والے دنوں میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کی سمت انتہائی اہم ہوگی۔ اگر لیوی میں کمی یا کسی متبادل ریلیف پر اتفاق ہوجاتا ہے تو احتجاجی کشیدگی کم ہوسکتی ہے، لیکن اگر مذاکرات بے نتیجہ رہے تو جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ یا دھرنے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اسی دوران تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا احتجاج بھی سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ حکومت احتجاجی سیاست کو کس حد تک مذاکرات کے ذریعے سنبھالتی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مطالبات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔

Back to top button