اچکزئی نے کون سا بدلہ لیا؟

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وہی ہوا جس کے حوالے سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بار بار خبردار کیا گیا۔ آخرکار وہ ہو گیا جسے بروقت سیاسی تدبر، سنجیدہ مذاکرات اور لچک کا مظاہرہ کرکے روکا جا سکتا تھا۔ تحریک انصاف نے ایک اور بڑا موقع گنوا دیا اور اپنی مشکلات میں مزید اضافہ کر لیا۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر سامنے آ چکی ہے۔ اگر سیاسی مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو یقیناً حالات کو اس نہج تک پہنچنے سے روکا جا سکتا تھا۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اس بحران کو ٹالا جا سکتا تھا؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم وفاقی حکومت کو بھی اپنے فیصلے کا آئینی اور سیاسی جواز پیش کرنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی سے توقع تھی کہ وہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔ انکی سیاسی شناخت جمہوری جدوجہد، پارلیمانی بالادستی اور آئینی سیاست سے وابستہ رہی ہے۔ جب مذاکرات کا راستہ کھلا اور معاملات طے کرنے کا موقع پیدا ہوا تو ان کیلئے ضروری تھا کہ وہ سیاسی لچک اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے۔ مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات کو لانگ مارچ ختم کرنے سے پہلے لازمی شرط بنانیکا معاملہ خاص طور پر اہم ہے۔ بلاشبہ تحریک انصاف کے لیے اپنے قائد سے مشاورت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد کیلئے مذاکرات کو ایسی شرط سے باندھنا ضروری تھا جس پر اتفاق نہ ہونیکی صورت میں پورا عمل تعطل کا شکار ہو جاتا؟ اگر لانگ مارچ مؤخر کرنے اور عمران خان سے ملاقات کے لیے ایک متعین مدت طے کرنے کا راستہ اختیار کیا جاتا تو شاید فریقین کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی ایک بہن کی دو دن کے اندر بانی تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ اگر یہ یقین دہانی موجود تھی تو پھر اس موقع سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ کیا مارچ مؤخر کرکے ملاقات کا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا تھا؟ اچکزئی کو وضاحت کرنی چاہیے کہ انہوں نے اختلافات کم کرنے کے بجائے پیشگی شرط پر اصرار کیوں کیا۔ سیاست میں اصولی مؤقف اہم ہوتا ہے، لیکن سیاسی حکمت عملی کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی بڑے نقصان سے بچنے کیلئے قابلِ عمل سمجھوتہ کرنا پڑے۔ دوسرا اہم کردار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہے۔ انہیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ انکی ذمہ داری صرف تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی آگے بڑھانا نہیں بلکہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا بھی ہے۔ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں وفاق اور صوبے کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلاف کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا دونوں حکومتوں کی ذمہ داری تھی۔

مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنیوالی تفصیلات کے مطابق پہلے دن بات چیت کے بعد تحریک انصاف کے تین رہنما پشاور گئے اور سہیل آفریدی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دہشت گردی کے معاملے پر کسی بڑے اعتراض کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم دوسرے روز کئی گھنٹوں پر محیط مذاکرات کے اختتام پر، جب پانچ نکات پر اتفاق ہونے کی اطلاعات تھیں، دہشت گردی سے متعلق وفاقی پالیسی پر آفریدی کا اختلاف سامنے آیا اور مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی نے اپنے تحفظات پہلے ہی واضح کیوں نہیں کئے؟ اگر وفاقی حکومت کی پالیسی کے بعض پہلوؤں سے اختلاف تھا تو مذاکرات کے دوران ہی ان پر بات کرکے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو سیاسی مؤقف اختیار کرنے کا پورا حق ہے، لیکن صوبے کی سلامتی سے متعلق معاملات میں فیصلے کرتے وقت غیر معمولی احتیاط اور ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ وفاقی پالیسی سے اختلاف کرنا کسی صوبائی حکومت کا جرم نہیں۔ تاہم اگر اختلافات کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے اور سیاسی بحران مزید گہرا ہوا تو اس فیصلے کی سیاسی ذمہ داری سے بچنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کیخلاف حکمت عملی پر اختلافات کو اس انداز میں نہیں بڑھنا چاہئے کہ اس سے ریاستی اداروں کے درمیان تعاون متاثر ہو یا دہشت گرد عناصر کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو۔ اس تمام صورت حال میں وفاقی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ ایمرجنسی ایک غیر معمولی آئینی اقدام ہے، جسکے اثرات صوبائی حکومت، انتظامی اختیارات، پارلیمانی عمل اور شہریوں کے حقوق تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس اقدام کی قانونی بنیاد کیا ہے، اس کی ضرورت کن حالات کے باعث پیش آئی اور کیا سیاسی مذاکرات سمیت دوسرے ممکنہ راستے مکمل طور پر آزما لئے گئے تھے۔آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق اقدامات الگ معاملات ہیں۔ انکے تقاضے اور نتائج مختلف ہیں۔ اس لیے باضابطہ نوٹیفکیشن، قانونی بنیاد اور پارلیمان کے کردار کی وضاحت ناگزیر ہے۔ صوبے میں امن قائم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، لیکن صوبائی خودمختاری اور آئینی حدود کا احترام بھی اتنا ہی اہم ہے۔ موجودہ صورتحال میں محمود خان اچکزئی مذاکرات میں اپنے کردار کی وضاحت کریں کیوں کہ تحریک انصاف کے اندر اُن کے رول سے بہت سوں کو اختلاف ہے۔ سہیل آفریدی نے ثابت کیا وہ ایک جذباتی اور غیر سنجیدہ نوجوان ہے جو بحیثیت وزیراعلیٰ اپنی ریاستی اور سرکاری ذمہ داری سمجھنے سے قاصر تھا۔ تحریک انصاف کیلئے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اُس نے ایک اور سیاسی موقع کو شرائط اور اختلافات کی نذر کر کے صوبے میں اپنی حکومت کو ختم کیا، اپنے آپ کو کمزور کیا اور اپنے بانی رہنما کی مشکلات میں بھی مزید اضافہ کر دیا۔ مذاکرات کو اپنی پارٹی، اپنے بانی رہنما اور صوبے کے مفاد میں استعمال کیا جا سکتا تھا جو وہ نہ کر سکے۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت مزید سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ امن، استحکام اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے بحران ٹالا جا سکتا تھا تو اس موقع کا ضائع ہونا ایک سنگین سیاسی ناکامی ہے۔ آخرکار اس کشمکش کی قیمت سیاست دان نہیں بلکہ عام شہری ادا کرتے ہیں۔

 

Check Also
Close
Back to top button