سیلاب کے سبب جاں بحق افراد کی تعداد 1191 ہوگئی

ملک بھرمیں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے ، اوراب تک جاں بحق ہونے والے افرادکی تعداد1191 ہوگئی ہے جبکہ 10 لاکھ 57 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے، 7 لاکھ 35 ہزار مویشی بھی مارے گئے ہیں، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب میں ہرطرف پانی نے گھر گھر تباہی مچا دی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے،ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7لاکھ 30ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2ہزار328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا ایک ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔
دوسرے صوبوں کی بلوچستان کے ہر ضلع کو بھی شدید متاثر کیا ہے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں سیلابی پانی اپنے ساتھ پتھر اور مٹی کے ڈھیر بھی لے آیا، جس کی وجہ سے سڑکوں پر پتھر اور مٹی کی کئی فٹ موٹی تہہ جم گئی، علاقے میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے،کوئٹہ کے نواحی علاقے نواں کلی میں سیلابی ریلوں نے کئی خاندانوں کو بے سرو ساماں کر دیا، حکومتی امداد کے منتظر متاثرین مخیر حضرات کی جانب سے دو وقت کی روٹی ملنے پر اپنی بھوک مٹانے پر مجبور ہیں۔
وزیرخارجہ کاغیرملکی سفارتکاروں کیساتھ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ
بالاکوٹ کی وادی منور میں آنے والے سیلاب کے 6 روز گزرنے کے بعد بھی علاقہ مکین گھروں میں محصور ہیں، راشن بھی ختم ہو چکا ہے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی ہدایت پر معاون خصوصی احمد شاہ دیگر افسران نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے منور پہنچےاور30 کروڑ فنڈ دینے کا اعلان کیا ہے،سوات کےعلاقے بحرین میں بھی حالیہ سیلاب نے تباہی پھیلا دی ہے، متعدد گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، بحرین بازار کے قریب درجنوں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
صوبہ سندھ میں ہر طرف تباہی سے گوٹھ بچے نہ گھر، سڑکیں بھی کھنڈر بن گئیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 405 تک پہنچ گئی، جن میں 160 بچے بھی شامل ہیں، 35 لاکھ 19 ہزار ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں برباد ہونے کے ساتھ ساتھ ، مواصلاتی نظام ناکارہ ہوگیا جبکہ ریلوے ٹریک بھی مکمل بند ہیں، صوبے میں غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے۔
ڈپٹی کمشنر دادو سید مرتضیٰ علی نے بتایا کہ ضلع میں 12 لاکھ افراد متاثر اور بے گھر ہوئے ہیں، خیرپور ناتھن شاہ اور تعلقہ جوہی میں مین نارا ویلی نہر میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے جو دادو شہر سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے،خدشہ ہے کہ اگر ایم این وی نہر میں پانی کی سطح بڑھتی رہی تو دادو شہر شدید متاثر ہو گا، دادو سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی پیر مجیب الحق نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ شہر کو سیلاب کے خطرے کا سامنا ہے اور سیلابی پانی کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مشینری لگا دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں رواں سال اگست تک کی سہ ماہی میں کل 390.7 ملی میٹر (15.38 انچ) یا 30 سالہ اوسط سے تقریباً 190 فیصد زیادہ بارش ہوئی ہے، اس سے سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 30 سال کی اوسط سے 466 فیصد زیادہ بارش ہوئی، شمالی پہاڑوں سے آنے والا سیلاب گھروں، کاروباروں، بنیادی ڈھانچے اور فصلوں کو بہا لے گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ 3 کروڑ 30 لاکھ افراد، یا 22 کروڑ نفوس کی قوم کا 15 فیصد متاثر ہوا ہے، اس وقت ملک کے شمال میں موجود چوٹیوں اور جنوبی میدانی علاقوں تک بہنے والے دریائے سندھ میں پانی کی بھاری مقدار موجود ہے۔
صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں 27 سالہ دیہاتی فیاض علی اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن سیلابی پانی میں گھرے اپنے چھوٹے سے گھر کو بچانے کی امید کم ہے، بہت سے دیہاتیوں کی طرح فیاض علی نے کہا کہ انہیں ابھی تک کوئی مدد موصول نہیں ہوئی جبکہ گھر بھی کسی وقت گرنے والا ہے اور ڈوب گیا ہے۔
دریائے سندھ کے دونوں جانب زمین کے بڑے حصے زیر آب ہیں، کھیتوں کے اوپر بنی ہوئی مرکزی سڑکیں پناہ گاہ بن چکی ہیں جہاں لوگ اپنے سامان کی گٹھریاں لے کر پلاسٹک کے نیچے دھوپ اور بارش سے پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے مویشی بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔
ادھر ضلع چار سدہ میں سیلاب سے 2 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 160 مکانات اور 11 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق چارسدہ میں سیلاب سے متعلقہ واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور 180 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی طرح 120 سے زائد آبی نہریں تباہ اور 800 سے زائد مویشی بہہ گئے، سیلاب نے منڈا ہیڈ ورکس کو بھی متاثر کیا اور باغات اور مویشیوں کے شعبوں کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔
سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 17 مختلف مقامات پر بڑے میڈیکل کیمپ قائم کر کے امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ مزید امداد پہنچ رہی ہے۔
