حکومت بجلی چوروں کے بل، عوام سے کیسے وصول کرتی ہے؟

موجودہ نگراں حکومت نے پاکستان میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں کی ایک بڑی وجہ بجلی چوری کو قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جس کے بعد بہت سے شہروں میں کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ تاہم ان وقتی کارروائیوں کے باوجود بجلی چوری کی وجہ سے ہونے والا نقصان عام صارفین کو مہنگی بجلی فراہم کر کے پورا کیا جاتا ہے۔ یعنی بجلی چوروں کی بجلی کا بل عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کہاں اور کتنی چوری ہو رہی ہے اور کیا حکومت کے بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے باعث بل ادا کرنے والے صارفین کے لیے بجلی سستی ہو جائے گی؟
صوبائی دارالحکومت کراچی میں بجلی کی ترسیل کے ادارے ’کے الیکٹرک‘ کو چھوڑ کر باقی پاکستان میں بجلی کی ترسیل دس کمپنیوں، جنھیں ڈسکوز کہا جاتا ہے، کی مدد سے کی جاتی ہے۔
نگراں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے علاوہ ملک بھر میں ترسیل ہونے والی بجلی کی مجموعی بلنگ سالانہ 3781 ارب روپے ہے یا سادہ الفاظ میں کہیے کہ مجموعی طور پر 3781 ارب روپے مالیت کی بجلی سالانہ سسٹم میں ڈالی جاتی ہے تاہم اس میں سے 3192 ارب روپے موصول ہوتے ہیں جبکہ 589 ارب کی بجلی چوری ہو جاتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ ڈسکوز بشمول پشاور، حیدر آباد، سکھر، کوئٹہ اور قبائلی علاقوں میں سالانہ 737 ارب روپے کی بلنگ ہوتی ہے مگر 60 فیصدنقصان یا چوری کے بعد صرف 489 ارب روپے موصول ہوتے ہیں۔
اسی طرح دیگر پانچ ڈسکوز بشمول اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور گجرنوالہ میں 3044 ارب روپے کی بلنگ ہوتی ہے جبکہ موصول ہونے والی رقم 2944 ارب روپے ہے جبکہ 100 ارب کی بجلی کی چوری یا نقصان ہو جاتا ہے۔
صحافی شہباز رانا کے مطابق چوری ہونے والی اس بجلی کی قیمت اُن صارفین سے مہنگی بجلی کی صورت میں وصول کی جاتی ہے جو اپنے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ چوری کی مد میں ہونے والے نقصان کا کم سے کم بوجھ حکومت پر پڑے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے ایریاز بھی ہیں جہاں فراہم کی جانے والی بجلی کے عوض ریکوری زیرو یا نا ہونے کے برابر ہے تاہم پورے ملک میں بجلی کی ایک ریٹ پر دستیابی کے باعث بل ادا کرنے والے عوام چوری کی قیمت بجلی کے بھاری بلوں کی صورت میں چکاتے ہیں۔
نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے اُن ایریاز کی نشاندہی کی ہے جہاں بجلی کی چوری سب سے زیادہ ہے اور اس ضمن میں ایک ایکشن پلان فائنل ہونے کے بعد اس پر عملدرآمد جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ تین روز کے دوران بجلی کے غیرقانونی کنکشنز منقطع کیے گئے ہیں جبکہ بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔وزیر توانائی کے مطابق جب تک بجلی کی چوری نہیں رکے گی تب تک اُن افراد کے لیے بجلی کی قیمتیں کم نہیں کی جا سکتیں تو باقاعدگی سے اپنے بِل ادا کر رہے ہیں۔
مگر کیا کامیاب کریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی قیمتیں بل ادا کرنے والے صارفین کے لیے کم ہو جائیں گی؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاور سیکٹر کے رپورٹر خلیق کیانی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا۔ ’اگر موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو آئندہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں ان قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک اضافہ آج ہوا ہے جبکہ کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کا اعلان ہونا باقی ہے۔‘’589 ارب روپے کی بجلی چوری صرف اس سال نہیں ہوئی۔ چوری ہمیشہ سے ہوتی آ رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں بھی بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤنز کا آغاز کیا گیا مگر یہ عمل وقتی ہوتا ہے جس میں تسلسل نہیں ہوتا۔‘انھوں نے کہا کہ اگر یہ کریک ڈاؤن جاری رہتا ہے تو ہو گا یہ کہ کچھ عرصے کے لیے حکومت کی ریکوری بہتر ہو جائے گی مگر کیا چھ ماہ بعد حکومت اس سلسلے کو جاری رکھ رہی ہو گی؟
صحافی شہباز رانا کے مطابق بجلی چوری کو عمل کو روکنے کے لیے کسی خاص وقت کا انتظار نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہونا چاہیے تبھی اس کے تھوڑے بہت فوائد سامنے آئیں گے۔ ’ایک یا دو ماہ کا کریک ڈاؤن
الیکشن شیڈول کا اعلان، صدر علوی پکے عمرانڈو نکلے؟
اور اس کے بعد خاموشی مسئلے کا حل نہیں ہو گی۔‘
