کیا ناروے کا خدا کوئی اور ہے؟

تحریر: یاسر پیر زادہ بشکریہ: روزنامہ جنگ پہلا دعویٰ یہ ہے کہ ایک آخرت ہے جہاں انصاف ہو گا۔ دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ اِن سانحات کا جواب صرف اور صرف مذہب کے پاس ہے۔ پہلا ایمان کا معاملہ ہے اور ایمان پر بحث نہیں ہوتی۔ دوسرا منطق کا معاملہ ہے اور منطق کے دعوے کو جانچا جا سکتا ہے۔ اعتراض اُس لفظ ’صرف‘ پر ہے۔ اِس لفظ پر اعتراض کی وجہ سمجھنے کے لیے تلافی اور توجیہ کا فرق جاننا ہوگا۔ تلافی کا مطلب ہے متاثرہ فرد کو نقصان کے بدلے کچھ دے دینا۔ توجیہ کا مطلب ہے یہ بتانا کہ نقصان ہوا کیوں۔ اگر اُن چودہ بچوں کو، جو نرسری میں بے یارومددگار پڑے جھلس گئے، بعد میں لامتناہی راحت عطا کر دی جائے تو یہ بہت بڑی تلافی ہو گی مگر یہ اُس سوال کا جواب نہیں کہ اُن کے ساتھ یہ سب کیوں ہونے دیا گیا۔ عدالت مقتول کے ورثا کو دیت دلوا سکتی ہے مگر دیت قتل کو جائز نہیں بناتی۔ اِس مقام پر ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ آخرت زمان و مکان سے ماورا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ دنیا واقعی ہماری فہم سے باہر ہے تو ہم اُسے وضاحت کے طور پر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ وضاحت کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ سمجھ میں آئے۔ جو چیز تعریفاً ناقابلِ فہم ہو وہ تسلی دے سکتی ہے مگر توجیہ نہیں کر سکتی۔ یعنی زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے جواب موجود ہے مگر ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا ہے۔ مگر یہ کہنا کہ جواب صرف ہمارے پاس ہے اور ساتھ ہی یہ کہنا کہ وہ جواب ہماری سمجھ سے باہر ہے، دو متضاد باتیں ہیں۔ ایک دلیل یہ ہے کہ دنیا میں خلا ہے لہٰذا ایک ایسی دنیا لازماً موجود ہوگی جس میں خلا نہیں۔ منطق میں اسے شتابی چھلانگ کہتے ہیں۔ کسی شے کی ناتمامی اس بات کا ثبوت نہیں کہ کہیں اس کی کامل شکل موجود ہے۔ صحرا کی پیاس اس بات کی دلیل نہیں کہ اگلے ٹیلے کے پیچھے دریا ہے۔ فلسفے میں اسے argument from desire کہا جاتا ہے، خواہش کا وجود مطلوب کے وجود کو ثابت نہیں کرتا۔ اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ اِس قسم کے سوالات پوچھنا مناسب نہیں تو اُسے اقبال پڑھنا چاہیے۔ اقبال اُس روایت کا سب سے بڑا نام ہے جو انسان کا مقدمہ خدا کے سامنے رکھتی ہے۔ ’فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا، یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک۔‘ ’شکوہ‘ کا پورا ڈھانچہ ہی خدا سے براہِ راست شکایت پر کھڑا ہے۔ اپنے اصل سوال پر واپس آتے ہیں، کیا ناروے کا خدا کوئی اور ہے؟ نہیں۔ وہاں بھی وہی قیامت آئے گی جو یہاں آئیگی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ لوگ اُس قیامت کا انتظار کیے بغیر ہی اپنے اسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تدابیر کرتے ہیں اور کوئی قیامت صغریٰ برپا نہیں ہونے دیتے۔ روزِ محشر جب عدالت لگے گی تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ قیامت پر تمہارا ایمان تھا یا نہیں، سوال یہ پوچھا جائے گا تم اُن چودہ بچوں کو جھلسنے سے بچا سکتے تھے، تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ اگر ہمارا خیال ہے کہ خدا یہ جواب قبول کر لے گا کہ ہم آج کے دن کا انتظار کر رہے تھے تو پھر ہمیں عذاب الٰہی کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
Back to top button