سابق ڈی جی ISI جنرل فیض حمید قبضہ گروپ کے سرغنہ نکلے

پاک فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے متنازع ترین سربراہ جنرل فیض حمید کی سیاہ کاریاں سامنے آنے کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک درخواست میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے زمینوں پر قبضہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے

یاد رہے کہ 8نومبر کی صبح سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) فیض حمید کے خلاف زمین قبضہ کیس میں سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ان چیمبر سماعت اور عدالتی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ رولز 1980 کے مطابق رجسٹرار آفس کی جانب سے کسی درخواست پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے خلاف صرف چیمبر اپیل کا تصور موجود ہے۔آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ زاہدہ جاوید اسلم کی درخواست پر متعلقہ عدالت پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے؛ جبکہ کنور معیز احمد خان ریٹائر فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع اور متعلقہ فورمز پر درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔ فیصلے کے بعد   سپریم کورٹ نے زمین پر قبضے کے الزام میں فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس میں دائر درخواست نمٹا دی۔

عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر ریٹائرڈ فریقین کے خلاف تین فورمز ہیں اور درخواست گزار چاہے تو وزارت دفاع، سول یا کرمنل کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے اس لیے سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواستیں نمٹاتی ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کے خلاف کارروائی کے لیے اسکا اپنا ادارہ بھی موجود ہے، اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ریٹائرڈ افسر کو دوبارہ نوکری پر بحال کرکے اسکا کورٹ مارشل بھی ہوسکتا ہے۔عدالتی حکمنامے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ریٹائرڈ فوجی افسر کے خلاف کارروائی کے لیے وزارت دفاع، عام فوجداری یا دیوانی عدالت بھی موجود ہے۔

دوران سماعت، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں، کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے۔درخواست گزار نے بتایا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں کل ہی کال آئی تھی اس لیے کیس میں التوا دیا جائے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے لہٰذا آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے۔

جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف درخواست پر وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو وکیل درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 12 مئی 2017کو جنرل(ر) فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔  معیز احمد خان اور ان کے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا۔ اس غیر قانونی چھاپے میں ان کے گھر سے قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرلیا گیا۔ درخواست گزار نے جنرل (ر) فیض حمید اور ان کے بھائی کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کردی۔اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،  وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے۔وکیل معیز احمد نے بتایا کہ زاہدہ کا انتقال ہوچکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کریں گے۔

دوبارہ سماعت کے آغاز پرچیف جسٹس پاکستان نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں ، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا، زاہدہ جاوید اسلم کی درخواست پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے فریقین کو 6اور 15 نومبر2018 کو چیمبر میں طلب کیا اور کیس چلایا۔اس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ جبکہ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا۔اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی، سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں، اورجو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے نام پر ایچ ار سیل کیسے کوئی خط لکھ سکتا ہے؟ اور زاہدہ جاوید اور کنور معید کی درخواستیں 184(3) کے تحت کیسے آتی ہیں؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ کنور معیز کی درخواست 184(3) کے زمرے میں اتی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اس موقع پر ریمارکس دیے’ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے، کیس کے حقائق میں نہ جائیں۔ میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے۔ ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے‘۔جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

واضح رہے کہ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف درخواست گزار معیز احمد خان نے، جو ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو افیسر ہیں، اپنی درخواست میں جنرل (ر) فیض حمید کے علاوہ  حساس ادارے کے دو اعلیٰ افسران سمیت 100 نامعلوم افراد کو فریق بنایا ہے۔درخواست میں جنرل (ر) فیض حمید پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے  قیمتی سامان اور سوسائٹی کے ریکارڈ سے متعلقہ دستاویزات واپس کرنے سے انکار کردیا۔  بعدازاں کچھ دستاویزات حساس ادارے کے مختلف پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی شرط پر واپس کردی گئیں۔ حساس ادارے کے دو اعلیٰ افسران  نے بذات خود 4 ٹویوٹا ریووز گاڑیاں اور آفس ریکارڈ واپس کیا۔درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا  کہ درخواست گزار سے نہ صرف جبراً4 کروڑ روپے  وصول کیے گیے بلکہ چند ماہ تک ’آپ ٹی وی نیٹ ورک‘ کو سپانسر کرنے پر بھی مجبور کیا گیا۔

PTI کو لیول پلئینگ فیلڈ دینے کیلئے صدر کا وزیراعظم کو خط

Back to top button