مریم کوچیف آرگنائزر بنانے پر سینئر لیڈرز ناراض کیوں؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے اپنی بیٹی مریم نواز کو نون لیگ کا سینئر نائب صدر اور پارٹی کا چیف آرگنائزر مقرر کیے جانے پر پارٹی کے دوسرے درجے کی سینئیر قیادت میں بے چینی اور ناراضی کی اطلاع ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ناراض نون لیگی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس اہم ترین تقرری کے حوالے سے پارٹی کے اندر کوئی مشاورت نہیں کی گئی حالانکہ اس تقرری سے مریم نواز پارٹی میں اپنے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف کے بعد تیسری طاقتور ترین شخصیت بن گئی ہیں۔ نون لیگ کے کئی سینئر رہنما اس تقرری سے نالاں ہیں لیکن کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار اس لیے نہیں کر رہے کہ انہیں چوہدری نثار علی خان کا انجام یاد ہے۔ یاد ہے کہ جب مریم نواز نے پارٹی میں متحرک ہونا شروع کیا تھا تو چودھری نثار علی خان نے انہیں کل کی بچی قرار دے کر ان پر تنقید کی تھی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نواز حکومت کی برطرفی اور نواز شریف کی گرفتاری کے بعد مریم نے کمال بہادری سے پارٹی کو سنبھالا اور ڈٹ کر عمران حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیا۔ اس دوران انہیں اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو جیل بھی بھیجا گیا لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں۔
نون لیگ کے صدر کی جانب سے جاری کیے جانے والے حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، مریم نواز باضابطہ طور پر پارٹی میں دوسری سینئر رہنما بن گئی ہیں، پہلے نمبر پر ان کے چچا اور پارٹی کے صدر شہباز شریف ہیں جو کہ وزیراعظم بھی ہیں۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے سال 2018 کے فیصلے کے مطابق، نواز شریف بطور رکن اسمبلی نااہل ہونے کے بعد نون لیگ میں کوئی عہدہ نہیں رکھ سکتے، تاہم وہ بدستور پارٹی کے قائد ہیں۔ ایک سینئر لیگی عہدیدار نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ کہ مریم نواز کو ایک ہی وقت میں پارٹی کے دو اہم ترین عہدے دینا غیر جمہوری ہے اور اس سے پارٹی میں شریف خاندان کی گرفت مضبوط ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان سے باہر پارٹی کے شاید ہی کسی سینئر رہنما سے اس تقرری کے حوالے سے مشورہ کیا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے سینئر ترین رہنما بشمول خواجہ آصف، تنویر حسین، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، اور راجہ ظفر الحق، سبھی مریم نواز کے ماتحت ہو گے ہیں اور وہ ان کی سینئر بن گئی ہیں۔ اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی پارٹی کے سینئر نائب صدر تھے اور مریم سمیت درجن بھر نائب صدور تھے۔
نون لیگ کے ایک اور سینئر عہدیدار نے انصار عباسی کے ساتھ گفتگو میں افسوس کا اظہار کیا کہ شریف خاندان کے افراد حکومت اور پارٹی میں تمام اہم ترین عہدوں پر قابض ہو گئے ہیں جس سے فیصلہ سازی ایک خاندان تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر موصوف نے کہا کہ نون لیگ کے سپریم لیڈر نواز شریف ہیں اور ان کے بھائی نون لیگ کے صدر اور وزیراعظم بھی ہیں۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پارٹی کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر ہیں۔ شہباز شریف کے بڑے صاحبزادے حمزہ شہباز پنجاب میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔
انصار عباسی کے بقول پارٹی میں کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق اور ملک احمد خان پنجاب میں وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے موزوں ترین امیدوار تھے لیکن شریف فیملی نے اپنے ہی بیٹے کے حق میں فیصلہ کیا۔ تاہم، حمزہ شہباز بمشکل چند ماہ کیلئے عہدہ رکھ پائے اور اس دوران کوئی کارکردگی دکھانے میں بھی ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کے بعد حمزہ شہباز نے بھول کر بھی پنجاب اسمبلی کا رخ نہیں کیا اور بیرون ملک جا بیٹھے ہیں۔ پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے دونوں بیٹے سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے جبکہ شہباز کے چھوٹے صاحبزادے سلیمان شہباز خاندان کا کاروبار سنبھال رہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نواز شریف کے قریبی ساتھی ہیں اور اسی وجہ سے وہ پارٹی میں بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ بقول مفتاح اسماعیل انہیں بھی وزارت خزانہ سے اسی لیے ہٹایا گیا کہ نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار یہ وزارت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اسکے علاوہ ڈار نون لیگ کے اوور سیز چیپٹر کے صدر بھی ہیں۔
ناقدین کہتے ہیں کہ نواز شریف کے داماد اور مریم کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نون لیگ کی یوتھ ونگ کے صدر ہیں حالانکہ یہ عہدہ کسی نوجوان کے پاس ہونا چاہیئے۔ نون لیگ کے ایک اور رہنما کے مطابق، مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کو بھی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم چلانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی اراضی کیس میں نیب کا زلفی بخاری کو نوٹس
