پاکستان میں آٹا غریب کی پہنچ سے باہر کیوں ہو گیا؟

ملک بھر میں آٹے کی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تندور مالکان نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے، چنانچہ غریب آٹے کے حصول کیلئے دربدر پھر رہا ہے اور ایک وقت کی روٹی خریدنے سے بھی قاصر ہو گیا ہے، دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رواں ہفتے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے، تندور سے ایک روٹی 25 روپے سے کم کی نہیں مل رہی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہو جائے۔
ملک کے مختلف صوبوں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بھی یکساں نہیں۔ اگر مارکیٹ ریٹ کی بات کی جائے تو خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمت دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہے، وہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2600 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے، پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2450 سے 2500 روپے کے درمیان دستیاب ہے جبکہ صوبہ بلوچستان میں اس کی قیمت 2400 تک ہے، اسی طرح صوبہ سندھ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2500 سے 2600 کے درمیان دستیاب ہے۔
اسلام آباد کے رہائشی علاقے جی ٹین میں تندور چلانے والی تنویر عباس نے بتایا کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ بجلی، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، اس لیے روٹی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس حوالے سے مدعا صوبوں پر ڈال دیا ہے کہ یہ بحران فلور ملز ایسوسی ایشنز اور صوبائی حکومتوں کا پیدا کردہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت رواں برس مئی میں ایک اجلاس میں گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر اور صوبائی و قومی سطح پر کھپت جیسے معاملات زیر غور آئے تھے۔ اس اجلاس میں رواں برس گندم کی مجموعی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 29 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا جبکہ متوقع پیداوار دو کروڑ 26 لاکھ میٹرک ٹن تک ہو گی۔ گندم کی ملکی سطح پر مجموعی کھپت کا تخمینہ تین کروڑ میٹرک ٹن لگایا گیا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی حکومتی سطح پر خریداری کے حوالے سے پنجاب نے 91.66 فیصد، سندھ نے 49.68 فیصد، بلوچستان نے 15.29 فیصد جبکہ پاسکو نے 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے، مقامی ضرورت کے مقابلے میں گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے وفاقی کابینہ نے ملک میں 30 لاکھ گندم کی درآمد کی منظوری دی۔ لیکن اس کے باوجود ملک گندم کے شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ گذشتہ برس ملک میں دو کروڑ 28 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیداوار ہوئی تھی، تاہم یہ پیداوار بھی ملکی ضرورت سے کم تھی اس لیے پاکستان نے 20 لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی تھی۔
چیئرمین آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ حکومت 2300 روپے فی من آٹا دے رہی ہے۔ 20 کلو آٹا 1295 روہے کا مل رہا ہے۔ ان کے مطابق آج سے صرف دو ہفتے پہلے گندم فی من 3300 روپے میں مل رہی تھی اور لیکن اب یہ نرخ 4350 تک پہنچ چکا ہے، چیئرمین فلور ملز اسوسی ایشن سندھ چوہدری یوسف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس گندم کا وافر سٹاک موجود ہے، اگر وہ گندم ایشو کر دے تو آٹے کی قیمت 50 روپے فی کلو کم ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حمزہ شہباز نے بطور وزیر اعلی ستمبر میں ایشو کی جانے والی گندم مئی میں ایشو کر دی تھی۔ اس طرح سٹاک اور سبسڈی ضائع کی گئی جس کا خمیازہ آج ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے، دوسری جانب وفاق نے ہمیں باندھ دیا ہے، یا تو ہمیں گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دیں، یا پھر خود ایشو کر دیں کیونکہ غریب آدمی اس وقت بددعائیں دے رہا ہے ادھر وفاقی وزیرِ برائے فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ کا۔کہنا یے کہ کہ وفاق نے تو گندم درآمد کی ہے۔ اب ہم فلور ملز ایسوسی ایشنز کی منتیں کر رہے ہیں کہ وہ قیمتوں میں کمی لائیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فلور ملز ایسوسی ایشنز کو گندم صوبوں نے دینی ہوتی ہے، وفاق نے نہیں، گندم صوبائی معاملہ ہے، اس لیے وفاق کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، انکا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں جہاں سے گندم کا بحران پیدا کیا جا رہا ہے۔ گندم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر گندم کی بلند قیمت اور روپے کی کم قیمت برقرار رہی تو درآمدی گندم پاکستانیوں کے لیے آٹے کی قیمت کو مزید بڑھا دے گی، جو ملک میں پہلے سے موجود مہنگائی کی بلند سطح کو اوپر کی جانب دھکیل دے گی۔
