حکومت کا کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں تجارتی اور کاروباری تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے کمرشل کورٹس (تجارتی عدالتوں) کے قیام کی غرض سے قانون سازی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک 8 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو متعلقہ قانونی فریم ورک اور مسودۂ قانون تیار کرے گی۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ کمیٹی میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکریٹری قانون سمیت ممتاز قانونی ماہرین فیصل نقوی، علی المانی، زینب جنجوعہ اور ابراہیم آفریدی بھی شامل ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کمیٹی کا بنیادی مقصد ایسا قانونی ڈھانچہ تیار کرنا ہے جس کے ذریعے کاروباری اور تجارتی معاملات سے متعلق مقدمات کو تیزی سے نمٹایا جا سکے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
کمیٹی ملک میں کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے بین الاقوامی ماڈلز اور بہترین قانونی روایات کا جائزہ لے گی اور اس حوالے سے جامع سفارشات مرتب کرے گی۔ مجوزہ عدالتیں تجارتی معاہدوں، سرمایہ کاری کے تنازعات، کارپوریٹ معاملات اور دیگر کاروباری مقدمات کی فوری سماعت اور فیصلوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی 45 روز کے اندر اپنی سفارشات اور قانون سازی کا مسودہ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں حکومت پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی متعارف کرا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمرشل کورٹس کے قیام سے نہ صرف عدالتی نظام پر بوجھ کم ہوگا بلکہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی تنازعات کے فوری حل کی بہتر سہولت میسر آئے گی، جس سے ملک میں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
