سہیل وڑائچ کو 2024 میں 1971 والے حالات کیوں نظر آ رہے ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ انہیں 2024 کے پاکستان میں وہی حالات بنتے نظر ارہے ہیں جو 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے بنے تھے اور جنکا ننتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا تھا۔
پاکستان میں 9 مئی کے دہشت گردوں کےلیے سیاست کرنے کی کوئی جگہ نہیں: عظمیٰ بخاری
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میرے منہ میں خاک۔ خدا کرے میرا اندازہ، وسوسہ اور تجزیہ سو فیصد غلط ثابت ہو، مگر کیا کروں مجھے آج کے حالات، 1971ء کے حالات سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ تب اداروں کی لڑائی اور شخصیات کے ٹکرائو میں ہوش کی بجائے جوش سے کام لیا گیا اور بالآخر سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔ آج بھی اسی طرح کا بحران ہے، کردار بھی وہی ہیں، البتہ ان کے نام بدل گئے ہیں، تب بھی سب کی غلطیوں نے المیہ مشرقی پاکستان کو جنم دیا تھا، آج بھی سب کی غلطیاں کہیں ملک کو کسی نئے سانحے کی طرف نہ دھکیل دیں۔ تب کے حالات اور آج کے معاملات کا تقابل بڑا ہوشربا اور سبق آموز ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 1971ء میں بھی سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ شیخ مجیب کو کیسے روکنا ہے؟ اس وقت کی فوج، مغربی پاکستان کے بیشتر سیاستدانوں اور عوام کا خیال تھا کہ شیخ مجیب آیا تو وہ چھ نکات پر عمل کرتے ہوئے ملک کو توڑ دیگا، آج کا مسئلہ بھی تقریباً وہی ہے۔ فوج، ملک کی دو سیاسی جماعتوں اور ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر عمران آ گیا تو ملک معاشی طور پر تباہ ہو جائیگا اور گورننس ختم ہو جائے گی۔ تب شیخ مجیب کو الیکشن میں ہرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ مشرقی پاکستان میں سویپ کر گیا، اس بار پی ٹی آئی کے خیال میں عمران کی جماعت سویپ کر چکی تھی لیکن اسے ہروا دیا گیا۔ اگر تب شیخ مجیب اور فوج آمنے سامنے تھے تو آج عمران اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، تب فوج کا ساتھ دینے والوں میں ذوالفقار علی بھٹو اور جماعت اسلامی شامل تھے، آج کی فوج کا ساتھ دینے والوں میں آصف زرداری اور نواز شریف ہیں۔ پہلے بھی بائیں بازو کی پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت اسلامی ’’قومی مفاد‘‘ میں فوج کے ساتھ تھیں آج بھی لبرل پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کا پرانا ذہن رکھنے والی ن لیگ فوج کے ساتھ ہے، کل شیخ مجیب کو مکتی باہنی کی مسلح حمایت حاصل تھی اور وہ پاک فوج پر حملے کر کے اسے نقصان پہنچاتی تھی، آج کی مکتی باہنی پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ہے جو فوج پر گولیوں جیسی گالیوں کی بوچھاڑ کرتا ہے، ماضی میں جس طرح بھارت اور دوسرے ممالک نے شیخ مجیب کی اخلاقی اور مالی مدد کی تھی آج عمران کی ویسی ہی مدد اوورسیز کی طرف سے آ رہی ہے، جیسے مشرقی پاکستان میں تعینات جنرل نیازی اور رائو فرمان علی ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتے تھے، آج کے پاکستان کے فیصلہ ساز بھی اسی طرح انتشار کا شکار ہیں، اگرچہ ان کی صلح کروائی گئی ہے مگر ابھی وحدت ِفکر نظر نہیں آ رہی۔
سہیل وڑائچ اس کا کہنا ہے کہ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کی اصل انسپائریشن مشرقی پاکستان کے دانشور تھے، آج عمران کے حامیوں کی نئی انسپائریشن انصافی ججز کے انصاف بھرے فیصلے ہیں، جب مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ ہوا تو سب سے پہلے وہاں کے دانشور چن چن کر مارے گئے، جنرل ٹکا خان نے دو تین روز کے آپریشن میں سب کو فارغ کر دیا تاکہ علیحدگی کی سوچ کو ختم کیا جا سکے، آج بھی جب فوج اور حکومت مل کر جو حکمت عملی بنائیں گی اس کا پہلا نشانہ عدلیہ کے وہ ججز ہوں گے جو فوج اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی آج پھر کسی کو کسی کا امتحان مقصود ہے۔
