حکومتی نااہلی، پنجاب میں گندم اور آٹے کے بحران کا خطرہ

مریم نواز کی زیرِ قیادت پنجاب حکومت کی نااہلی، ناقص پالیسیوں اور بدانتظامی کی وجہ سے ایک بار پھر پنجاب میں گندم اور آٹے کے بحران نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے صوبے میں آنے والے چند ماہ میں آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، ذرائع کے مطابق صوبے کو آئندہ سات ماہ کے لیے 42 لاکھ ٹن گندم درکار ہے جبکہ حکومت کے پاس دستیاب ذخائر صرف 29 لاکھ ٹن ہیں۔ یوں پنجاب کو اس وقت کم از کم 14 لاکھ ٹن شارٹ فال کا سامنا ہے۔ اس قلت کے باعث آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہو چکا ہے

ناقدین کے مطابق گندم کے ذخائر کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار حکومت کی کارکردگی کا پول کھولنے کے لیے کافی ہیں تاہم اب بھی حکام کی جانب سے کسی قسم کی منصوبہ بندی کے بجائے سارا زور دکھاوے کے بیانات پر لگایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وسیع ذخائر کی دعویدار پنجاب حکومت وقت پر گندم خریدنے سے انکاری رہی اورحکومت نے اوپن مارکیٹ میں گندم بیچنے پر مجبور کر کے کسانوں کو بالکل رول دیا اور اب جب ذخائر کم پڑ گئے ہیں تو مصنوعی وارننگز اور کارروائیوں کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا بحران حکومت کی اپنی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، جس کا خمیازہ عوام کو مہنگے آٹے کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومت نے اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور یہی روش جاری رہی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتیں غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کو بھی خواب بنا دیں گی۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ حکومتی نااہلی کی وجہی سے عوام کو روٹی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے، بلکہ ہر سال کی طرح اس بار بھی حکومت کی غفلت نے عام آدمی کو مہنگائی کے شکنجے میں کس دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ مریم نواز حکومت کب تک اپنی نااہلی کا بوجھ کبھی کسانوں اور کبھی ذخیرہ اندوزوں پر ڈالتی رہے گی؟ اور حکومتی نااہلی کا خمیازہ عوام بھگتتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ صوبے میں گندم کی شارٹیج کی خبر سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ذخیرہ اندوزوں کو تین دن کی مہلت دے کر وارننگ دی ہے کہ اگر گندم ڈکلیئر نہ کی گئی تو سخت کارروائی ہوگی۔ ناقدین کے مطابق مریم نواز کی وارننگ ایک سیاسی دکھاوے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت وقت پر گندم خریدتی اور کسانوں کو بہتر نرخ دیتی تو آج یہ بحران پیدا ہی نہ ہوتا۔ گندم کی خریداری کے موسم میں حکومت نے اوپن مارکیٹ پر انحصار کیا اور کسان کو رُلنے دیا۔ اب جب ذخائر کم ہو گئے ہیں اور قیمتیں بڑھنے لگی ہیں تو حکومت اچانک حرکت میں آئی ہے۔ یہ طرزِعمل محض غفلت اور بدنظمی کا مظہر ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ اصل مسئلہ ذخیرہ اندوز ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کے پاس ڈیٹا موجود تھا تو وقت پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے پہلے گندم کی خریداری سے منہ موڑا اور اب اپنی نااہلی کا ملبہ کبھی کسانوں پر اور کبھی ذخیرہ اندوزوں پر ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب کسان پنجاب میں گندم کے بحران کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ کسانوں کے مطابق حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت صوبے کو گندم کی قلت کا سامنا ہے کیونکہ جب گندم کی کٹائی ہوئی تو حکومت نے خریداری سے ہاتھ کھینچ لیا۔ کسانوں کو مجبوراً سستے داموں اوپن مارکیٹ میں گندم بیچنی پڑی یا پھر ذخیرہ کرنا پڑا۔ اب جب قیمت کچھ بہتر ہو رہی ہے تو حکومت کہہ رہی ہے کہ سب کچھ مارکیٹ میں لے آؤ۔ پہلے ہمیں نقصان پہنچایا، اب دوبارہ ہم پر تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسانوں نے مہینوں گندم روک کر رکھی تاکہ نقصان کچھ کم ہو۔ تاہم اب حکومت ہمیں ذخیرہ اندوز قرار دے کر دھمکیاں دے رہی ہے حکومتی رویہ کسانوں کو دیوالیہ کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی ذخیرہ اندوز اور مافیا خود حکومت ہے اگر وہ وقت پر گندم کی خریداری کرتی تو صوبے کو کبھی بھی اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

ناقدین کے بقول اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہو رہا ہے۔ آٹا جو غریب کی روزمرہ خوراک کا جزو لازم ہے،اس لئے گندم کا کوئی بھی بحران عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کو بھی مشکل بنا دے گا اگر حکومت کی یہ بدنظمی جاری رہی تو آنے والے دنوں میں پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں غذائی عدم تحفظ شدت اختیار کر جائے گا۔ پنجاب کا موجودہ گندم بحران کسی آسمانی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومتی نااہلی اور پالیسیوں کی ناکامی کا شاخسانہ ہے۔ وقت پر خریداری نہ کرنا، کسانوں کو بہتر نرخ نہ دینا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کی وجہی سے آج پنجاب کو گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کے لیے بہتر یہی ہے کہ سیاسی دعوؤں اور دکھاوے کے بجائے عملی اقدامات کرے، تاہم اگر یہی طرزِ حکمرانی جاری رہی تو آنے والے دنوں میں پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں غذائی عدم تحفظ ایک خوفناک حقیقت بن کر سامنے آسکتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق صوبے میں گندم کی قلت کی وجہ سے پنجاب میں آٹے کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے تاہم اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جائیں گے۔ پنجاب میں چونکہ گندم کی طلب سب سے زیادہ ہے، اس لیے یہاں کی کمی ملک بھر میں غذائی عدم تحفظ کو مزید سنگین بناسکتی ہے۔ موجودہ حالات میں کسان اور حکومت دونوں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ حکومت کے نزدیک کسان ذخیرہ اندوزی کر کے بحران بڑھا رہے ہیں جبکہ کسانوں کے نزدیک حکومت کی ناقص حکمتِ عملی اور تاخیر نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں گندم کے بحران کے شدت اختیار کرنے کی صورت میں عام شہری ایک بار پھر مہنگے آٹے کے بوجھ تلے دب سکتا ہے۔

Back to top button