بجلی کا بل بڑھانے والی عام عادات کونسی ہیں؟

جیسے جیسے مہنگائی بڑھ رہی ہے، لوگوں کے لیے روزانہ کے اخراجات پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد یوٹیلیٹی بلوں کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ماہ اس کا بل دیکھ کر بیشتر افراد پریشان ہو جاتے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اتنا زیادہ بل کیوں آیا، مگر کئی بار لوگوں کی اپنی مخصوص عادات بھی بجلی کے بل میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، ایسی ہی چند عام عادات کے بارے میں جانیں جو بجلی کے بلوں میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ریموٹ کنٹرول سے ٹیلی ویژن (ٹی وی) بند کرنے کے بعد وہ بجلی نہیں خرچ کر رہا تو یہ خیال غلط ہے، ایسی برقی مصنوعات جن کو سوئچ آف تو کیا جاتا ہے مگر ان کے پلگ سوئچ سے لگے رہتے ہیں، وہ ہر وقت معمولی مقدار میں بجلی خرچ کر رہی ہوتی ہیں۔
اس کے لیے ویمپائر انرجی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، موبائل فون کے چارجر، ٹی وی پلگ اور ایسی ہی برقی مصنوعات پلگ نہ نکالنے پر ہر وقت معمولی مقدار میں بجلی خرچ کرتی رہتی ہیں، جس سے بلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
درحقیقت ایل ای ڈی بلب روایتی بلب کے مقابلے میں 75 فیصد کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور 25 گنا زیادہ چلتے ہیں، اگر دروازوں اور کھڑکیوں کو درست طریقے سے سیل (seal) نہ کیا جائے تو بجلی کے بل میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر اس وقت اگر آپ ائیر کنڈیشنر (اے سی) کا استعمال کرتے ہیں۔
پرانی مصنوعات نئی کے مقابلے میں بجلی کی زیادہ بچت نہیں کرتیں جس سے بجلی کے بل پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثال کے طور پر پرانے پنکھے نئے پنکھوں کے مقابلے میں زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں، ایسا ہی فریج اور ٹیلی ویژن جیسی مصنوعات میں بھی ہوتا ہے اگر آپ موسم کے مطابق اے سی کے درجہ حرارت کو اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں تو اس طرح آپ بجلی کے بل میں بھی اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر آپ شدید گرم دن میں اے سی کا درجہ حرارت 26 ڈگری سے کم کر کے 16 ڈگری اس توقع کے ساتھ کرتے ہیں کہ اس سے کمرہ جلد ٹھنڈا ہو جائے گا تو جان لیں کہ ایسا نہیں ہوتا، اے سی عموماً یکساں رفتار سے کمرے یا گھر کو ٹھنڈا کرتے ہیں تو درجہ حرارت کو 26 سے 16 ڈگری کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے سی کو زیادہ وقت تک کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کے بل میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس وجہ سے صرف بجلی کے بل میں ہی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اے سی سسٹم کی زندگی کی مدت بھی گھٹ جاتی ہے، پاکستان میں بجلی کی قیمت دن کے مختلف اوقات کے مطابق بدلتی رہتی ہے اور عموماً شام کا وقت یونٹ کا ریٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیک ٹائم (peak time) میں بجلی کو زیادہ خرچ کرنے سے بل میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اگر آپ اس دوران کپڑے دھوتے ہیں، اے سی استعمال کرتے ہیں یا ایسے ہی دیگر کام کرتے ہیں تو بل کی زیادہ رقم دیکھ کر حیران نہیں ہونا چاہئے۔
اے سی، فریج اور ایسی ہی دیگر برقی مصنوعات کی صفائی اور سروس کا خیال نہ رکھنا بھی بجلی کے بلوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے، اے سی کے فلٹر گندے ہو جائیں تو مشین کے لیے کام کرنا مشکل ہوتا ہے جس کا نتیجہ زیادہ بجلی خرچ ہونے کی شکل میں نکلتا ہے۔
چھوٹے بلب بظاہر زیادہ بجلی خرچ کرتے نظر نہیں آتے مگر دن میں انہیں روشن رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ بجلی خرچ کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف توانائی کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ بل میں بھی کسی حد
نوازشریف کو موقع ملا تو ملک کا نقشہ بدل دیں گے
تک اضافہ ہوتا ہے۔
