الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کے پرزے پرزے کیسے کیے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اف پاکستان کی جانب سے بالاخر سپریم کورٹ کے مخصوص سیٹوں کے فیصلے پر عمل درامد کے اعلان کے باوجود کمیشن کی پریس ریلیز سے واضح نظر آتا یے کہ اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پرزے پرزے کر دیے ہیں۔
سہیل وڑائچ کو 2024 میں 1971 والے حالات کیوں نظر آ رہے ہیں؟
انصار عباسی بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے مخصوص سیٹوں کے کیس کے فیصلے میں کہہ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے 13 جنوری 2024 کے پی ٹی آئی میں انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے سے متعلق فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو غلطی سے آزاد امیدوار قرار دیا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر دو روز تک غور و خوص کے بعد پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی اور یہ کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو درست قرار نہیں دیا جس کیخلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔ چونکہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن درست نہیں تھے چنانچہ اس کے منطقی نتائج میں الیکشن ایکٹ کی دفعہ 215 کے تحت اس سے بلّے کا نشان واپس لیا گیا، لہٰذا الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں یہ موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس پر کی گئی الزام تراشی انتہائی نامناسب ہے۔
اس پریس ریلیز کا مطلب تو یہ ہوا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کی بنیاد ہی غلط ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومتی اتحاد کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہے اور وزیر قانون اعظم تارڑکہہ چکے ہیں کہ آٹھ ججز نے فیصلہ دیتے ہوئے آئین دوبارہ سے تحریر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے مخصوص سیٹیں تو سنی اتحاد کونسل نے مانگی تھیں لیکن فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں دے دیا گیا۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے پیرا نمبر 7 اور 8 کا حوالہ دیے بغیر اپنی پریس ریلیز میں اپنا موقف واضح کیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل میں آئی، سنی اتحاد کونسل کی یہ اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی اس کیس میں الیکشن کمیشن میں فریق تھی اور نہ ہی پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فریق تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ 80 اراکینیں اسمبلی جن کو الیکشن کمیشن نے ازاد امیدوار ڈکلیئر کیا تھا 15 روز کے اندر اپنی سیاسی وابستگی کا حلف نامہ جمع کروائیں تاکہ وہ پی ٹی ائی کا باقاعدہ حصہ بن سکیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اس کے بعد اپنی ویب سائٹ پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کی فہرست سیاسی جماعت کی جانب سے تصدیق کیے جانے کی آخری تاریخ پر سات روز میں جاری کرے گا، جس کے بعد کمیشن اس عدالت میں تعمیل کی رپورٹ جمع کرائے گا۔
الیکشن کمیشن نے اپنی حالیہ پریس ریلیز میں سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن 39؍ ارکان قومی اسمبلی کو پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی قرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں پی ٹی آئی سے اپنی وابستگی ظاہر کی تھی جبکہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار ہونے کیلئے پارٹی ٹکٹ اور ڈکلیریشن ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کرانا ضروری ہے جو ان امیدواروں نے جمع نہیں کرایا تھا۔ لہٰذا، ریٹرننگ افسران کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ انہیں پی ٹی آئی کا امیدوار قرار دیتے۔ الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں مذید کہا ہے کہ جن 41؍ امیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں پی ٹی آئی کا ذکر کیا اور نہ ہی پارٹی سے وابستگی ظاہر کی، نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ جمع کرایا۔ لہٰذا، ریٹرننگ افسران نے انہیں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ الیکشن جیتنے کے بعد، قانون کے تحت تین روز کے اندر ان ارکان قومی اسمبلی نے رضاکارانہ طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔
الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل میں آئی، سنی اتحاد کونسل کی یہ اپیل مسترد کر دی گئی، پی ٹی آئی اس کیس میں نہ تو الیکشن کمیشن میں بطور فریق تھی اور نہ ہی پشاور ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں بطور فریق تھی۔
