حکومت خطرے میں پڑنےکے بعدگنڈاپورنے اپنے کھلاڑی بدل دیئے

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو ہدف تنقیدبنانے کے بعد علی امین گنڈاپور کا اقتدار خطرے میں ہے، گنڈاپور نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے کابینہ میں موجود اپنے کھلاڑیوں کو بدل دیا ہے۔ گنڈاپور کی کابینہ سے دو وزراء کے استعفوں کے بعد خیبرپختونخوا میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کابینہ سے دو وزراء کے استعفے اور بعض وزراء کے قلمدانوں میں اچانک تبدیلی نے سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ مختلف وزراء کے قلمدانوں کی تبدیلی اور بعض کابینہ اراکین کی چھٹی کے بعد پہلے سے انتشار کا شکار پی ٹی آئی قیادت میں اختلافات کی خلیج مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
خیال رہے کہ 30ستمر کی رات پی ٹی آئی کے دو تگڑے وزراء عاقب اللہ اور فیصل ترکئی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔ دونوں وزراء کے اچانک سامنے آنے والے استعفوں نے صوبے میں سیاسی ہلچل مچا دی تھی، ابھی استعفوں کی وجہ سے سامنے آنے والا طوفان تھما نہیں تھا کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے رات گئے مختلف کابینہ ارکان کے محکمےتبدیل کر دئیے ہیں جبکہ کئی کابینہ ممبران کو وارننگ بھی دے دی ہے۔ گنڈاپور نے 8 کابینہ ممبران کے قلمدان تبدیل 2 نئے معاونین خصوصی کو صوبائی حکومت میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق خلیق الرحمنٰ سے محکمہ ایکسائز کا قلمدان واپس لےکر انہیں محکمہ صحت کا قلمدان دے دیا گیا، احتشام خان سے محکمہ صحت لے کر انہیں محکمہ ایکسائز کا مشیر بنا دیا گیا جبکہ ارباب عاصم کو محکمہ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ صوبائی وزیر فضل شکور کو محکمہ لیبر کی جگہ سیاحت، صوبائی مشیر زاہد چن زیب سے محکمہ سیاحت کا قلم دان واپس لے کر انہیں محکمہ لیبر کی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔صوبائی وزیر پختون یار اور فخر جہان کے قلمدان تبدیل کردیے گئے، پختون یار کو محکمہ کھیل اور فخر جہان کو پبلک ہیلتھ دے دیا گیا۔ باجوڑ سے ایم پی اے حمید الرحمن کو بطور معاون خصوصی مقرر کابینہ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ امجد علی کو معاون خصوصی سے وزیر برائے ہاؤسنگ بنا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 30 ستمبر کو خیبر پختونخوا حکومت کے 2 وزرا عاقب اللہ خان اور فیصل ترکئی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے، دونوں وزرا پر علی امین گنڈا پور کے خلاف سازش کا الزام تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے دونوں وزرا کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے شکایت کی تھی، جس کے بعد انھیں وزارتیں چھوڑنے کا پیغام دیا گیا تھا جس پر انہوں نے اپنے استعفے پیش کر دیے تھے۔
ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ میں اتنے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ سے لگتا ہے کہ گنڈاپور سرکار خطرے میں ہے اور وہ خود کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ مبصرین کے بقول وزراء کے استعفے اور قلمدانوں کی بار بار تبدیلی اس بات کا ثبوت ہیں کہ گنڈاپور حکومت داخلی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مبصرین کے مطابق اس عمل نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ آزما رہے ہیں، مگر یہ اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں، استحکام نہیں۔
کچھ مبصرین کا مؤقف ہے کہ گنڈاپور کی جانب سے اپنی کابینہ میں بار بار کی یہ تبدیلیاں ان کی کمزور گرفت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ اپنی ہی کابینہ پر اعتماد نہیں کر پا رہے تو عوام اور اداروں کا اعتماد کیسے حاصل کریں گے؟ دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اکھاڑ پچھاڑ پی ٹی آئی کے اندرونی دھڑوں کو متوازن کرنے کی کوشش ہے تاکہ مختلف گروپس کو مطمئن کر کے حکومت کو سہارا دیا جا سکے۔ تاہم سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ کابینہ میں رد و بدل گنڈاپور حکومت کو مستحکم کرے گا یا اندرونی اختلافات کو مزید بھڑکائے گا۔ مجموعی طور پر مبصرین اس نتیجے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اس وقت خیبرپختونخوا حکومت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں معمولی فیصلہ بھی اقتدار کو بچا یا گرا سکتا ہے۔
