FWO کرتار پور میں اربوں کا گھپلہ دبانے کے لیے کوشاں

فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یعنی ایف ڈبلیو او نے 17 ارب روپے کی مالیت سے تعمیر ہونے والے کرتارپور راہداری منصوبے کو گھپلوں کے الزامات کے بعد ہر طرح کے آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی احکامات پر اربوں روپوں مالیت کا یہ منصوبہ ایف ڈبلیو او کو بغیر ٹینڈر دیا گیا تھا جس کے بعد گھپلوں کے الزامات عائد ہوئے تھے۔ چنانچہ ایف ڈبلیو اواوروزیر اعظم کو احتساب سے بچانے کے لیے وفاقی کابینہ نے عمران خان کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کرتار پور منصوبے کو پاکستان پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس کی شرائط سے استثنیٰ دے دیا تھا تا کہ اس معاملے میں کسی بھی قانونی کاروائی سے بچا جا سکے۔ لیکن اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کو طلب کیا تھا تاکہ ان سے باز پرس کی جا سکے۔
21 دسمبر 2021 کو رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کرتار پور راہداری میں بے ضابطگیوں اور گھپلوں کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل کمال اظفر نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ قومی مفاد میں بنایا گیا تھا لہذا اسے ہر طرح کے آڈٹ سے استثنیٰ دیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 10 ماہ کی قلیل مدت میں تعمیر کیا گیا تھا اس لیے کم وقت میں بننے والے منصوبوں کو آڈٹ سے بھی استثنیٰ ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کرتار پور کو کوئی معمول کا پروجیکٹ نہ ہی اس پر وہ قوانین لاگو کیے جائیں جو باقی اداروں پر لاگو ہوتے ہیں۔
ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل کمال اظفر کے مطالبات سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کرتار پور منصوبے میں ہونے والے گھپلوں پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ چئیرمین کمیٹی رانا تنویر نے ڈی جی سے کہا کہ آپ تو فوج کے ادارے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ایک ایک روپے کا حساب رکھا جاتا ہے۔ آپ ہمیں وہ قانون بتا دیں جس کے تحت ایف ڈبلیو او کو تمام ملکی قوانین سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا مانا کہ کرتار پور ایک سپیشل منصوبہ تھا لیکن اسے آڈٹ سے استثنیٰ دینا درست نہیں خصوصا جب اربوں کے اس پروجیکٹ میں گھپلوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔ اس پر ڈی جی نے یہ انوکھی تجویز دی کہ اس کا حل یہ ہے کہ حکومت ایسے منصوبوں میں آڈٹ اور کاغذی کارروائی خود کر لے تاکہ وقت کا ضیاع نہ ہو۔
جب میجر جنرل کمال اظفر سے پوچھا گیا کہ انکے ادارے کو کرتارپور راہداری کی تعمیر کا پراجیکٹ بغیر ٹینڈر کیسے مل گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی بر وقت تعمیر مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنا کسی اور ادارے کے لئے ممکن نہیں تھا اس لیے حکومت نے ایف ڈبکیو او کو بغیر ٹینڈر یہ ٹھیکہ دیتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی شرائط کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا تھا۔ یاد رہے کہ ان شرائط کے مطابق کوئی بھی ٹھیکہ دینے کے لئے شفافیت کو یقینی بنانا اور اس کام کے لئے اشتہار دے کر دلچسپی لینے والی تمام کمپنیوں کو برابر کے مواقع دینا ضروری ہے۔
کرتار پور منصوبے پر کم و بیش 17 ارب روپے کی لاگت آئی تھی مگر لاگت کی اصل رقم کا کسی کو علم نہیں۔ حیرت انگیز طور پر چونکہ اس معاملے پر سرکاری سطح پر کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی اور ایف ڈبلیو او کو ٹھیکہ بھی وزیراعظم عمران خان کے خصوصی احکامات پر ملا تھا اس لئے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور قومی احتساب بیورو اس پر ایکشن لے سکتے تھے، لہازا قانون کے شکنجے سے بچنے کے لئے وزیراعظم نے اپنی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے کو آڈٹ اور انکوائری سے استثنیٰ دے دیا تھا جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایف ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل کو طلب کیا تھا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران جے یو آئی ایف کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر نے اوٹ سے استثنیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’16 ارب 54 کروڑ روپے لاگت کے مہنگے ترین منصوبے کا آڈٹ ضرور ہونا چاہیے ورنہ یہ مثال بن جائے گی کہ ایف ڈبلیو او کے تعمیر کردہ منصوبوں کا آڈٹ نہ ہو۔‘ ان ریمارکس پر وزارت دفاع کے حکام نے جواب دیا کہ ’پبلک اکاؤنٹس کے اراکین کسی بھی وقت کرتار پور کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں ہر تکنیکی جواب دیا جائے گا۔‘
اس موقع پر سیکرٹری دفاع ہلال حسین نے کہا کہ ’بھارت کرتار پور منصوبے کو ناکام کرنا چاہتا تھا لہذا ہم نے اسے جلد از جلد تعمیر کرنا تھا لہذا اسکو آڈٹ سے استثنا دیا جانا چاہیے۔
تاہم اس موقع پر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن پی اے سی نور عالم خان نے ایف ڈبلیو او کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایف ڈبلیو او کا کام تو فوج کے مفادات کا خیال رکھنا ہے۔ آپ لوگ فوجی ڈومین سے باہر والے منصوبوں پر کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں؟‘ نور عالم خان نے کہا کہ اگر قومی مفاد کی بات کرنی ہے تو پھر یہ بتایا جائے کہ ایف ڈبلیو او نےگوادر میں جو سڑکیں بنائی ہیں وہ اس قدر ناقص کیوں ہیں۔ اسکے علاوہ قراقرم ہائی وے کا حال آپ کے سامنے ہے۔ میں نے کبھی ایم ون اور ایم ٹو پر کھڈا نہیں دیکھا تھا۔ اب دونوں موٹرویز پر کھڈے بنے ہیں، یہ سارا پیسہ جس سے ایف ڈبلیو او سڑکیں تعمیر کرتا ہے، عوام کا پیسہ ہے اور ہم نے ایک ایک پیسے کا حساب لینا ہے چاہے وہ کسی بھی ادارے نے خرچا ہو۔ ویسے بھی قومی مفاد یہی ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے۔
خیال رہے کہ اس منصوبے کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے دی تھی اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی شامل تھی لہذا کسی قانون اور ضابطے کی پاسداری کئے بغیر اس کی تعمیر کے ٹھیکے دیئے گئے۔ نومبر 2019 میں کھلنے والی کرتار پور راہداری کا منصوبہ ن لیگ کے دور میں 2015 میں تجویز کیا گیا تھا تاہم تب اسٹیبشلمنٹ نے اسے ملکی سلامتی کے منافی قرار دے کر حکومت کو پیشرفت سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں 18 اگست 2018 کو جب بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف قمر باجوہ کو جادو کی جپھی ڈالی تو اس متروک منصوبے کو وسیع تر قومی مفاد میں شروع کرنے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ قواعد وضوابط کے برخلاف اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے۔ لیکن اب ان اربوں روپے کا حساب دینے کے لیے نہ تو حکومت تیار ہے اور نہ ہی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن۔
