روزانہ پٹرول کی قیمت مقرر کرنے کا حکومتی فیصلہ مسترد

وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر پندرہ روز بعد مقرر کرنے کے موجودہ نظام کو ختم کرتے ہوئے اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے کے فیصلے کو عوام اور پیٹرول پمپ مالکان دونوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہر پندرہ روز بعد پیٹرول مہنگا کر کے انہیں شدید معاشی جھٹکا دیتی تھی، اب یہی جھٹکا روزانہ کی بنیاد پر دینے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس سے عام آدمی کے لیے اپنے روزمرہ کے اخراجات کا حساب رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے بھی اس مجوزہ نظام کو کاروبار کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے تحفظات دور کیے بغیر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا تو وہ احتجاج سمیت مختلف آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے ڈیلی پرائسنگ میکانزم کے اعلان کے بعد مختلف شہروں میں شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے کم از کم پندرہ روز تک پیٹرول کی قیمت معلوم ہوتی تھی اور لوگ اپنے سفری اور گھریلو اخراجات کی منصوبہ بندی کر لیتے تھے، مگر اب اگر قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو ہر صبح ایک نئی قیمت سامنے آئے گی، جس سے مہنگائی کا نفسیاتی دباؤ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی کم کرنے کے بجائے قیمتوں میں اضافے کو روزمرہ معمول بنانے جا رہی ہے۔

عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہونے کا اثر روزانہ عوام تک منتقل کیا جائے گا تو پھر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آنے پر بھی اسی رفتار سے عوام کو فوری ریلیف دیا جانا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ماضی میں اکثر عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود اس کا مکمل فائدہ پاکستانی صارفین تک منتقل نہیں کیا گیا، اس لیے حکومت کے نئے نظام پر عوام کا اعتماد بھی محدود دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب پیٹرول پمپ مالکان نے بھی حکومت کے مجوزہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل سے ان کے لیے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے مطابق موجودہ نظام میں خریدے گئے اسٹاک کی قیمت اگلے ہی روز تبدیل ہونے کی صورت میں لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ روزانہ حساب کتاب، کمپیوٹرائزڈ نظام میں تبدیلی، انوینٹری مینجمنٹ اور مالی منصوبہ بندی بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گی۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس اہم فیصلے سے قبل نہ تو پیٹرول پمپ مالکان کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے باقاعدہ مشاورت کی۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے یکطرفہ طور پر ڈیلی پرائسنگ میکانزم نافذ کیا تو اس سے کاروباری بے یقینی میں اضافہ ہوگا اور ملک بھر میں ہزاروں پیٹرول پمپ متاثر ہوں گے۔ پیٹرول پمپ مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔

ادھر وفاقی حکومت نے ہر پندرہ روز بعد قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے ڈیلی پرائسنگ میکانزم نافذ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں منتقل کی جا سکیں گی، جبکہ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری جیسے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اب روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، اسی لیے حکومت نے قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں خاص طور پر ڈیزل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسلسل عالمی مارکیٹ کی نگرانی کر رہی ہے اور عوام کو ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے حتی الامکان گریز کیا ہے اور ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں گی تو نئے نظام کے تحت اس کا فائدہ بھی فوری طور پر صارفین تک منتقل کیا جا سکے گا۔

اس معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختلف ممالک سے بروقت تیل کے کارگو منگوا کر ملکی ضروریات پوری کیں، جس کی وجہ سے توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے سخت نگرانی جاری رہے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ نظام میں عالمی منڈی میں معمولی تبدیلی بھی ہر پندرہ روز بعد ایک بڑے اضافے کی صورت میں عوام تک پہنچتی ہے، جبکہ نئے نظام کے تحت قیمتوں میں روزانہ معمولی ردوبدل ہوگا، جس سے اچانک بڑے اضافوں سے بچا جا سکے گا اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلی پرائسنگ میکانزم کے تحت ہر روز سنگاپور پلیٹس انڈیکس، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، ٹرانسپورٹیشن اخراجات، پیٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس اور دیگر حکومتی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے اوگرا خودکار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے نئی قیمتوں کا تعین کرے گی، جبکہ نئے نرخ ہر رات بارہ بجے سے نافذ العمل ہوں گے۔

ادھر توانائی ماہرین کی رائے اس معاملے پر منقسم ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق روزانہ قیمتوں کا نظام عالمی منڈی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو نرم انداز میں عوام تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ چند دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شفاف نگرانی، مضبوط ڈیجیٹل نظام اور مؤثر گورننس نہ ہوئی تو یہ نظام عوام اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے نئی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

Back to top button