سہیل وڑائج کے بقول مماثلتیں تو اور بھی بہت ہیں مگر کچھ فرق بھی ہیں، مشرقی پاکستان فوج کی پہنچ سے بہت دور تھا۔ وہاں ٹینک نہیں جا سکتا تھا آج کا پاکستان فوج کی پہنچ میں ہے، تب یحییٰ خان طاقت کا منبہ تھا آج اس کی جگہ ایک اور شخصیت موجود ہے۔ یحییٰ خان مستقل صدر رہنا چاہتا تھا، لیکن آج ایسا نظر نہیں آ رہا۔ ان چند مختلف عوامل کے باوجود آج کے معاملات بالکل اسی طرح ڈیڈ لاک کا شکار ہیں جیسے کہ 1971 میں تھے۔ کوئی فریق لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ مجیب کے مخالفوں کو ڈر تھا کہ اسے اقتدار ملا تو وہ مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے سویلینز اور فوجیوں کو پھانسیوں پر لٹکائے گا، آج بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ عمران کے خان کو موقع ملا تو انکے حامی اپنے سیاسی مخالفوں سے خوفناک بدلہ لیں گے۔ چنانچہ آج صورت حال ایسی یے کہ خوف آتا یے کوئی اور بڑا سانحہ نہ ہو جائے اور پاکستان پھر سے کئی دہائیاں پیچھے نہ چلا جائے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مجھے یہ ڈر نہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا یا نیا بنگلہ دیش بن جائے گا، مجھے اصل ڈر یہ ہے کہ پاکستان کی واحد متفقہ دستاویز یعنی ’’آئین‘‘ سبوتاژ ہو جائے گا۔ میری رائے میں لڑائی کا ہر فریق کو نقصان اور مفاہمت کا ہر فریق کو فائدہ ہے لیکن واحد شرط لچک ہے، لہازا انا اور ضد کو چھوڑ کر ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا۔ قائد اعظم کی مثال لے لیں وہ پورا بنگال، پورا پنجاب، حیدر آباد دکن، کشمیر اور منادر پاکستان میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن بقول انکے انہیں ’’کٹا پھٹا پاکستان‘‘ قبول کرنا پڑا۔ تاہم اس کمپرومائز کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ فرض کریں اگر مفاہمت اور مصالحت ہوتی ہے تو عمران کیلئے آج نہیں تو کل ضرور اقتدار کے دروازے کھل جائیں گے۔ نون لیگ کو فائدہ یہ ہو گا کہ وہ حکومت میں بیٹھ کر مذاکرات کرے گی تو اس کو بہتر ڈیل مل جائے گی، فوج کو فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا فوری ازالہ ہو جائے گا۔ مفاہمت کا نقصان صرف جمہوریت کے دشمنوں کو ہو گا جو پاکستان میں جمہوریت کو لپیٹ کر کسی ٹیکنو کریٹ حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ایسے میں وقت کی ضرورت یہ ہے کہ اتحادی حکومت میں شامل جمہوری لوگ اپنی جماعتوں کو مجبور کریں کہ وہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے فیصلے کو واپس لیں، پی ٹی آئی کے اندر بیٹھے اعتدال پسند رہنمائوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے لیڈر اور پارٹی دونوں کو جارحانہ موقف لینے سے روکیں، عمران خان کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کے دبائو سے نکلیں اور ٹھنڈے دل سے فیصلہ کریں کہ کیا فوج سے محاذ آرائی پاکستان کے مفاد میں ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھرآپ اسے روکتے کیوں نہیں؟ فوج سے بھی دست بستہ عرض ہے کہ دنیا بدل چکی ہے لہازا آپ بھی بدلیں، زور زبردستی کا دور ختم ہو چکا، پی ٹی آئی کو بھی پارلیمان میں جگہ دیں۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ اپنے گالیاں دینے والے لیڈروں کو لگام ڈالے۔ انتقام لینے کے راستے پر چلے تو سارا ملک خون سے سرخ ہو جائے گا مگر ان سے اختلاف کرنے والے ختم نہیں ہوں گے۔ فوج بھی تاریخ سے سبق سیکھے، نہ جنرل ٹکا مشرقی پاکستان کی آواز کو کچل سکے اور نہ ہی جنرل اے کے نیازی سقوط ڈھاکہ کی ذلت سے بچ سکا۔ تجربوں اور تاریخ سے سبق سیکھ کر جینا ہی بہترین راستہ ہے۔
