ڈونلڈ ٹرمپ کی پروجیکٹ فریڈم پھر شروع کرنے کی دھمکی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے جلد جواب ملنےکے لیے پُرامید ہیں، مذاکرات ناکام ہونے پر آپریشن پروجیکٹ فریڈم مزید قوت کے ساتھ شروع کرنے کی دھمکی دے دی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جواب آج ملنے کی توقع ہے، اگر معاملات طے نہیں ہوتے تو ہمارے پاس دوسرے راستے بھی ہیں، شاید ہم پروجیکٹ فریڈم کی طرف لوٹ جائیں، لیکن اس بار پروجیکٹ فریڈم پلس ہوگا، جس میں کچھ اور چیزیں شامل ہوں گی۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ہمیں پاکستان نے پروجیکٹ فریڈم روکنے کا کہا تھا۔
سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے خاتمے کے لیے نئی تجویز پر جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اب بھی مختلف اور متضاد پیغامات دے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اس مؤقف کو دہرا رہے ہیں کہ امریکا صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، ایران کی فوجی طاقت شدید متاثر ہوچکی ہے اور معاملات جلد ختم ہونے والے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی بحال ہونی چاہیے۔
امریکی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے ان بیانات کے باعث یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے سے متعلق ٹرمپ کی یقین دہانیاں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم معاہدہ کرلیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسی نوعیت کے بیانات دیتے آرہے ہیں۔ انہوں نے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے تقریباً تمام اختلافی نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، جبکہ دو ہفتوں کا وقفہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دیا گیا ہے۔
اگرچہ اس جنگ بندی میں توسیع کردی گئی ہے، تاہم کسی جامع معاہدے کے لیے مزید مذاکرات کے آثار تا حال دکھائی نہیں دے رہے۔
