پاکستان میں معاشی استحکام کی خوش آئند واپسی ہوئی : آئی ایم ایف مشن چیف

آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال پاکستان میں معاشی استحکام کی خوش آئند واپسی ہوئی اور ترقی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر نےکہا کہ افراط زر میں ڈرامائی کمی آئی ہے، زرمبادلہ کی شرح مستحکم رہی ہے اور غیرملکی ذخائر دگنا سےزائد ہوگئےہیں۔
آئی ایم ایف مشن کا کہنا ہے کہ 2023 کےوسط میں پاکستان کو درپیش انتہائی بیرونی دباؤ اور غیریقینی صورت حال کےپیش نظر اس تبدیلی کی رفتار قابل ذکر ہے،گزشتہ سال پاکستان میں معاشی استحکام کی خوش آئند واپسی ہوئی اور ترقی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
ناتھن پورٹر نےکہا کہ پائیدار اور مضبوط ترقی کی جانب پیش قدمی اب بھی پاکستان کےلیے چیلنج ہے کیوں کہ ماضی میں اس جانب بڑھائےگئے ہر قدم نے پاکستان کو پہلے سےزیادہ کمزور اور مقروض کیاہے۔
دوسری جنب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 7 ارب ڈالر کے نئےبیل آؤٹ پیکج پر ’مکمل عملدرآمد‘ کےساتھ ٹیکس کےدائرہ کار کو وسیع کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے یہ بات پاکستان کےلیے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) قرض پروگرام کی منظوری کےبعد ہفتے کےروز جاری ایک بیان میں کہی، جس کےتحت اس نے ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کردی گئی ہے۔
1958 سے اب تک حکومت کا آئی ایم ایف کے ساتھ 24 ویں قرض پروگرام کےلیے جولائی میں معاہدہ ہواتھا، جس میں غیرمقبول اصلاحات اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا بھی شامل ہے۔
پاکستان کے ساتھ مشاورت اور بیل آؤٹ کی منظوری کےبعد جاری ہونےوالے حالیہ بیان میں کہاگیا ہےکہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے خصوصاً اضافی مالی اعانت حاصل کرنےاور مارکیٹ تک رسائی کو بحال کرنے کےلیے صلاحیت میں اضافے اور ترقیاتی شراکت داروں کےساتھ قریبی تعاون کی مدد کےساتھ پروگرام پر مکمل طور پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
اعلامیے میں کہاگیا ہےکہ ڈائریکٹرز نے منصفانہ ٹیکس نظام کی جانب اٹھائےگئے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور ٹیکس منیجمنٹ مؤثر کرکے اضافی محصولات جمع کرنے کی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیکس کے نفاذ اور تعمیل کےلیے سخت اقدامات کی منظوری دی تھی جس میں نان فائلرز کےلیے تمام بینکنگ اور مالی لین دین پر پابندی شامل ہے۔
