کاکروچ اور کیڑی

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
دنیا بھر کی انگریزی اور بھارت کی سیاست میں جس کو کاکروچ کہا جارہا ہے اردو اور پنجابی میں اسے لال بیگ کہتے ہیں جبکہ چیونٹی کا پنجابی نام’’ کیڑی‘‘ ہے۔ جب سے کاکروچ سیاست شروع ہوئی ہے پاکستان میں بھی نوجوان نسل کی بغاوت یا کاکروچ سیاست کے آغاز سے ڈرایا جارہا ہے۔ لال بیگ یا کاکروچ اور چیونٹی دونوں چھ ٹانگوں والے حشرات الارض ہیں، کاکروچ کونوں کھدروں میں چھپا رہتا ہے، اسے اپنی بقا کا فن آتا ہے۔ لال بیگ موقع پرست ہے انفرادیت کا قائل ہے جبکہ کیڑی محنتی ہے، ڈسپلن کی پابند ہے، ایک خاندان کی شکل میں رہتی ہے اور ایک خاندان کی طرح کیڑیوں نے اپنے اپنے کام بانٹ رکھے ہوتے ہیں ۔لال بیگ کو اپنی ذات اور بقا کے علاوہ نہ کسی کا خیال ہےاور نہ پروا۔ لال بیگ کو خطرہ درپیش ہوتو فوراً چھپ کر جان بچاتا ہے اسے فکر نہیں ہوتی کہ باقی لال بیگوں کا کیا ہوگا؟ کیڑی کو خطرہ ہوتو فوراً ساتھی کیڑیوں کو سگنل بھیجتی ہے، خاندان کو پالتی اور سنبھالتی ہے۔ لال بیگ انا کا پتلا اور مفاد کا نشان ہے کیڑی مٹی ہوئی مخلوق ہے کیڑی کے دماغ میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا۔
وادی ہند میں کاکروچ ہیں تو وادی سندھ میں کیڑی ہے۔ وہاں جوان بغاوت کرتے ہیں یہاں بوڑھے دفاعی جنگیں کرتے ہیں۔ ہند کا ہیرو جوان لال بیگ رہا ہے وادی سندھ کی ہیرو پختہ عمر چیونٹیاں رہی ہیں۔ اس علاقے کی قدیم تاریخ میں عظیم ترین ہیرو اور راستہ دکھانے والے بوڑھے رہے ہیں۔ وادی سندھ اور پنجاب کا پہلا تاریخی ہیرو پورس تھا ساڑھے چھ فٹ کا پورس، نوجوان سکندر یونانی کے مقابلے میں بوڑھا تھا مگر مزاحمت کی ایسی تاریخ رقم کرگیا کہ سکندر یونانی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، احمد خان کھرل بوڑھا تھا نوجوان برکلے کے ہاتھوں مارا گیا مگر رزمیہ داستانوں کا ہیرو برکلے نہیں آج بھی احمد خان کھرل ہے۔ نہرو نوجوان تھا جناح بوڑھا، جناح نے پاکستان بناکر دکھادیا نوجوان منہ دیکھتا رہ گیا۔ جنرل ایوب، ضیاء اور جنرل مشرف کے مقابلے میں نوابزادہ اور انکے اتحادی بوڑھے تھے مگر انہوں نے چیونٹوں کی طرح ملکر آمروں کو شکست دیکر دکھائی۔ لال بیگ اکیلے اکیلے لڑتے ہیں کیڑیاں باجماعت لڑتی ہیں۔ لال بیگ مرے تو کوئی اسکی جگہ سنبھالنے والا نہیں ہوتا، ایک کیڑی مرجائے تو دوسری اس کی جگہ سنبھال لیتی ہے۔ ہند کو ہوسکتا ہے کاکروچوں سے خطرہ ہو، وادی سندھ یا آج کے پاکستان کی دفاعی لائن چیونٹیاں ہیں وہی چیونٹیاں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں مسلنا کون سا مسئلہ ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہی کیڑیاں اکٹھی ہوجائیں تو زہریلے ترین سانپ کوبھی کچا کھاجاتی ہیں۔
سیاست ہمیشہ سے ہی سانپ اور سیڑھی کا کھیل رہا ہے، بظاہر اس وقت طاقت کا دور دورہ ہے سیاست کی گنجائش ہی کہاں ہے؟ چند سال سے سیاست کا حال بہت ہی برا ہے اگر حالیہ دنوں کی سیاست کو زیرو کہا جائے تو حالات کی صحیح ترجمانی ہوگی مگر یہ حقیقت کا صرف ایک رخ ہے بظاہر سیاست زیرو، مزاحمت زیرو، بغاوت زیرو، جدوجہد زیرو، انسانی حقوق کی جنگ زیرو، عدالتی مداخلت زیرو، بیرون ملک سے اخلاقی امداد زیرو۔ گویا دور دور تک کسی جمہوری یا سیاسی چشمے سے میٹھا پانی نکلنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ مگر حقیقت کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ جب مایوسی بڑھتی ہے، چیونٹیوں کی ایک کھیپ مسلی جاتی ہے تو کیڑیوں کی متبادل کھیپ انکی جگہ سنبھالنے کو تیار ہوتی ہے۔ ایوب خان نے سہروردی، فیروز خان نون ، کھوڑو اور سب بڑے لوگوں کوپروڈا کی تلوار سے ڈرا کرخاموش کردیا مگر پھر بھٹو اٹھ کھڑا ہوا اور ایوب خان کو رخصت ہونا پڑا۔ کیڑیوں کو ہر کوئی حقیرجانتا ہے مگر یہ حقیر مخلوق ہاتھیوں کو گرانے پر قادر ہے۔ ماضی کی تاریخ کے سبق وہی رہیں گے بس جوانہیں سمجھ لےیہ سبق اسی کیلئے ہوتے ہیں وگرنہ تاریخ کے سبق کا یقین تب آتا ہے جب کوئی خودگردش میں پھنس جاتا ہے۔
دنیا جتنی بھی جدید اور سائنسی ہوجائے جادو ادھر اور ادھر دونوں طرف چلتا ہے ہند ہویا سندھ، بنگال ہو یا مراکش وپرتگال طلسم ہر جگہ موجود ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے مظاہرے کانام ’’جنترمنتر‘‘ رکھا اگر کیڑیوں نے اپنی پارٹی پیپلز مسلم انصاف کے نام سے بنالی توپھر جادو نہیں ہجومی نفسیات کا دور دورہ ہوجائے گا پھر وزیر کے جادو کے زور پر مستعفی ہونے پرکام نہیں رکے گا ،ہجوم کی راہ میں جوبھی آئیگا سیلاب اور طوفان کی نذر ہوجائیگا۔ کیڑی کو کاکروچ کی طرح جلدی نہیں ہوتی لال بیگ ہروقت بے چین ہوتے ہیں اِدھر اُدھر منہ مارتے ہیں اپنے لئے اِدھر راستہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُدھر بھی ٹھکانہ بنانے کی راہ ڈھونڈتے ہیں ،کیڑیاں پہلے راہوں کا کھوج لگاتی ہیں اور جب راستہ مل جائےتو قطار درقطار اسی صراط مستقیم پر چل کراپنا ہدف حاصل کرتی ہیں چیونٹی کا تقابل چاہے عقاب سے ہو یاگدھ سے دونوں صورتوں میں آخری جیت کیڑی ہی کی ہوتی ہے۔
ملکی سیاست نے انگڑائی لینا شروع کردی ہے ،نظام تباہ ہونے کی کہانی سے لیکر ہرروز کچھ نہ کچھ ایسا ہورہا ہے کہ حکومت سمٹتی جارہی ہے۔ پاک بھارت جنگ میں فتح ، امریکہ سے دوستی اور مڈل ایسٹ میں کردار سے حکومت کو جو وقتی ریلیف ملا تھا وہ خاک میں مل چکا ہے،بیچاری نونی کیڑیاں بلوں میں چھپی ہوئی ہیں، مکھیوں کےبھنبھناتے سوالوں کے انکے پاس جواب نہیں، انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ انکا چراغ گل ہورہا ہے یا پھر ابھی یہ ٹمٹماتا شعلہ ہلکی روشنی دیتا رہے گا ؟پیپلی کیڑیاں افسردہ ہیں کہ انہیں اب نئے سرے سے جدوجہد درپیش ہے کچھ سرخ کیڑیاں سمجھ رہی ہیں کہ ہماری پارٹی کو اقتدار کھاگیا ہے جبکہ کالی چیونٹیاں چاہتی ہیں کہ اقتدار رہےکہ اب ان میں دوبارہ سے مارکھانے کی نہ ہمت ہے اور نہ جرات۔ رائے ضرور تقسیم ہے مگر پیپلی کیڑیوں کو یقین ہے کہ فیصلے کا وقت آچکا ہے ۔ انصافی کیڑیاں سمجھ رہی ہیں کہ انکےمشکل دن ختم ہونے کو ہیں وہ سوچ رہی ہیں کہ اب ان کیلئےسیاسی لُڈوLudo پر سانپ کے کاٹنے کا موسم معدوم جائے گا اور سہولت کیلئے سیڑھیاں ملیں گی۔ اقتدار کی مادرملکہ چیونٹی کوسارے ماحول کا ادراک ہے اور بادشاہ کیڑی اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے کو تیار نظر آتی ہے، اسے علم ہوگا کہ اس عمل میں خون بھی بہے گا اقتدار کے دوست بھی بدلیں گے کچھ دوست، دشمن اور کچھ دشمن دوست بنیں گے۔ مادر ملکہ کو علم ہے کہ یہ سال اور پھر اگلا سال ہی اصلاحات کے سال ہیں اگر ان میں بھی مصلحت سے کام لیا گیا تو مادر ملکہ کا دورِ عروج گزر جائیگا اور پھر کبھی اصلاحات یا تبدیلی کی خواہش پوری نہ ہوسکے گی۔
حالات کی تیزی نے سیاست کو اپنے حصار میں لے لیا ہے فیصلہ کن مرحلے آنے کو ہیں زیادہ امکان تو یہی ہے کہ طاقتور مادر ملکہ چیونٹیوں سے اپنی مرضی منوا لے گی، پیپلی چیونٹی اقتدار کے گھونسلے سے نکل بھی گئی تو کئی انصافی چیونٹیاں انکی جگہ لینے کو تیار بیٹھی ہیں، خطرہ اور خدشہ یہ ہے کہ اقتدار کی نونی اور پیپلی جوڑی ٹوٹی تو پھر سب کچھ ہاتھ سےجابھی سکتا ہے، گرفتار کیڑی اور مادر ملکہ میں جو مرضی معاہدہ ہوجائے، جو مرضی ضامن پڑجائے یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے۔
