الیکشن کے انعقاد پر اتحادی جماعتیں تقسیم ہو گئیں؟

اتحادی حکومت میں شامل بڑی سیاسی جماعتیں نوے روز کےا ندر انتخاب کرانے کے معاملے پر پی تقسیم ہوچکی ہیں جہاں ایک طرف مسلم لیگ ن نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیوں کے بعد فروری یا مارچ میں الیکشن کی خواہشمند ہے وہیں دوسری طرف پیپلز پارٹی مقتدر قوتوں سے قدرے ناراض ہےاسی لیےپیپلز پارٹی نے 90روز کےا ندر الیکشن کا انعقاد یقینی بنانے کے مطالبے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پی شدومد سے الیکشن کرانے کا مطالبہ کررہے ہے جبکہ پی ڈی ایم سے باہر کی جماعتیں پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، اے این پی بھی الیکشن میں ایک دن کی تاخیر نہیں چاہتی ان جماعتوں نے الیکشن کی تاریخ آگے بڑھنے پر احتجاج کا عندیہ دیا ہے .ان جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن عملہ کی تعداد بڑھاکر مردم شماری اور حلقہ بندیاں دوماہ میں کرکے تین ماہ کے اندر انتخاب کرادے۔ پی ڈی ایم میں شامل دیگر چھوٹی جماعتیں بھی وقت پر انتخاب کرانے کے حق میں ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف) اور ایم کیو ایم الیکشن آگے بڑھانا چاہتی ہے جبکہ ایم کیو ایم کو کراچی ، حیدرآباد میں پی پی پی ، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کچھ یقین دہانیاں کے بعد انتخابات کے انعقاد کی خواہاں ہے ۔
تاہم دوسری جانب ذرائع کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے فیصلے میں مہینوں یا ہفتے نہیں بلکہ دن لگیں گے، گزشتہ روز عام انتخابات کے روڈ میپ پر پیپلزپارٹی کے ساتھ الیکشن کمیشن کے مشاورتی اجلاس کے دوران اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ آئین کے مطابق 90 روز کی ڈیڈ لائن کی پاسداری کرے اور انتخابات کے شیڈول کا فوری اعلان کرے، الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس درخواست پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں شریک ذرائع نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات سے قبل تاحال شروع نہ ہونے والی حلقہ بندیوں کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بارے بھی بات کی۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیئر بخاری نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں انتخابات نہ کرائے گئے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔شیری رحمٰن نے کہا کہ ہم آئین کی پاسداری، یعنی آزادانہ، منصفانہ اور بروقت انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین کی ترجیح حلقہ بندی نہیں مقررہ مدت کے اندر انتخابات کا انعقاد ہے، ملک ایک غیر معمولی مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے، اس سے پہلے کہ یہ صورتحال مزید بگڑ جائے، بہتر ہو گا کہ ایک منتخب حکومت ضروری تبدیلیاں کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے واضح
وفاقی کابینہ،جولائی،اگست کے بلوں کی قسطیں کرنے کی منظوری
مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئے۔
