غلط بیانی پر نیب چیئرمین کے خلاف نااہلی کا ریفرنس

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال وزیراعظم عمران خان کا ایک مشکوک خط قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں جمع کروانے کے بعد مشکل میں پھنستے دکھائی دیتے ہیں چونکہ حکومت نے اس خط سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا یے جس میں چیئرمین نیب کو پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونے سے استثنیٰ دینے کی بات کی گئی تھی۔

چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین کے مطابق چیئرمین نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے طلب کیے جانے پر پیش ہونے کی بجائے ایک خط بھجوا دیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے نیب چیئرمین کو پیشی سے استثنی دے دیا ہے۔ تاہم جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اپوزیشن اراکین نے اس خط پر اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تو وفاقی حکومت نے فوری خط سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ بعد ازاں نیب والے بھی خط سے دستبردار ہو گے اور موقف اختیار کیا کہ اس میں وزیراعظم کا نام غلطی سے لکھا گیا، تاہم رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ یہ خط چونکہ چیئرمین نیب کے ایما پر لکھا گیا لہذا ان کیخلاف نا اہلی کا ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر نے کہا ہے کہ چئیرمین نیب کی جانب سے پی اے سی میں پیش نہ ہونے کے حوالے سے لکھے گئے خط کے جھوٹے یا سچا ہونے کی تحقیقات کر رہے ہیں، جس کے نتائج کی روشنی میں قانون کے مطابق چئیرمین نیب کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں (ن) لیگ کے رہنما اور چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ چیئرمین نیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو لکھے خط سے دستبردار ہوئے اور کہا کہ وزیراعظم کا نام غلطی سے گیا،خط چیئرمین کے علم سے جاری ہوا ہے تو ان کیخلاف ریفرنس دائر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کیلئے کمیٹی سے اجازت لینی ہے، خط لکھ کر کمیٹی کو مس لیڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیئر مین پی اے سی نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو وزیراعظم کے نام پر لکھے گئے خط کی انکوائری کررہے ہیں، وزیراعظم کا دفتر ملوث ہے تو ان سے پوچھا جائے گا اور ذمہ داری کا تعین کرکے کارروائی کی جائے گی۔

کیا کپتان کو نئے آرمی چیف کی تقرری کا موقع مل پائے گا؟

انہوں نے کہا کہ تفصیل آنے کے بعد ہم وزیراعظم اور چیئرمین نیب کو لکھیں گے، چیئرمین نیب کو کمیٹی کے سامنے آنا پڑے گا، ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہلے خط بھیجا گیا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ چئیرمین نیب پیش نہیں ہوں گے ان کی جگہ کوئی اور پیش ہوں گے بعد میں تردید کرکے کہا گیا کہ چئیرمین نیب کا کوئی رشتہ دار بیمار ہے۔ رانا تنویر نے کہا کہ چئیرمین نیب کو اگر کوئی ایسا مسئلہ تھا تو ہمیں بتاتے، اب بھی ان کے کہنے پر 26 جنوری کو چئیرمین نیب کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں ان سے 820 ارب کی ریکوریز کے دعوےکاحساب مانگا جائے گا۔

خیال رہے کہ نیب نے وزیر اعظم کے حوالے سے سیکرٹری اسمبلی کو خط لکھا کہ وزیر اعظم نے چیئرمین نیب کی جگہ ڈی جی نیب کو بریفنگ دینے کی منظوری دی ہے، اور کہا ہے کہ چیئرمین نیب پی اے سی سمیت کسی بھی قائمہ کمیٹی، آئینی ادارے اور خود مختاری اداروں کے سامنے بطور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر پیش نہیں ہوں گے، چیئرمین نیب کی نمائندگی ڈی جی نیب تمام کمیٹیوں میں کیا کریں گے۔ اس حوالے سے چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین نے کہا تھا کہ نیب کے خط کی وضاحت کے لئے کابینہ ڈویژن کو خط لکھیں گے، اگر قواعد وزیر اعظم کو چیئرمین کی جگہ ڈی جی کو نمائندگی کا اختیار دیتے ہیں تو تسلیم کریں گےِ چیئرمین نیب کو آنا چاہئے تھا۔

Back to top button