وفاقی بجٹ: چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کےلیے آسان ’فکسڈ ٹیکس سسٹم‘ متعارف

وفاقی حکومت نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک نیا اور آسان ’فکسڈ ٹیکس سسٹم‘ متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا،جس میں انہوں نے کہاکہ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیلی کی ہے اور پاکستان بھر کے چھوٹے دکان داروں اور ان کے نمائندوں سے مشاورت اور ان کےمطالبے پر منصوبہ تیار کیا ہے،جس میں دکانداروں کے حقیقی خدشات کو مقدم رکھاگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 99 بی کے تحت چھوٹے دکان داروں کےلیے فکس ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے اور اس میں وہ دکان دار آسکتے ہیں،جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت نے چھوٹے دکان داروں کےلیے بنائےگئے اس نظام کے تحت سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، اس ٹیکس میں وہ اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے لیکن گوشوارہ جمع کراتے وقت انہیں کم از کم 25 ہزار روپےجمع کرانے ہوں گے اور معمول کا کوئی آڈٹ نہیں ہوگا۔چھوٹے دکان داروں کو خریداری پر ودہولڈنگ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور انہیں پی او ایس مشین رکھنے سے بھی استثنیٰ ہوگا۔
قومی اسمبلی ، بجٹ اجلاس: وزیر خزانہ نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا
اس حوالے سے بتایاگیا ہےکہ جو دکان دار فکسڈ ٹیکس سسٹم کا انتخاب کرےگا اس کو سبز رنگ کی ایک تختی دی جائے گی،جس پر ایک تصدیقی کیو آر کوڈ چسپاں ہوگا اور یہ ان دکانوں پر آویزاں ہوگی،اس تختی کی موجودگی میں ایف بی آر اہلکاروں کو پوچھ گچھ کےلیے دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دکانداروں پر ٹیکس کے نظام میں تجویز دی گئی ہےکہ اس سکیم کے تحت ایک سادہ اور ایک صفحے کا ٹیکس گوشوارہ ہوگا جو اردو کے علاوہ تمام بڑی مقامی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
