توانائی بحران،وفاقی حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کااعلان کردیا

عالمی سطح پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی دباؤ کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ’کفایت شعاری مہم‘ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بازار 9 بجے اور شادی ہال 10 بجے،ریسٹورنٹس11بجے بند کرنے کے احکامات جاری کردیے، شادی کی تقاریب میں صرف ون ڈش ہوگی، فارمیسی، ہسپتال، بیکری، ملک شاپ، تندور و دیگر اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اسی طرح عوام کی تفریح اور طعام کے مراکز، یعنی تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے لیے رات 11 بجے کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

عوام کی بنیادی ضروریات اور صحت کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے چند اہم شعبوں کو ان پابندیوں سے باہر رکھا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پمپس، فارمیسیز، ہسپتالوں کلنکس اور تندوروں کو اوقات کار کی اس پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور یہ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

کاروباری سرگرمیوں کے اوقات محدود کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر بھی اخراجات کم کرنے کے لیے عملی قدم اٹھایا گیا ہے۔

تمام وفاقی محکموں کو سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں واضح اور نمایاں کمی لانے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔

البتہ ریاستی مشینری کو رواں دواں رکھنے کے لیے ایمرجنسی ڈیوٹی پر مامور ضروری خدمات کے اداروں کو اس پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

 

اس کے علاوہ محاصل اکٹھا کرنے والے ادارے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی آپریشنل گاڑیوں کو بھی فیول کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے، ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ ہوں گے۔

فارمیسی،ہسپتال، کلینک، میڈیکل لیبارٹری، پٹرول پمپس اور دیگر ضروری شعبے اوقاتِ کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ بیکری، تندور، دودھ و ڈیری شاپ، الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز اور جم پر بھی اوقات کار کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

 

 

Back to top button