عیدالاضحی پر300ارب کے30لاکھ جانور فروخت

قومی معیشت کیلئے اچھی خبر،عیدالاضحی پر300ارب کے 30لاکھ جانور فروخت ہوئے۔
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں عید الاضحٰی پر تقریباً 30 لاکھ بڑے اور اتنے ہی چھوٹے جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔ عید پر قربانی کے بعد جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔
عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر سال شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عارضی نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں کو منڈیوں اور گھروں میں پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے لے کر انہیں چارے کی فراہمی اور قصابوں تک، لاکھوں لوگ اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنتے ہیں۔
امید ہے وزیر اعظم نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کریں گے، بلاول بھٹو
صنعتی انقلاب نے شہری اور دیہی معیشت کو یکسر الگ الگ کردیا۔ اب شہروں میں جانور پالنے کا رجحان تقریباً ختم ہوچکا ہے اور دیہی علاقوں تک محدود رہ گیا ہے۔ عیدِ قربان نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن بھی ہے۔
عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔
